Home / Dr. Khwaja Ekramddin / اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال اور محاورات

اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال اور محاورات

پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین

ہندستانی زبانوں کا مرکز ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی

نئی دہلی

اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال اور محاورات

            تاریخی ، تہذیبی اور لسانی اعتبارسے اردو اورفارسی ایک دوسرے سے کئی جہتوں سے قریب تر ہیں ۔ ان زبانوں میں لین دین کا ایک طویل سلسلہ رہا   ہے جس نے تہذیبی روابط کو بھی مضبوط کیا اور ہندستان میں ایک نئی ابھرتی ہوئی بولی کو زبان کی شکل میں پروان چڑھایا ۔اسی لیے ہند ایرانی تہذیب  جیسی اصطلاحیں وجود میں آئیں ۔ جو اس حقیقت کی غماز ہیں کہ  ہندستان کے تہذیبی عناصر میں  ایران کی تہذیب کا نمایاں حصہ زیادہ  رہا ہے ۔سماجی وثقافتی حوالوں سے ان کے اثرات ہندستان  پر واضح طور پر موجود ہیں ۔ ہماری روز مرہ زندگی ہو یا سماجی و تہذیبی تقریبات  ہر جگہ ان نقوش کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ لیکن مجھے یہاں صرف  ادبی نقطۂ نظر سے مشترکہ تہذیبی روایات  یا ساجھی وراثت کا ذکر کرنا ہے  جن کے باعث اردو زبان  ترقی کرتی ہوئی ادب کے اعلیٰ منازل تک پہنچتی ہے۔لیکن ان عناصر میں عربی زبان و تہذیب کا بھی ایک کردار رہا ہے لیکن وہ یہاں تفصیل سے نہیں بیان کیا جاسکتا۔

اردو ادب و شعر پر فارسی و عربی کی مشترکہ روایات کو اس طور نشان زد کیا جاسکتا ہے کہ اردو میں براہ راست عربی کے اثرات  فارسی  کی بہ نسبت کم پڑے لیکن بہت سی روایات  فارسی کے دروازے سے اردو میں داخل ہوئیں  اور خود فارسی کے اثرات براہ راست اردو پر مرتب ہوئے ۔خیالات و افکار ، موضوعات ، تشبیہ و استعارہ ، صنائع و بدائع جس طرح فارسی میں مستعمل اور رواج میں تھے اسی طرح ارد ومیں در آئے۔لیکن یہ غیر شعوری طور پر نہیں ہوا بلکہ شعوری طور پر اسے قبول کیاگیا۔

آج کے موضوع کے مدنظر مجھے اردو میں فارسی کے مستعمل محاورات ، ضر ب الامثال  کو بیان کرنا ہے ۔ ان کے علاوہ فارسی کے مشہور اشعار ، مصرعے اور کچھ جملے بھی اردو میں اس طرح رائج ہیں اور وہ اردو میں اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اردو کے ہی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدا سے یہ رواج رہا کہ اردو کی تعلیم کے ساتھ لوگ فارسی بھی پڑھتے تھے۔ اور دوسرے یہ کہ اٹھارویں صدی کے نصف تک دہلی میں حکومت کی زبان فارسی ہی تھی۔آج بھی اردو بولنے والے ان محاورات کا استعمال کرتے ہیں اور یہ بڑے بر محل معلوم ہوتے ہیں ۔اس ضمن میں چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

مرضیٔ مولیٰ از ہمہ اولی:           اس کا مفہوم بہت واضح ہے ۔ یعنی جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہی ہورہا ہے اور بہتر ہورہا ہے ۔ انسان اکثر  ناصبر بھی ہوتا ہے ۔اس کی مرضی کے خلاف کوئی کاہوتا ہے تو وہ رنجیدہ بھی ہوتا ہے لیکن اکثر اس کی رنجیدگی کا خاتمہ صبر پر  ہوتا ہے اور وہ اس بات کا اقرار کر کے کہ’’ مرضیٔ مولیٰ از ہمہ اولی‘‘ اس کا یہ بھی مفہوم ہے کہ انسان مستقبل سے بے خبر ہوتا ہے  سوائے اللہ کے کوئی  نہیں جانتا کہ جو ککچھ ابھی ہو رہا ہے    ا س کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔اسی لیے یہ کہا جاتاہے کہ مرضیٔ مولیٰ از ہمہ اولی۔ہر حال میں   اللہ کی رضا بہتر ہے۔

                                    اسی طرح  یہ مثال دیکھیں :

آب آمد تیمم بر خاست :                       لفظی معنی ہے کہ جب پانی  فراہم ہوجائے تو تیمم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تیمم کا حکم ایسی صورت میں آیا  جب پانی نہ ہو۔یہاں مفہوم یہ ہے کہ مجبوری میں اگر کوئی کام روا رکھا گاہو تو جب مجبوری ختم ہوجائے تو اسے کرنا  ناروا  ہے ۔ جیسے اگر دوران کلاس استاز اگر کوئی کتاب پڑھ کر سنا رہاہو اسی درمیان لائٹ چلی جائے تو اندھیرے میں بحالت مجبوری طلبہ کی دل جمعی کے لیے کوئی واقعہ سنانے لگے یا کچھ اور بتانے لگے تو وقت گزاری کے لیے یہ شغل بہتر تو ہے لیکن لائٹ کے آجاتے ہی پھر اس شغل کو ختم کرنا ہی چاہیے۔

آمدن با ارادت و رفتن با اجازت۔             یہ ہماری تہذیب ہے کہ جب ہم کسی کے گھر جاتے ہیں تو اپنی مرضی سے جاتے ہیں لیکن ہمیشہ گھر والے  کی اجازت سے ہی واپس آتے ہیں یہ  ہماری ہندستانی تہذیب بھی ہے اور ایرانی بھی۔ اسی لیے فارسی  کا یہ فقرہ دونوں جگہ صادق آتا ہے ۔ آمدن با ارادت و رفتن با اجازت، یعنی محبت سے ہم کہیں جاتے ہیں لیکن  جس کے گھر جانا ہوتا ہے اسی کی مرضی سے واپسی ہوتی ہے۔

چاہ کن ر اچاہ در پیش:                          اس کا لفظی معنی یہ ہے کہ گڑھا کھودنے والے کے سامنے بھی گڑھا ہوتا ہے ۔یعنی اگر آپ کسی کے  لیے کوئی  بُرا کام کرتے ہیں  تو آپ کے ساتھ بھی کوئی بُرا  ہی سلوک کرے گا۔

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن:                 اس کا لفظی معنی ہے ’ نہ کہیں رُکنے کی جگہ باقی رہی اور نہ کہیں جانے کو ہی کوئی  جگہ ہے ۔ ایسی باتیں انسان اس وقت کہتا ہے جب وہ بہت عاجز ہوجاتا ہے ۔یا ایسا مسئلہ اس کے سامنے آجاتا ہے کہ اس کے پاس اس کا کوئی حل ہی ہوتا ہے۔

عطر آنست کہ خود ببوید کہ نہ کہ عطار بگوید:               اس محاورے میں کہا گیا ہے کہ عطر کا مطلب یہ ہے کہ شیشی کھولتے ہی اس کی خوشبو پھیل جائے پھر عطر بیچنے والے کو اس کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی ۔ عطر کی خوشبو ہی اس کی تعریف و توصیف ہے ۔ اسی لیے اس محاورے میں کہا گیا ہے کہ عطر وہ ہے جو خود اس کی خوشبو بتا دے  نہ کہ عطر بیچنے والے کو اس کی تعریف کرنی پڑے۔

آفتاب آمد دلیل آفتاب:                     اسی سے ملتا جُلتا محاورہ یہ کہ’ آفتاب آمد دلیل آفتاب‘ سورج کا نکلنا ہی اس کا کے موجود ہونے کی دلیل ہے اب یہ کہنے اور بتانے کی  ضرورت  نہیں رہ جاتی  کہ سورج نکل گیا ہے۔

ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد:           جو شخص نمک کے کان میں چلا جاتا ہے وہ بھی نمک ہوجاتاہے ۔ یعنی کوئی شخص اگر بہت دنوں  تک نمک کی کان میں رہ جائے تو نمک کی رطوبت اور اس کے اثرات موجود شخص کو پگھلانے لگاتا ہے۔اسی قبیل کا ایک اور محاورہ ہے ۔

صحبت طالح  تر ا طالح کند ، صحبت صالح ترا صالح کند:      اس کالفظی معنی ہے کہ نیکوں کی صحبت انسان کو نیک بناتی ہے اور بُروں کی صحبت انسان کو برا بناتی ہے ۔

جائے خدا تنگ نیست ، پائے مرا لنگ نیست:            اس محاورے کا لفظی معنی ہے کہ اللہ کی بنائی زمین تنگ نہیں  ہےاور میرا پیر بھی لنگ نہیں ہے کہ میں کہیں جا نہ سکوں ۔انسان جب کسی  کے انحصار سے بہت عاجز آجاتا ہے  اور سامنے والا  بھی یہی سمجھتا ہے کہ وہ مجھ پر اس قدر منحصر  اور مجبور ہے کہ مجھے چھوڑ کر کہیں جا ہی نہیں سکتا ۔ ایسی ہی صورت کے لیے یہ محاورہ ہے کہ جائے خدا تنگ نیست ، پائے مرا لنگ نیست۔

قدرجوہر شاہ داند یا بداند جوہری:               لفظی معنی یہ ہے کہ ہیرے کی قدر یا تو جوہری  جانتا ہے یا بادشاہ ۔ مفہوم یہ ہے کہ ہر کس و ناکس کو ہر شئی کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔

خر ،چہ داند قیمت نقل و نبات:                اسی قبیل کا یہ محاورہ ہے  جس کا معنی ہے کہ گدھا نقل و بنات کی قیمت کیا جانے ، اس کاکام  تو صرف بوجھ ڈھونا ہے ۔ اردو میں من و عن اسی طرح کا یہ محاورہ مستعمل ہے کہ ’’بندر کیا جانے ادر ک کا سواد۔‘‘

تا مرد سخن نہ گفتہ باشد ، عیب و ہنرش نہفتہ باشد:        اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان  جب تک باتیں نہیں کرتا اس کو صحیح طور پر نہیں پہچانا جاسکتا ہے کہ، اس کی گفتگو سے ہی اس کے ذہنی اُفق کا انداز ہ ہوتا ہے ۔کیونکہ انسان کی قدر اس کی شکل و صورت اور جاہ و حشمت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور سوچ سے ہوتی ہے۔

گر نہ بیند بروز شپہرہ چشم ، تکمۂ آفتاب را چہ گناہ:         یہ بہت ہی عمدہ   جملہ ہے۔ اس کا ترجمہ ہے کہ اگر دن کی روشنی   میں بھی   اُلو نہیں دیکھ سکتا تو ا س میں سورج کی چمک اور اس کی روشنی کا کیا قصور ہے؟ قصور تو اس کی آنکھوں کا ہے کہ وہ نہیں دیکھ سکتا ۔اس کا مفہوم اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ  اگر کوئی شخص فائدہ مند شئی سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اس میں قصور اس کا ہے کہ نہ کہ اس فائدہ بخش شئی کا ہے۔

خود کردہ را علاجے نیست  :                    معنی  یہ ہے کہ  اگر آپ نے خود کچھ کیا ہے تو اس کا کوئی علاج  نہیں ۔ ارود میں  بالکل اسی قبیل کا محاورہ ہے کہ ’اپنے  پیر پر کلہاڑی مارنا‘۔

افسانہ را افسانہ می خیزد  :                       اس کا مفہوم ہے کہ بات سے بات نکلتی ہے۔ فیض احمد فیض کا بہت مشہور شعر ہے کہ :

                                                وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا               وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

فارسی کے اس محاورے سے یہ مفہوم بر آمد ہوتا ہے کہ جب کوئی بات کی جاتی ہے تب ہی اس اس سے متعلق دیگرغلط فہمیاں اور غیر ضروری باتیں سامنے آتی ہیں۔

چوب ِخدا صدا ندارد   :                       فارسی کے اس ضرب المثل کی طرح اردو کا یہ محاوہ ہے کہ ’’خد کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔‘‘

آب در کوزہ و ما تشناں لباں میگردم:          فارسی کے بعض محاورے بالکل اردو میں من و عن استعمال ہوتے ہیں  اب یہ مسئلہ ضرور ہے کہ پہلے یہ فارسی میں استعمال ہوا یا اردو میں ۔ خیر اس بحث سے قطع نظر یہ فارسی اور اردو کا یہ فقرہ دیکھیں: بغل میں بچہ شہر میں ڈھول اور اسی کو فارسی میں اس طرح بولا جاتا ہے ’’ آب در کوزہ و ما تشناں لباں میگردم‘‘ کہ پانی تو کوزہ میں موجود ہے مگر ہم پیاسے گھوم رہے ہیں ۔

اسی طرح کے اور محاورے اور سنیں:۔۔۔۔۔

آواز دہل شنیدی و از دور خوش ای :             فارسی کے اس فقرے کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ’تم نے دور سے ڈنکے کی آواز سنی اور تم خوش ہوگئے ‘  اردو میں اس  بھی اسی  طرح کا محاورہ ہے کہ ’’دور کا ڈھول سہانا ہوتا ہے۔‘‘

ہم خُرمہ وہم ثواب:                          ارود میں اسی طرح کا محاورہ موجود ہے ’’آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘‘ فارسی کا یہ محاورہ بھی اردو میں مستعمل ہےجس کا  م لفظی ترجمہ یہ  ہے’ خرمہ بھی ملا اور ثواب بھی ‘ اس کو اس طرح سمجھیں کہ   میلاد کی محفل میں جانے والے کو بطور شیرینی  خرمہ بھی ملتا ہے اور میلاد میں جانے کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے ۔

اسی طرح کے اور بھی بہت سے محاورے ہیں جو اردو اور فارسی میں ایک جیسے ہیں ۔ فارسی والے تو شاید افردو محاورے کو استعمال نہ

کرتےہوں مگر اردو میں فارسی کے ایسے محاورے جو اردو میں بھی موجود ہیں ، آج بھی  مروج ہیں  جیسے ؛

خر، را گم کردہ ،پی نعلش میگرد:                 سانپ نکل گیا لکیر پیٹتے رہے ۔

رقاصہ نمی توان بہ رقص  ، میگفت زمینش کج: ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا

 در بیاباں گرسنہ را شلغمِ پختہ بہہ ز نقرۂ خام :                بھوک میں لکڑ بھی پاپڑ

اب کچھ  مثالیں دیکھیں جو بکثرت استعمال ہوتے ہیں :

شنیدند، گفتند بر خاستند:                      اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اہم موضوعات پر مٹینگیں ہوتی ہیں لوگ آتے ضرور ہیں مگر اکثر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ایسے ہی موقعوں کے لیے کہا جاتا ہے ’ شنیدند، گفتند ،بر خاستند‘جس ترجمہ اس طرح ہے ۔ آئے بھی لوگ ، بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑے ہوئے ۔

من تُرا حاجی بگویم تو مُرا ملا بگو:                 میں تجھے حاجی کہوں اور تو مجھے ملا کہہ یہ محاورہ عام طور پر ’’من تیرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ کے طور پر مشہور ہے ۔ لیکن درست یہی ہے کہ من تُرا حاجی بگویم تو مُرا ملا بگو۔

دستش نمک ندارد :                            اس کے ہاتھوں میں اثر نہیں ہے۔

دستش را توئی حنا گذاشتہ:                      ہاتھ اور پیروں میں مہندی لگا ہونا۔ ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگے ہونے سے مراد ہے کوئی کام نہ کرنا، تساہل پسند ہونا۔نظیر کا ایک شعر اسی طرح ہے:

                                                ہپم نے پوچھا کل نہ آئے کس لیے            پاؤں میں مہندی دکھا کر ہنس دیے

دستش توی روغن است :                     پانچوں انگلی گھی میں ہونا

مثل ِگربۂ دیوار :                              دیوار کی بلی کی طرح ہونا کہ جس طرف فائدہ نظر آئے اس طرف چلا  جانا

من آنم کہ من دانم:             اس کا استعمال دونوں منفی اور مثبت دونوں طرح سے ہوتا ہے  کہ میں کیا ہوں میں ہی جانتا ہوں ۔

پدرم سلطان بود ، تُراچہ ؟:                          یہ فقرہ کم علمی اور شیخی بگھارنے والا ہے ۔ یہ فقرہ وہ لوگ استعمال کرتے ہیں ، جو اپنی برتری ، بڑائی اور فضیلت بہ زبان خود بیان کرنا چاہتے ہیں ۔

ازدل خیزد بر دل ریزد:                        دل سے نکلی ہوئی بات دل پر اثر کرتی ہے۔

آوازِ سگاں کم نہ کنُد رزقِ گدارا:                کتوں کے بھونکنے کی آواز فقیروں کی روزی کو کم نہیں کرتی ۔

کند ہم جنس باہم جنس پرواز،کبوتر با کبوتر ، باز با باز :

عاقلاں  را اشارا کافیست

دروغ گورا حافظہ نباشد

نیم حکیم خطرۂ  جان:                           کم علم وال زیادہ خطرناک ہوتا ہے

دشمن دانا بہتر از دوست نادان

یک لقمۂ صباحی بہتر از مرغ و ماہی

ناشتہ بقدر بادام

نقل را عقل باید

دشمن نتواں حقیر و بیچارہ شمرد

رموز مملکت خویش خسرواں دانند

تا تریاق از عراق آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود

خطائے بزرگان گرفتن خطاست

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل

بہر کیف  یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس  کی لمبی فہرست ہے ۔  ان تمام کو ایک نشست میں بیان کرنا  مشکل ہے ۔بس اس بات ختم کرتا ہوں :

این حکایت طویل تر بود            قصہ کوتاہ تر گفتم

                                    ***

 

About admin

Check Also

اردو غزل کے چند نکات

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین  اردو غزل  کے چند  نکات دنیا کی تمام زبانوں میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *