Home / Articles / نماز کی اذان دنیا میں ہر وقت گونجنے والی آواز

نماز کی اذان دنیا میں ہر وقت گونجنے والی آواز

نجیم شاہ

نماز کی اذان دنیا میں ہر وقت گونجنے والی آواز

فجر کی اذان کا آغاز انڈونیشیا سے شروع ہو کر ڈیڑھ گھنٹے بعد سماٹرا پہنچتا ہے

یہ سلسلہ سماٹرا سے ایک گھنٹے بعد بنگلہ دیش جا پہنچتا ہے پھر سری لنکا میں اذاتیں شروع ہو جاتی ہیں

پاکستان میں یہ سلسلہ شروع ہونے سے پہلے افغانستان اور مسقط میں اذانیں شروع ہو جاتی ہیں

کرہ ارض پر کوئی سیکنڈ ایسا نہیں گزرتا جب اذان نہیں ہو رہی ہو، یہ سلسلہ قیامت تک رہے گا

اسلام آباد (نجیم شاہ سے) شریعت کی اصطلاح میں اذان سے مراد وہ مخصوص کلمات ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ ”اللہ اکبر “ دنیا میں گونجنے والی وہ روح پرور آواز ہے جو ہر وقت کانوں میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا رس گھولتی رہتی ہے۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر وقت گونجنے والی آواز نماز کی اذان ہے۔ ہر روز انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے طلوع آفتاب کے ساتھ فجر کی اذان شروع ہو جاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں موٴذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان کرتے ہیں۔ مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ مغربی جزائر تک چلا جاتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ سلسلہ سماٹرا میں شروع ہو جاتا ہے اور سماٹرا کے قصبوں اور دیہات میں اذانیں ہونے لگتی ہیں۔ یہ سلسلہ ایک گھنٹے بعد ڈھاکہ جا پہنچتا ہے، بنگلہ دیش میں ابھی اذانیں ختم نہیں ہوتیں کہ کلکتہ سے سری لنکا تک فجر کی اذانیں شروع ہو جاتی ہیں، دوسری طرف یہ سلسلہ کلکتہ سے بمبئی تک پہنچتا ہے اور پورے ہندوستان کی فضاء توحید رسالت کے اعلان سے گونج اٹھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سری نگر اور سیالکوٹ میں فجر کی اذان کا وقت ایک ہی ہے جبکہ سیالکوٹ سے کوئٹہ، کراچی اور گوادر تک چالیس منٹ ہے، اس عرصے میں فجر کی اذانیں پاکستان میں گونجتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں یہ سلسلہ شروع ہونے سے پہلے افغانستان اور مسقط میں اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔ مسقط سے بغداد تک ایک گھنٹے کا فرق ہے۔ اس عرصے میں اذانیں سعودی عرب، یمن، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق تک گونجتی رہتی ہیں۔ بغداد سے سکندریہ تک پھر ایک گھنٹے کا فرق ہے۔ اس وقت شام، مصر، صومالیہ اور سوڈان میں اذانیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ سکندریہ اور استنبول ایک ہی طول و عرض پر واقع ہیں وہاں سے مشرقی ترکی تک ڈیڑھ گھنٹے کا فرق ہے، اس دوران ترکی میں اذانیں شروع ہو جاتی ہیں، سکندریہ سے طرابلس تک ایک گھنٹے کا فرق ہے۔ اس عرصے میں شمالی امریکہ، لیبیا اور تیونس میں اذانیں شروع ہونے لگتی ہیں، یوں فجر کی اذان جس کا آغاز انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے شروع ہوا تھا ساڑھے نو گھنٹے کا سفر طے کرکے بحراوقیانوس تک پہنچنے سے پہلے مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کی اذان کا وقت ہو جاتا ہے۔ اس طرح کرہ ارض پر ایک بھی سیکنڈ ایسا نہیں گزرتا ہوگا جب سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں موٴذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان نہیں کرتے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

About admin

Check Also

جشن آزادی

    Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *