Home / Articles / نئی نسل اور فکرِ رضا کی ترسیل

نئی نسل اور فکرِ رضا کی ترسیل

اکیسویں کی دوسری دہائی اپنے تمام تر انتشار اور تخریب کاریوں کے ساتھ ہمارے دروازوں پہ دستک دے رہی ہے ۔ اس صدی نے اپنی شناخت‘‘ بازار ’’ کے طور پر قائم کر لی ہے ۔ یہ صدی صارفیت اور عالم کاری کی صدی ٹھہر چکی ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عہد حاضر میں کامیابی و کامرانی کا سہرا اسی کے سر سجے گا جو عالم کاری کے تقاضوں اور صارفیت کی شاطرانہ چالوں سے واقف ہوگا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو تقریباً تمام اہلِ ہوش وخرد نے نہ صرف قبول کرلیا ہے بلکہ اس پہ عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ایسے دور میں جب‘ بازار’ ہی متاعِ جہان ٹھہری ہے، وہاں ایمان و عقیدہ کی باتیں کرنا اور اس کے تحفظ کی کوششیں کرنا شاید نئی نسل کے لیے حیرت انگیز ہوں۔کیونکہ ہم نے نئی نسل کومادی تعلیم و تربیت کے تمام مواقع تو فراہم کر دے ہیں لیکن اجتماعی اور معاشرتی سطح پراس کے اطلاق کی باتیں نہیں کر تے کیونکہ جدید تعلیم جس کامحور و منبع صرف اور صرف بازار ہے اِس کی نفی کرتی ہے ۔ ۔یہاں سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ خود نئی نسل کے سامنے بہترے مسائل ہیں جو ان کی زندگی کے حسین لمحات کو عذاب بنا رہے ہیں ، زندگی کی دوڑ میں وہ پیچھے نہ رہ جائیں اس لیے ہم نت نئے طریقے اپنا کر انھیں مزید بازار کی تعلیم کی جانب دھکیل دیتے ہیں ۔ ایسے میں جب بنیادی مذہبی تعلیم کا حاصل کرنا ہی ان کے لیے ایک سب سے بڑا چیلنج بن جائے تو مسلک اور عقیدے کی باتیں کرنا اور سمجھانا شاید سب سے مشکل کام بن جاتا ہے ۔پھر  فکر رضا کی ترسیل  کیسے ہو؟  اور بھی مشکل امر بن گیا ہے ۔ اس طرح  اب یہ سوال نئی نسل سے ہٹ کر ہماری جانب آجاتا ہے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ یہ ایک سوال ہی نہیں ہے بلکہ  اس کے ساتھ کئی سوالات  منہ پھاڑے سامنے کھڑے ہیں ۔ایک تو  یہ کہ انھیں مذہب کی تعلیم اور شعور کیسے دیں ؟ دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ انھیں عقیدے اور مسلک کی باتیں کیسے سمجھائیں ؟۔ اس حوالے  سےیہ اہم سوالات ہیں  ، جن کا جواب اگر مل جائے تو شاید ہم اس سیمنار کے ذریعے ایک بڑے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ ان سوالوں سے کے ساتھ جو  دیگر سوالات ابھر کر سامنے ہیں وہ اس طرح ہیں :

۱۔       کیا نئی نسل  کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ مذہبی تعلیم حاصل کرسکیں ؟   اور ان تک فکر رضا کی ترسیل ممکن ہو پائے   ؟

۲۔      کیا ہمارے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں کہ ہم آسانی سے اپنے اسلاف کی باتیں انھیں بتا سکیں  ؟

۳۔      کیا ہمارے پاس ایسی کتابیں موجود ہیں جو بچوں کی عمر اور ان کی نفسیات کو ذہن میں رکھ کر تیار کی گئی ہیں؟

۴۔      کیا ہمارے معاشرے میں ایسی تقریبات یا اہتمام ہوتے ہیں جو نئی نسل کے لیے سیکھنے سیکھانے میں معاون ہوں ؟

۵۔      کیا مسجد کی تقریروں میں یا جلسوں میں ایسی سنجیدہ  اور سبق آموزباتیں کی جاتی ہیں کہ وہاں سے بچے کچھ سیکھ سکیں ؟

یہ وہ بڑے سوال ہیں جن کا جواب اگر ڈھونڈ لیں تو شاید اس  چیلنج کا ہم مقابلہ کر سکتے ہیں اور اسلاف کی میراث کی نہ صرف حفاظت کر پائیں گے بلکہ انھیں اپنی نسلوں تک منتقل کرنے میں بھی  کامیاب  ہوپائیں گے۔

پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ یقینا ًٍ  آج کے بچوں کے پاس دیکھیں تو وقت کی بڑی کمی ہے ۔ لیکن اگر ہم منصوبہ بند طریقے سے Time management  کر لیں  تو یہ ممکن ہے ! چھٹیوں میں،خاص کرگرمی اور سردی کی طویل چھٹیوں میں اگر ہمارے ادارے  بچوں کے لیے کوئی Attractive پروگرا م بنا پائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے ۔  جی ہاں ! یہ ہم  تومحض اشارہ کر رہے ہیں ۔اگر ہمارے دانشوراور علماء   متحد ہوکر بیٹھ جائیں تو ممکن ہے۔

دوسرا  اور تیسرا سوال ہمارے لیے لمحہ ٴ فکریہ اس لیے ہے کہ اس سمت میں کبھی کوشش نہیں کی گئی ۔ الحمد للله ہمارے درمیان  ایک سے ایک تخلیق کار ، صاحب قلم  موجود ہیں مگر بچوں کو ذہن میں رکھ  کر بہت کم نعتیں اور نظمیں لکھی گئیں اور اسی طرح کتابیں بھی شاید و باید موجود ہیں ۔اگر مجھے معاف کریں اور اجازت دیں تو  یہ کہنے کی جسارت کروں کہ سنی دنیا میں  سب سے زیادہ کتابیں اعلیٰ حضرت پر لکھی گئی ہیں ۔ یہ بہت اچھی بات ہے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ ابھی بھی  کئی گوشے ایسے ہیں جن پر کام ہوناباقی ہے۔لیکن اب تک جومقالے اور کتابیں لکھی گئی ہیں  اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو تعریف و توصیف کے دائرے سے بہت کم ہی مصنف آگے نکل سکے ہیں ۔ تحقیقی اور تجزیاتی طریقہ ٴ کار کو ہم در کنار کر دیتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ان کتابوں کے قارئین کو خود کم کر لیتے ہیں ۔جس کا نتیجہ  یہ ہے کہ ان کتابوں کو پڑھنے والا وہی ہوتا ہے جو اعلیٰ حضرت کو مانتا ہے اور ان کے نام کا نعرہ لگاتا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت پر جو ویب سائٹ  موجود ہیں، ان میں سے بیشتر  کا حال بھی یہی ہے ۔زیادہ تر ویب سائٹ اس قدر مذہبی رنگ و روغن میں ڈوبا ہو ا ہے کہ عام لوگ  ہوم پیج سے آگے بڑھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے ۔جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا کہ یہ دنیا اب تو بازار ہے یہاں آپ کو خریدار خود ڈھونڈنے پڑیں گے ۔ کیا ضروری ہے کہ ہم میٹھائی کی دوکان کھولیں اور اس میں صرف شکر پارے اورافلاطون میٹھائی ہی بنائیں ۔ بھائی اس میٹھاس کو الگ الگ رنگ روپ بھی دے کر آپ جس قسم کی میٹھائی بنائیں گے اس میں بنیادی چیز میٹھاس تو باقی ہی  رہے گی اور لطف بھی دوبالا ہو جائے گا، خریدار  کوبھی اپنے ذوق کی تسکین   کے لیے انواع واقسام کی مٹھائیاں مل جائیں گی۔ اسی طرح  ہمیں  اب بازار اور زمانے کے طرز کو دیکھتے ہوئے تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ دعوت و تبلیغ کے لیے بھی نئے نئے طریقے اپنانے ہوں گے ۔جسے ویب سائٹ سےکچھ سیکھنا ہے ، اس کے لیے ویب سائٹ مہیا کرائیں ، جسے Animated کتابیں پڑھنی ہیں ،ایسے بچوں کو  ایسی کتاب فراہم کرائیں ، جنھیں سیدھی سادی زبان میں کچھ پڑھنا ہے ان کے لیے ایسی کتابیں تیار کریں ، جنھیں فکر فلسفہ کی باریکیوں کو سمجھنا ہے ان کے لیے ایسی تحقیقی کتابیں لکھی جائیں ۔ جی ہاں! اب وقت آگیا ہے کہ القاب وآداب کی گرانباری سے اپنی تحریر  وں کو آزاد کریں ۔بچوں اور خواتین کو ذہن میں رکھ کر اعلیٰ حضرت پر  کتابیں تیار  کریں اور اگر ضرورت پیش آئے اور اگر علما اجازت دیں تو Animated  کتابیں بھی  لکھ کرعام بچوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

چوتھے اور پانچویں سوال کا جواب میں نہیں دے سکتا  ۔ان کے حل کے لیے  ہمیں مل کر سوچنا چاہیے کہ ‘‘کیا ہمارے معاشرے میں ایسی تقریبات یا اہتمام ہوتے ہیں جو نئی نسل کے لیے سیکھنے سیکھانے میں معاون ہوں ؟ ’’  اور ‘‘کیا مسجد کی تقریروں میں یا جلسوں میں ایسی سنجیدہ اور سبق آموز باتیں کی جاتی ہیں کہ وہاں سے بچے کچھ سیکھ سکیں ؟’’  آپ خود بہتر جانتے ہیں کہ ہم نے زیادہ تر مذہبی جلسوں کو    کیا بنا رکھا ہے اور کس طرح کی تقریریں کر کے ثواب سے  زیادہ  ، لوگوں کی واہ واہی  لوٹنا چاہتے  ہیں ۔میرا خیال ہے کہ اس پہلو پر بھی بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے تو جلسوں میں آنے والوں کی عادتیں بھی بگاڑ رکھی ہیں ، وہ تو بس دھوم دھاڑکے والی تقریر ہی سننا پسند کرتے ہیں ۔ اس لیے یہ  سوال بھی   بہت سنگین ہوگیا ہے۔ اسی طرح  ہمیں اپنے معاشرتی رسوم  و رواج کو بھی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے  ۔ میرا خیا ل ہے کہ صرف اسی مسئلے پر بیٹھ کر ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہےتاکہ  ہم نئی نسل کے تعلیم وتربیت  کے لیے کوئی مناسب ماحول تیار کر سکیں ۔

اب ذرا غور کریں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاعلیہ الرحمة والرضوان   نے اکیلے وہ کام کیا جو کئی ادارے مل کر بھی شاید نہیں کر سکتے ۔ ایسا بھی نہیں کہ بہت ہی معقول اور مناسب ( cordial) ماحول میں انھوں نے یہ کام کیا ، تمام مخالفتوں کے درمیان رہ کر ایسا کام کیا کہ  پچھلی ایک صدی میں ہمارے پاس اس کے سوا کچھ اور اثاثہ  نہیں ہے۔چلو اسے بھی تسلیم کر لیں کہ مجدد تو ایک صدی میں بنتے ہیں تو کیا ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ہیں اور کسی مجد د کا نتظار کریں ۔ درا صل ہم نے کیا یہی ہے کہ اس سے آگے سوچنے کی زحمت نہیں کی اور اعلیٰ حضرت کو سمجھنے سے زیادہ ان کی عقیدت پر زور دیا ہے ۔ دوسری بڑی غلطی یہ ہورہی ہے کہ اعلیٰ حضرت کےبعد کی نسل کو ہم نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ بلکہ ہوا یہ کہ عقیدت میں ہم اتنے آگے نکل گئے کہ اعلیٰ حضرت سے پہلے اور ان کے ہم عصروں کو بھی جو توجہ ملنی چاہیے تھی شاید اس میں ہم نے کوتاہی سے کام لیا ہے ۔ نتیجتاً  اعلیٰ حضرت کی میراث ہم تک اس قدر چھن چھن کر پہنچی ہے کہ ہماری رسائی بھی ان تمام سرمائے  کی اصل تک نہیں ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ  آج ہمارے درمیان سے ہی لوگ  نکل نکل کر دوسرے عقیدے میں شامل ہو رہے ہیں ۔ دوسرے لوگ اتنی تیزی سے اور منصوبہ بند طریقے سے کام کر رہے ہیں کہ  ان کی تعداد روز افزوں بڑھ رہی ہے ۔اب  وقت آگیا ہے کہ ہمیں  جم کر مدافعت بھی کرنی ہے اور  نئے تقاضوں کے مدنظر نئی کوششیں بھی کرنی ہیں ۔کیونکہ وہی قومیں زندہ و جاوید اورسرفراز ہوتی ہیں جو اپنے اسلاف کے کارنامے سے نہ صرف واقف ہوتی ہیں بلکہ اس کو اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے لیے مشعل راہ بناتی ہیں ۔

تہذیب انسانی کے ارتقا کی تاریخ کو دیکھیں یا انسانی اور تمدنی ارتقا کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا  ہے کہ وہ قومیں اور ملتیں اپنی شناخت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئیں جن کے پاس میراثِ اجداد و اسلاف موجود نہیں تھیں۔اقوام عالم میں سب سے بڑا مسئلہ تہذیبی ، معاشرتی اور مسلکی شناخت کا ہے با لخصوص ایسے دور میں جب صارفی کلچر اور عالم کاری کی ضربیں پیہم عقیدے ، مسلک ، قومیت کے لیے نہ صرف خطرہ بنی ہوئی ہیں بلکہ اب یہ تمام کے تمام براہِ راست ان کے شکنجے میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ تمدنی تاریخ کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جب جب تہذیبی اعتبار سے انتشار اور بد امنی کا دور آیا ہے تب تب کسی مجتہد یا صوفی نے ان تاریکیوں سے قوم کو نکالنے کی کوشش کی ہے ۔ عراق و شام کی وہ پُر فتن شہنشاہیت کا دور رہا ہو یا خلافت کے بدلتے تیور سے اہل ایمان کی پریشانی ، اِن تمام نازک اور سنگین مرحلوں میں  انھوں نے ہی قوم کو روشنی عطا کی ہے۔ ہندستان کی سطح پہ دیکھیں تو جب تہذیبی تصادم اور یلغار کا دور آیا تو ایسے میں اس سرزمین کو تہذیبی انتشار اور دینی و مسلکی تخریب کاریوں سے نجات دلانے کے لیے بھی خدا نے ایک مجتہد عصرکو یہ ذمہ داری سونپی ۔ خدا کی جانب سے ودیعت کردہ دینی علم اورعصری شعور کے ساتھ امام احمد رضا قدس سرہ نے نہ صرف اس پُر فتن دور میں علم کی شمع روشن کی بلکہ عقیدے اور ایمان کی بھی حفاظت فرمائی ۔ہر دور میں ایسے رہنما وقت کے تقاضے کے تحت قوم کی رہبری کرتے رہے ہیں ۔ ہندستان میں اصلاحی تناظر کے پس منظر میں دیکھیں توایسے لوگوں کی  ایک بڑی تعداد ہے۔ راجہ رام موہن رائے سے لے کر سر سید احمد خان تک۔ مگر ان میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ انھوں نے محض تہذیبی سطح پہ کوششیں کیں ۔ ان کی کوششیں ثمر آور تو ہوئیں مگر نورِ ایمان سے خالی رہیں کیونکہ انھوں نے مادیت کو ترجیح دی۔ لیکن خانقاہوں اور  صوفیا  ئے کرام   نے بڑا کارنامہ یہ کیا کہ انھوں نے اپنے دروازے سبھوں کے لیے کھول دیئے ، وہ ہندستان جو ذات پات کی رسم کے سبب آپس میں ہی اتنی دیواروں اور حصاروں میں گھر ے تھے کہ ان سے باہر نکلنا ناممکن تھا ۔ لیکن ہندستانی  صوفیا اور خانقاہوں نے ان دیواروں اور حصاروں کو  توڑ کر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ۔ انھوں نے نہ صرف مذہب کی تعلیمات کو عام کیا بلکہ نئے ہندستان کی تعمیر میں سب سے نمایاں کام کیا ہے ۔اعلیٰ حضرت نے بھی انھیں خانقاہوں میں سے ایک  خانقاہ یعنی مارہرہ مطہرہ پر جبہ سائی کی ۔ انھیں بھی روشنی یہیں سے ملتی ہے ۔ اور عظیم خانقاہ کے عظیم سپاہی ہونے کے ناطے انھوں نے ملک و قوم  اور سنیت کے لیے جو کام کیا وہ اپنے آپ میں بے مثال ہے ۔معذرت کے ساتھ یہ عرض کرتا چلوں کہ ہمارے اسلاف نے خانقاہ اور علم کے مرکز کو جو یکتائی کا تصور دیا تھا اسے ہم نے دوئی میں بدلنے کی کوشش کی ہے اور ان  دونوں روحانی اور علمی مرکز میں جو خلیج پید ا کر دی ہے۔ اس سے بھی کئی بڑے مسائل آن کھڑے ہوئے ہیں ۔ لہذا اس خلیج کو  پاٹنا بھی  وقت کی اہم  ضرورت ہے۔ اس قوم کو جس نے  روایات کے انبار میں دب کر توہمات اور دین ِ فطرت سے دور رسوم ورواج کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔اس کا واحد حل یہ ہے کہ انھیں ان مراکز کی صحیح اور سچی تعلیم اور خدمات سے آگاہ کیا جائے۔

امام احمد رضا کی بھی  سب سے بڑی دَین ملتِ اسلامیہ( اسلامیہ اس لیے کہ ان کی خدمات کا دائرہ محض ہند کی سر زمین تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے عالمگیر اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں) کے لیے یہ ہے کہ انھوں نے اُن رسوم ورواج کو جو غیر ضروری طور پر اسلام کے ماننے والوں میں داخل ہو رہے تھے ، ان کی جانب نہ صرف اشارہ کیا بلکہ تحریری، تقریری اور عملی طور پر اس کے انسداد کی کوششیں کیں ۔اُن کی اِن کوششوں کو لوگ معمولی بھی سمجھ سکتے ہیں مگر سچائی یہ ہے کہ اگر اس عہد میں یہ کوشش نہیں ہوئی ہوتیں تو اس قوم (بالخصوص ہند وپاک کی ) کو اپنی اصلاح کرنے اور صحیح راہ تلاش کرنے میں کئی صدیاں لگ جاتیں۔ اور مادیت کے اس دور میں دین و ایمان کی تفہیم جوئے شیر لانے کے مصداق ہوتی۔

          اس لیے ہم جو امام احمد رضا کے ماننے والے ہیں ، ان پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے کے تقاضے کے اعتبار سے ہم دین و سنیت کے فروغ کے لیے  کوشش کریں ۔ آج چونکہ تخصیص کا زمانہ ہے اس لیے ہمیں بھی الگ الگ گروپ کو ٹارگیٹ کر کے مختلف صلاحیتوں کا استعمال کرنا ہوگا ۔تاکہ عہد حاضر کے مسائل سے نپٹ سکیں ۔

اب امام احمد رضا کی دینی اور ملی خدمات کو صرف سراہنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کو اپنانے کی ضرورت ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن شخصیات کو ہم  نےبہت چاہا اور جن کی عظمت کاہم نے اقرار کیا ہے ، ان کو سمجھنے کی کوشش بہت کم ک ہے ۔ اس طرح وہ شخصیت ہماری عقیدت وعظمت کے محدود دائرے میں سمٹ کر رہ جاتی ہے ۔ امام احمدرضا کے حوالے سے بھی یہی ہورہا ہےکہ ان کے ماننے والوں کی اکثریت ایسی ہے جو ان کے نام سے واقف تو ہیں ۔ مگر ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہیں۔

اس سلسلے میں غلام جابر مصباحی  صاحب کی کوششیں یقیناًٍ قابل صد آفریں ہیں کہ انھوں نے اس سیمنار کا اہتمام کر کے اس سمت میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے ۔ خدا ان کی کوششوں کو قبول فرمائے ۔ اٰمین

About admin

Check Also

اسلوبیاتی مطالعہ کی جہتیں اور رشید احمد صدیقی کی تحریریں

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ہندستانی زبانوں کا مرکز ، جواہر لعل نہر ویونیورسٹی ، …

2 comments

  1. بیشک آپ کے سوالات جائز ہیں اور ان پر واقعی بیٹھ کر غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب آنے والی نسلیں ان سب عقیدوں سے پرے ایک الگ ہی راگ الاپنے میں لگی ہوں گی۔ بلکہ آج ہی ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کی تعلیم نئے بچوں کو بہت خشک اور بوجھل لگتی ہیں۔ ان کے پاس ایک یقین ایک عقیدہ ہے کہ انہیں مذہب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ورنہ کیوں کر اس دنیا کی بھاگ دوڑ سے نکل کر اپنی آخرت کی فکر کریں؟ دین و مذہب کے حوالے سے جو سب سے بڑی کمزوری ہم سب سے ہو رہی ہے وہ یہی ہے کہ ہمارے شب وروز سے مذہب دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے ا فکار محدود ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور ہم اپنا مستقبل خراب کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پہلے تو ہمیں اپنے اعمال درست کرنے ہوں گے تاکہ بعد کی نسل کی رغبت بڑھے۔ اور پھر یہ ذمہ داری بھی پوری طرح سے موجودہ نسل کی ہے کہ آنے والی نسل کے لیے تعلیم و تربیت کا کوئی بہتر انتظام کرجائے۔

  2. امام اہل سنت احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ کی علمی اور دینوی خدمات پر اگر غور کیا جائے تو ایک بات بہت صاف ہے کہ انہوں نے اپنے بعد والی نسل کے اتنا خزانہ چھوڑا ہے کہ ان سے فیض یاب ہوتے ہوتے آج کئی نسل گزر گئی لیکن انکی خدمات کا احاطہ نہیں ہو پایا۔
    ظاہر ہے کہ اور کئی نسلیں ان کی تخلیقات، تصنیفات ان کے درس سے مستفیض ہوتی رہیں گی۔
    یہ سب تبھی ممکن ہو سکا کیوں کہ ان کے پاس ایک ویزن تھا، جو نسلوں کو تربیت دے سکے۔ ایک علمی و تدریسی تجربہ تھا۔ اور آج یہی سب کچھ ہما ری قوم میں کم ہوتا جا ریا ہے۔ کسی موضوع پر مدلل بات کرنے آج کسی میں ہمت نہیں رہی یا پھر وقت نہیں ہے۔آپ کی باتوں سے میرا پورا پورا اتفاق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *