Home / Socio-political / مدہوش گدھ

مدہوش گدھ

مدہوش گدھ
سمیع اللہ ملک گدھ ہیں یہ سب۔ گدھوں کا راج ہے یہاں۔مردار خورگدھ……….چلتی پھرتی لاشوں کو نوچنے والے گدھ۔ گدھ تو پھر لاشوں کو نوچتا ہے،یہ ایسے سفاک ہیں جو زندہ انسانوں کو پہلے چلتی پھرتی لاشوں میں بدلتے ہیں پھر انہیں نوچنے لگتے ہیں ۔یہ ہے سماج؟ کیا سماج ہے یہ! ہر بونے کااستحقاق مجروح ہوجاتا ہے یہاں۔ اور عوام……….! وہ کب ہیں انسان ……….جی رہے ہیں کب……….! بس سانس آجارہی ہے۔اس ظالم اور مدقوق نظام ہی نے جیتے جاگتے انسانوں کو مدقوق کردیا ہے۔خون تھوک رہے ہیں وہ۔ چلتے پھرتے انسانوں کا قبرستان۔آئین، آئین کا راگ، تاراج ،تاراج کا کھیل……….اور اس پر رقص کرتے ہوئے مدہوش گدھ۔ ملکی خزانے کوشیرمادرسمجھ کرہڑپ کیاجارہاہے اور بھوک سے نڈھال غریب عوام کے ڈھانچے فریادبنے آسمان کوتک رہے ہیں۔
بس یہی سنتا ہوں اللہ خیر کرے کوئی خیر کی خبر نہیں ہے۔ اور خدا بھی تو کہتا ہے تم اپنی مدد کرنے پر تُل جاؤ تب میں تمہاری مدد کو آؤں گا۔تم کچھ کر دکھاؤ پھر فرشتے میں اتار دوں گا مدد کو،نصرت کو۔ تم سر سے کفن باندھو، موت کو للکارو، تمہیں زندگی میں دوں گا، ایسی زندگی کہ پھر تمہیں کوئی مردہ نہیں کہے گا۔ ارے ایسی زندگی جو موت کو بھی فنا کے گھاٹ اتار دے گی۔تم مجھ پر بھروسہ کرو۔ پھر میںتمہارا حامی و ناصر بنوں گا۔پہلے تم آؤ اپنی مدد پر،پھر دیکھومیںتمہارے چاروںطرف اپنے فرشتے کھڑے کر کے تمہیں محفوظ کروں گا۔تم پہلے آگ میں کودو،ارے اس کو گلزار تو میں بناؤں گا۔کر کے تو دیکھو،اٹھ کر تو دیکھو۔ ۔ ۔ لیکن پہلے تم کچھ کر دکھاؤ۔
اورہم کیا کرتے ہیں؟ہم ٹی وی دیکھتے ہیں،آہیں بھرتے ہیں،بحث بحث کھیلتے ہیں، سیمینار سیمینار کرتے ہیں۔سہارا بننے کے بجائے ٹانگیں کھینچتے ہیں ایک دوسرے کی۔دوسرے کو دھکا دے کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔دوسرے مر جائیں بس ہم زندہ رہیں، بس ہم ۔’’میں ‘‘کا منحوس چکر۔کیا لوگ ہیں ہم بھی اسے سادگی نہیں عیاری کہتے ہیں۔اپنے پالن ہار سے بھی دھوکا،منافقت، جھوٹ اور ریا کاری۔ہم انتظار کرتے ہیں اپنے رب کا،وہ بھی نیم دلی سے۔اس کی مدد کا،بے یقینی کے ساتھ۔ہمیں اس پر بھروسا ہی نہیں ہے۔اور میرا رب کہتا ہے پہلے تم اترو میدانِ کا رزار میں، پھر دیکھو تماشا، اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھو۔ ۔ ۔ پھر دنیا دیکھے گی کیسے اترتے ہیں فرشتے قطار اندر قطار۔پھر سج جائے گا یہ میدان۔لیکن پہلے تم۔
ہر جگہ آگ اور خون کی بارش، ہر جگہ معصوم انسانوں کا قتل عام۔ذرا اس لہو کودیکھئے……….ایک رنگ کا ہے ناں کسی کا بھی ہو۔لہو کا رنگ ایک ہے۔لہوکارنگ یہ نہیںبتاتاکہ میںزردارہوںیانادار۔قصرسفیدکے فرعون کے ایک ہرکارے نے ڈرون حملوںکوعالمی قوانین کے عین مطابق بتایاہے تبھی توبڑی آزادی کے ساتھ جب اورجہاںچاہتے ہیں بارودکے گولے داغ دیئے جاتے ہیںجومعصوم بچوں،عورتوںاوربوڑھوںکے بھی پرخچے اڑادیتے ہیں۔
بارود کی منحوس بو سے اٹا ہوا ہمارا ہر شہر،ہر گاؤں۔خاک و خون میں نہائے ہوئے انسان۔سسکتی ہوئی انسانیت اور پھر اس پر منرل واٹر سیل بند بوتلوں والے،ٹھنڈے یخ کمروں میں واٹر بیڈ کے مزے لوٹنے والے، بڑی بڑی جہازی گاڑیوں میں سیر سپاٹا کرنے والے اور پھر مزید بلٹ پروف گاڑیاں منگانے والے۔انواع اقسام کے لذیذ کھانے اوراپنی بکواس کرنے کے ماہر ہمارے حکمران……….ان کا پیٹ جہنم کی آگ ہی بھر سکتی ہے۔انسان کے روپ میں چلتے پھرتے خوب صورت درندے،عوام کی بوٹیاں تکہ کباب کی طرح اڑا رہے ہیں۔خیر ہی خیر ہے۔سب ٹھیک ہے۔

کیوں ہو رہا ہے یہ سب کچھ؟ ہمارے ٹیکسوں سے مزے اڑا رہے ہیں۔یہ اتنے سارے لوگ کس مرض کی دوا ہیں!اویارو،ذرا سوچو،کیوں نہیں سوچتے تم۔چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔کیوں نہیں سوچتے!کان میں روئی ٹھونس کر بیٹھے رہو گے!شتر مرغ کی طرح گردن ریت میں کب تک دئیے رکھو گے!سوچو……….خدا کے لیے……….سوچو،کچھ کرو۔

سوداگروں نے فروخت کردیا،سب کچھ بیچ ڈالا ہے۔ہماری کوئی وقعت نہیں ہے۔ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔مردار ہیں ہم اور مردوں کی کوئی نہیں سنتا۔ کیوں نہیں اس کے محرکات معلوم کرتے۔ ۔ ۔ کیوں اس پر نہیں سوچتے ۔ ۔ ۔ اتنے سارے خود کش بمبار کہاں سے نازل ہوگئے……….کیسے؟بتائیے……….ان مبینہ خودکش بمباروں کا راستہ کیوں نہیں روکا جاتا؟اس لئے کہ جب یہ اپنے پیاروںکے وجودکے ٹکڑوںکوسمیٹتے ہیںتواسی وقت یہ عزم کرلیتے ہیںکہ ہم خودبھی اسی طرح ٹکڑے ہوکراس ساری دنیاکے پرخچے اڑادیںگے! انہیںاس بات سے مطلب نہیںکہ وہ بھی جواب میں ویساہی گھناؤناجرم کررہے ہیں۔یہ توبہت ہی بزدلانہ حرکت ہے کہ میلوںبلندی سے اپنی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنی بہادری کامظاہرہ کرکے سمجھتے ہیںکہ وہ دنیاپراپنارعب جماکردھاک بٹھادیںگے کہ صرف انہیںاس زمین پران داتاسمجھاجائے اورجوان بزدلوںسے محض اس لے ڈرجاتے ہیں توانہیںکیاآپ بہادرکہیںگے؟

ان کی بہادری کے قصے مظلوموںکی سرزمین پردیکھے جاسکتے ہیںکہ کس طرح دن رات ڈرے اورسہمے ہوئے ہیںاوران کی کوشش ہے کہ کسی طرح اب اپنی جانیں بچاکراس ملک سے نکلاجائے اورسازشوںکاسہارالیکرکوئی ایسانظام ترتیب دیاجائے جس سے ان کی برتری قائم رہے۔آخران غلامو ںکی فوج ظفرموج کس دن کام آئے گی جن کی برسوںسے پرورش کی جارہی ہے۔امریکی وائسرائے برائے پاکستان وافغانستان مارک گراسمین نیٹوسپلائی کامطالبہ لیکرپاکستان آیاتھالیکن عسکری قیادت کے پرزوردلائل کی بناء پروہ ایساکرنے میںفی الحال کامیاب نہ ہوسکا۔امریکی وائسرے کے پاکستان آنے کے واضح مقاصدتویہ تھے کہ کسی نہ کسی طورپرنیٹوسپلائی کوبحال کروایاجائے اورسلالہ کے واقعے پرمعافی نہ مانگنی پڑے،اس لئے کہ امریکی صدارتی انتخابات اس قدر قریب ہیںکہ اگرقصرسفیدنے اس واقعے پرمعافی مانگ لی تواسے خطرہ ہے کہ اس کی قوم آئندہ انتخابات میںمستردکردے گی لہندامعافی کے آپشن کویکسرمستردکردیاگیاہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ۲مئی کواوبامہ نے رات کے اندھیرے میں اچانک افغانستان پہنچ کرچغہ پوش مسخرے سے جو اسٹرٹیجک معاہدہ کیاہے اسے حتمی اورمؤثرشکل دینے کیلئے پاکستان کوئی چوںچراںکئے بغیران کی مددکرے لیکن کیاامریکایہ نہیںجانتاکہ اس غیرفطری معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں جو انہوںنے ایک کٹھ پتلی اورمفلوج حامدکرزئی سے کیاہے۔آج نہیںتوکل انہیںافغانستان کی صحیح حقدارقیادت ’’طالبان‘‘سے معاہدہ کرناپڑے گالیکن اس معاہدے کاایک ایک حرف شکست وہزیمت پرمبنی ہوگا۔

دراصل اوبامہ اپنے ووٹروںکویہ دکھاناچاہتے ہیںکہ ہم نے اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کرلی ہے جسے بھارت جیسے بڑے ملک کی بھی حمائت حاصل ہے۔اوبامہ نے انتخابات میںکامیابی حاصل کرنے کاڈھونگ رچانے کیلئے اسامہ کے قتل کے ڈرامہ کے بعدیہ تاثردیاہے کہ امریکاکوجوخطرات لاحق تھے وہ ختم ہوچکے ہیںحالانکہ افغانستان کی جوآج صورتحال ہے وہ بالکل مختلف اوروہ امریکاکے حق میںتوقطعاً نہیںکیونکہ طالبان نے ریڈزون میںداخل ہوکرجوبڑی کاروائیاںکی ہیںاس نے نیٹواوراس کے اتحادیوںکے ہوش اڑادیئے ہیں۔یہ کاروائیاں کابل، قندھار اور ہرات جیسے علاقوںمیںکی ہیںجہاںامریکیوںکے بڑے اڈے ہیںجواس نے اربوںڈالر سے تعمیرکئے ہیں۔طالبان نے امریکااوراس کے اتحادیوںکویہ پیغام دیاہے کہ وہ غیر ملکیوں کے تمام حصارکوتوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاورامریکااوراس کے اتحادی کہیںبھی محفوظ نہیںہیں۔امریکاسمجھ چکاہے کہ کہ وہ اب افغانستان میںاپنی علامتی فوج بھی نہیںرکھ سکتا،اگراس نے اپنی علامتی اورمختصرفوج بھی رکھنے کی کوشش کی تووہ بری طرح مارکھائے گا۔یہ بہت اہم پیغام ہے جوطالبان نے براہِ راست امریکاکو دیاہے اوراس صورتحال کودیکھ کرامریکااوراس کے اتحادی بدحواس ہوچکے ہیں۔ایک طرف الیکشن ہے تودوسری طرف افغانستان میںپے درپے شکست کاسامناہے۔
دوسری طرف بھارت کوبڑی بے چینی ہے اوروہ دوبارہ انہیںدوبڑے اخباری اداروںکے توسط سے اپناجال بڑی خوبصورتی اورمکاری سے پھیلارہاہے حالانکہ دبئی میںچندسال پہلے بھارت اورپاکستان کے انہیں دوبڑے اخباری اداروںکی کانفرنس میںایک پاکستانی ریٹائرڈفوجی سپہ سالار نے بھارت کوکہا تھا کہ’’ پرویزمشرف نے تمہیںاتنااچھاموقع دیاتھاجوتم نے گنوادیا۔پاکستان ہرباریہی کہتارہاکہ کشمیرکامسئلہ حل کئے بغیراس خطے میںامن ممکن نہیں اوراب جس دن افغانستان سے قابض فوجیںنکلیںگی تویہ تمام جہادی کشمیرکارخ کریں گے‘‘۔دنیاکی سپرطاقت کادعویٰ کرنے والی طاقت اپنے اتحادیوںسمیت ان کے سامنے نہ ٹھہرسکی توبھارت تنہاکیامقابلہ کرے گا۔بھارت میںتوپہلے ہی دودرجن سے زائدعلیحدگی کی تحریکیںچل رہی ہیں لیکن ہم کیاکررہے ہیں؟ہمارے وزیردفاع کی بزدلی کایہ عالمہے کہ وہ اپنی وفاداری کے اظہارکیلئے میڈیا میںبیان دے رہے ہیںکہ قصرسفیدکے فرعون کونیٹوسپلائی کی اجازت نہ دی گئی توعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی بناء پرپاکستان پرپابندیاںلگ سکتی ہیں۔
ان نادانوںکویہ سمجھ نہیںکہ پاکستان کاکرداراسی وقت اہم ہوسکتاہے جب ہمارے تعلقات فاتح افغانیوںکے ساتھ ہوںبصورت دیگرہماری کوئی اہمیت نہیں،کوئی کردارنہیںہوگا اورامریکاہمیںاسی طرح دھتکارتارہے گا۔جب تک طالبان امریکاکے ساتھ مذاکرات نہیںکرتے اوران مذاکرات میںہماراکوئی صحیح کردارنہ ہوتوہماری اہمیت نہ ہوگی اورہمیں اپنی اس اہمیت کوحاصل کرنے کیلئے طالبان کااعتمادحاصل کرناہوگاتاکہ ہم افغانستان سے قابض افواج کے نکلنے کاسبب بن سکیںاورن کوافغانستان سے نکلنے کاراستہ ہم اپنی شرائط پردکھائیںلیکن پاکستان کے اسی اہم اخباری اورالیکٹرانک ادارے پرامریکی غلام دانشوریہ خوف پھیلانے میںمصروف ہیںکہ طالبان آجائیںگے توسارانظام تتربترہوجائے گاجبکہ وقت اس بات کی گواہی دے گابالآخران غلاموںکواپنے آقاؤںکے ہاںبھی پناہ نہیںملے گی۔

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف

ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل پہ ہے

About admin

Check Also

جرمنی میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کو” حیدر طباطبائی ایوارڈ”سے نوازاگیا

جرمنی میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کو” حیدر طباطبائی ایوارڈ”سے نوازاگیا  فرینکفرٹ، جرمنی۔ ۱۵ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *