Home / Socio-political / ملالہ پر حملے کی مذمت نقارہ حق

ملالہ پر حملے کی مذمت نقارہ حق

ملالہ پر حملے کی مذمت نقارہ حق

ایک عرصہ کے بعد پاکستانی قوم نے کوئی ایسی بات یک زبان ہوکر کہی ہے جس کی تائید دنیا کے ہر خطے میں کی جا رہی ہے۔ یہ بات ملالہ یوسف زئی پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کی صورت میں کہی گئی ہے جس کی ساری دنیا نے نہ  تائید کی ہے بلکہ پاکستانی قوم کے شانہ بہ شانہ کھڑی  نظرآتی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے لوگوں نے اس بار ایسا کیا کہہ دیا ہے جو تمام لوگوں کو اس قدر پسند آیا۔ کیا پاکستان نے اپنا سر دنیا کے آگے جھکا دیا ہے یا پھر امریکہ کی نو سامراجی حکمت عملی کو یک زبان ہو کر تسلیم کر لیا ہے۔ غور سے دیکھا جا ئے تو بس اتنا ہوا ہے کہ ایک مظلوم لڑکی کے لئے پاکستان کے عوام نے یک زبان ہو کر ان طاقتوں کو برا کہا ہے جنہوں نے یہ گھناونی حر کت کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس سے قبل کسی بم دھماکے یا دہشت گردی کی کارروائی کی مذمت نہیں کی جاتی تھی۔ دہشت گردی کی ان کارروائیوں کی خوب مذمت کی جاتی تھی لیکن ایک لاحقہ یہ لگا دیا جاتا تھا کہ چونکہ ڈرون حملے بند نہیں ہو رہے ہیں لہذا لوگ مجبور ہو کر اس راہ پر چل پڑتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ یہ بیج امریکہ کا بویا ہوا ہے۔ یہ دونوں باتیں بجا ہیں کہ ڈرون حملے لوگوں میں مزید غم و غصے کا باعث بنتے ہیں اور یہ بھی کہ امریکہ اور روس کی سرد جنگ ہی در اصل اس خطے میں دہشت گردی کی بنیاد بنی لیکن کیا ایک جرم کے بدلے دوسرے جرم کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور اگر صورت حال یہ ہو کہ مجرم پر اپنا غصہ نکالا گیا ہے تو بات بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر معصوم اور بے قصور لوگوں پر حملے کیے جائیں تو کون اسے برحق قرار دے گا۔ در اصل یہی وہ تضآدات تھے جن کی وجہ سے پاکستان کے مذہبی طبقے اور باقی دنیا کے درمیان ایک فکری خلا پیدا ہو چلا تھا جسے بعض لوگ مغربی طاقتوں اور اپنے درمیان واقع فرق کا نام بھی دینے لگے تھے جو کسی حد تک درست اور کسی حد تک غلط سوچ ہے۔ دراصل ہم کوئی رائے قائم کرنے سے قبل اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہر جگہ انسان بستے ہیں اور مختلف فکر ، فلسفے اور عقیدے کے ساتھ بستے ہیں۔ مغرب میں بھی بہت سے لوگ ایسے مل جائیں گے جو امریکہ کی دادا گیری کو قطعاً پسند نہیں کرتے اور وقتاً فوقتاً اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔  اسی طرح ہمارے ملک میں بہت سے لوگ ہیں جو امریکی دراندازی تک کو جائز قرار دیتے ہیں  ایسے میں یہ مغرب اور مشرق کی بنیاد پر اس طرح کے بیانات اس شخص کو زیب نہیں دیتے جسے دعوی حق گوئی ہو۔  ہم خود بھی لاشعوری طور پر ان سوچوں کی نفی کرتے ہیں اسی لئے اپنے اسکولوں کے نصاب سے آئن اسٹائین  اور کارل مارکس کو مذہب کی بنیاد پر ہٹا نہیں دیتے بلکہ ان کی تعلیمات  سے استفادہ کرتے ہیں۔

                پاکستان کے عوام  ایک عرصے سے  طالبان کے ظلم کے خلاف  آواز بلند کرتے رہے ہیں لیکن وہ آواز کسی نہ کسی صورت میں دب کر رہ جاتی تھی لیکن اس بار ایک مظلوم بچی کے لئے جو آواز اٹھی ہے اسے نقارہ حق سمجھنا چاہئے کیونکہ اس آواز میں کہیں بھی “لیکن” اور “اگر” کے سابقے لاحقے نہیں لگے ہیں بلکہ ایک کھلا اعلان ہے کہ ہمیں امریکہ اور طالبان دونوں کی دہشت گردی منظور نہیں ہے اور ہم دونوں ہی سے نجات پانا چاہتے ہیں۔

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *