Home / Literary Activities / یہ کیا طرز حکمرانی ہے

یہ کیا طرز حکمرانی ہے

                          

یہ کیا طرز حکمرانی ہے
                     عباس ملک

 امریکہ نے حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملہ کر طالبان سے مذاکرات کے عمل میں دشواری پیدا کر دی ہے۔ اب مولانا فضل الرحمان اور دیگر اس عمل میں دشواریاں دور کرنے کیلئے اہم قرار پائیں گے۔ سمجھ نہیں آتی کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر ملک دشمن عناصر سے قریبی رابطے کے باوجود بھی ان میں سے شمارکیے جانے کے بجائے ان کے مخالفین میں کیسے شمار کیے جاتے ہیں۔ افغان طالبان کے بارے میں تو یہ واضح طورپر ثبوت کے ساتھ موجود ہے کہ وہ پاکستان کے دینی راہنمائوں کے شاگرد رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے قریبی روابط سے انکار ممکن ہی نہیں۔پاکستانی طالبان کے ساتھ تعلق سے انکارافغان طالبان کر تے ہیں۔ وہ انہیں پاکستان مخالف لابی سے متعلق قرار دے کر ان کے خلاف ایکشن کی بات بھی کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ان کے پوزیشن ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کہ وہ آیا پاکستان میں مذہبی جماعتوں سے متعلق ہیں یا ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے مفاد پرست ہیں ۔

حق کی آواز کیلئے روحانیات اخلاقیات اور عمرانیات کے اصولوں کے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ جو بات اللہ اور اس کے رسول کے عقائد سے ہٹ کر ہو گی وہ لازمی طورپر اخلاقیات اور عمرانیات کے معیار پر کبھی بھی پورا نہیں اتر سکتی ۔اس کے فوائدمحدود کم اور نقصانات زیادہ ہونگے ۔ گروہ بندی لسانیات کو اسی معیار سے جانچا جائے تو اس کے فوائد کم اور اسکے نقصانات زیادہ ہیں۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول پر آج ہمارے حکمران عمل پیرا ہیں۔ وہ امت مسلمہ کو ہی تقسیم کر کے ان پر حکومت کر کے اپنی خواہشات کی تکمیل کو جائز قراردیتے ہیں۔ پاکستان میں مختلف عقائد اور ان کے پیروکار اپنے مفادات کیلئے امت مسلمہ پاکستانی قوم کے متفقہ مفادات کو نظر انداز کرکے مجموعی فوائد کی نسبت گروہی ضروریات کو اہمیت دے کر خود کو مسیحا اور ہمدرد و رہبر بناکر پیش کرتے ہیں۔ اس میں اگر ان کے عقائد وخیالات کو مجموعی اسلامی عقائد کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ باطل ثابت ہوتے ہیں۔

 حکمران اسلام اور پاکستان کے مفادات کی بجائے اقتدار کی توسیع و استحکام سے آگے کی نہیں سوچتے ۔ ان کی خواہشات اور ضروریات کا منبع ان کی پارٹی کا استحکام اور انکی ذاتی مقبولیت کے گراف سے آگے نہیں۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے بے چین اکابرین انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دے چکے ہیں۔ ایسے دشمن اور غداروں کیلئے تحفظ پاکستان بل بھی آ چکاہے ۔ اس کے باوجود آئین و قانون سے مبرا ہو کر دہشت گرد قرار پا چکنے والے اور اسکی سزا کاٹنے والے ملا برادر کی رہائی وسیع تر مفاد میں کی گئی ہے۔ یہ مفاد کیا ہے اور اس کا پاکستان کی عوام اور پاکستانی عوام کی ضروریات اور خواہشات سے کیا تعلق ہے ۔ مشرف آئین توڑتا ہے روندتا ہے ۔ وردی پہن کر پاکستان کے دفاع کیلئے جان ومال کی قربانی کا حلف دے کر اس سے انحراف کرتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پاکستان کی سرحدیں پامال کرنے اور پاکستان کی حدود میں مداخلت کا حق دیتا ہے پھر بھی ملزم ہے۔ اسے مجرم قرار دینے کیلئے تاریخ کی کتابوں کا انتظار کیا جا  رہا ہے۔ زرداری اور اسکی کابینہ مشرف کی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھ کر پانچ سال پورے کر گئی انہوں نے پاکستان کے آئین وقانون کے تحت جو حلف دیا اس کو پامال کیا لیکن کوئی مجرم نہیں۔ پاکستان پر ڈرون حملے ہورہے ہیں لیکن کوئی انہیں روکنے کیلئے اگے نہیں بڑھ رہا تودفاع کا حلف کیاہے۔ کہنے کو تو حکمران کہتے ہیں لیکن کرنے کے وقت مصلحت آڑے آ جاتی ہے۔ قوم سے قربانی مانگنے میں کوئی مصلحت نہیں لیکن اپنی قربانی کی بات پر منطق بازی شروع ہو جاتی ہے۔پاکستان کا وقار خاک میں مل رہاہے ۔ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں پر ڈرون حملے بھی ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود بھی مصلحت آمیز خاموشی سے دیکھا جار ہا ہے۔ حکمران معذور ہیں ۔ طالبان کے متعلق ہماری سوچ منافقت آمیزی پر مبنی ہے ۔ہماری حکومت کا موقف عجیب ہے ۔ انہیں دہشت گرد بھی قرار دیا جاتا ہے انہیں غداراور ملک دشمن بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ ان کیلئے سپیشل قانون سازی بھی کی جاتی ہے ۔پھر ان سے مذاکرات کیلئے بھی بات کی جاتی ہے۔ یہ کیا رویہ اور کیا سوچ ہے ۔ ملک دشمن عناصر کے اگے گھگھیانے کا حلف دیا تھا حکمرانوں یا اس کے دفاع کا حلف دیا تھا۔

جب معلوم ہے کہ یہ وطن دشمن عناصر کا ٹولہ یا دشمن کے ہاتھوں یرغمال اور کھلونا بن چکے ہیں تو پھر مذاکرات کس بات پر ہونگے۔ امریکہ نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں سبوتاژ کر دیا ۔ اب طالبان اپنے کمانڈر کے خون کے بدلے میں خون کی ندیاں بہا دینے کی بات کرتے ہیں تو پھر مذاکرات کی تمنا سے یہ رک جائیں گے ۔امریکہ نے ایسا کیا تو کیا امریکہ کی پالیسی آپ کو معلوم نہیں ہے۔ آپ اس کے سدباب کیلئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔ مشرف نے ڈرون حملوں کی اجازت دی اس ملک دشمن کو کیا سزا دی گئی ۔ زرداری نے اس پالیسی کو جاری رکھا اس کے خلاف کی ایکشن لیا گیا۔ موجودہ حکمران امریکہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہیں ان کو کیا کہا گیا۔ نہ طالبان کے اگے ہاتھ جوڑنے سے کچھ ہو گا اور نہ ہی امریکہ کے چرن چھونے سے عزت بحال ہوگی ۔

امریکہ ہماری عزت کا محافظ نہیں اور نہ ہی ہمارے نظریات کا نگہبان اور نہ ہی سرحدوں کا پاسبان ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کا پجاری اور اس کیلئے راہیں ہموار کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ وہ تخریب تدبیر اور تحریف کے ترغیب سب کچھ استعمال کر کے ہمیں بھی استعمال کر جاتا ہے۔ طالبان کے ساتھ اگر پاکستان مذکرات کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے ڈرون حملوں کو روکنے کا سبب بھی کرنا چاہیے تھا۔ اسے تدبیر رکھنی چاہیے تھی کہ یہ ممکنہ حملہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ اس کے سدباب کیلئے کیا اقدامات کیے گئے تھے ۔ اس کی پیش بینی کیوں نہیں کی گئی ۔ کیونکہ حکمرانوں کو صرف اپنے تخت کی سلامتی کے سوا کچھ سوچنے کی فرصت نہیں۔ کون ملک دشمن ہے کون معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے کوئی سروکار نہیں۔ صرف پارٹی میں بغاوت کون کر رہا ہے اور کہیں حکومت کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد تو نہیں ا ٓر ہی ۔ بس یہی سوچ ہے اور یہ عمل ہے۔ پارٹی شخصی گروہی مفادات کے اگے قومی مفادات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسی لیے تو ہر کونے سے کوئی نہ کوئی لسانی گروہی اختلاف کی آواز بلند ہوتی سنائی دیتی ہے۔ طالبان بھی ایسی ہی گروہی آواز ہے ۔ اس کا حل کرنے کیلئے قومی سوچ اور کردار وعمل کی ضرورت ہے ۔ دوسروں کی محتاجی اور ان کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی آزادی اور اپنوں کی آزادی کیلئے خود سوچنا اور عمل کرنا ہے۔غیر ملکی امداد پر چلنے والے معاشرے کبھی یکجا نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان میں امن سکون سلامتی نام کی کوئی چیز آ سکتی ہے۔ طالبان سے مذاکرات کس بنیاد پر کرنے ہیں دشمن دہشت گرد یا ایک گروہی مفادات کے اثیر گروہ کے طور پر یہ فیصلہ کیا جائے ۔اس کے بعد کسی کو اس میں مداخلت کا اختیار نہ دیا جائے ۔ خودمختاری اور اندرونی معاملات میں غیر ملکی مفادات کی بجائے ملکی یکجہتی اور سلامتی کو اہمیت دی جائے ۔ اندرون معاملات کو درست کیے بغیر غیر ملکی یلغار کے اگے بند باندھنا ناممکن ہوگا۔

About admin

Check Also

۲۰۲۰ نئے خدشات اور نئے عزائم سال

پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین ۲۰۲۰ نئے خدشات  اور نئے عزائم سال یوں تو ہر دن ایک  جیسا ہے  …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *