Home / Literary Articles / انسانی حقوق کا سوال :مذاہب اور حکومتیں

انسانی حقوق کا سوال :مذاہب اور حکومتیں

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
آج ساری دنیا میں ہر طرف سے ایک ہی آواز آرہی ہے کہ اب کسی کو انسانیت سے پیار نہیں اور نہ ہی کسی کو انسانیت کے تحفظ سے کوئی واسطہ ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ جس شخص اور جس حکومت کی آواز اس حوالے سے سب سے زیادہ بلند ہے وہی انسانیت کا سب سے بڑ ا دشمن بھی ہے۔یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ آج کی دنیا کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے۔اگر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے اور انسانیت کے تحفظ کے نام پر دنیا میں کتنی بڑی بڑی تنظیمیں ہیں اورزیادہ تر تنظیمیں مغربی ممالک میں ہیں۔ یہ وہی ممالک ہیں جن کے یہاں مذہب کو مطعون کیاجاتاہے۔اور کسی کے مذہبی ہونے پر اسے قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ایسے ہی معاشرے میں جہاں مذہب کو نظر انداز کیا گیا اور ظاہری مادی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ،دراصل وہیں انسانی حقوق کی پامالی کا زیادہ امکان بھی رہتا ہے اور عملاً ایسا ہو بھی رہا ہے۔اسے آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جہاں مادیت کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے وہاں حق تلفیوں کا بازار گرم ہونے لگتاہے۔انسانی حقوق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ فرد واحد یا فرد مخصوص پر کسی طرح کی ظلم و زیادتی نہ کی جائے اور اپنی زندگی جینے کی پوری آزادی دی جائے۔یہ تو ایک محدود نقطۂ نظر ہے جس کو آج کی دنیا نعرے لگا لگا کر مشتہر کر رہی ہے۔اور جینے کی آزادی کے نام پر بے رواہ روی ، عریانیت ، میراث ِ اسلاف کی ناقدری کی جارہی ہے اور ساتھ میں انسانوں کا استحصال بھی کیا جارہا ہے۔
انسانی حقوق کو اس کے صحیح پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔انسان اور اس کے لیے بنائی گئی تما م چیزوں کا تحفظ یہ سب انسانی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی درخت کو کاٹتا ہے تو اس سے بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے کیونکہ اس درخت سے اسے سایہ ، پھل، فرحت بخش ہوا وغیرہ کئی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔اسی طرح اگر کوئی ماحول کو پر اگندہ کرتاہے تو گویا وہ انسان کے اس حق کی حق تلفی کرتا ہے جو اسے قدرت نے عطا کیا ہے۔اب آپ صرف ان مثالوں سے غور کریں کہ دنیا میں کون ایسا ملک ہے جو انسانی حقوق کی پامالی کا گنہگار نہیں۔زمین سے لے کر خلا تک کو پراگندہ کرنا ان کا نصب العین ہے۔جوہری توانائی سے ماحولیات کی پراگندگی، بم اور بارود بنانے والے یہ سب کے سب کہیں نہ کہیں انسانیت کے دشمن ہیں۔لیکن ان کا دفاع یہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے تحفظ کے لیے اسے بنا یا ہے لیکن حقیقیت یہ ہے کہ جن کوتحفظ کی ضروت ہے وہ تو پتھروں سے ٹینکروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔اور یہ طاقتیں تسلط کے لیے سرحدوں کو عبور کر کے بچوں ، عورتوں اور ضعیفوں کی بھی تمیز نہیں کرتے اور ہوائی حملے کر کے منٹوں میں شہر کے شہر برباد کر جاتے ہیں۔ کیا یہ آج کی دنیا میں سب سے بڑی حق تلفی نہیں ہے۔ میر اخیال ہے کہ اس سے بڑھ کر انسانی حقوق کی پامالی کی کوئی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔لیکن اس عیب کو چھپانے کے لیے وہ لْبھاؤنے نعرے دے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ نئی نسل کوگمراہ کرنے کے لیے کبھی جنسی آزادی کا نعرہ دے کر انسانی حقوق سے جوڑتے ہیں تو کبھی ہم جنسی جیسے قبیح فعل کو بھی اسی نظریے سے دیکھتے ہیں۔اور اکثر عورتوں کی آزادی کے نام پر تما م معاشرتی قدروں کو مسمار کرتے ہیں ، یہ سب دراصل انسانی حقوق کے نام پر ایک تماشہ ہے۔کیونکہ انھیں ممالک میں جو انسانی حقوق کے چیمپئن بن رہے ہیں ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ ہر شخص کو پیدائشی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو چاہے لباس زیب تن کرے اور جو چاہے کھائے۔ لیکن جب فرانس میں مسلم بچیاں اسکارف پہن کر اسکول جاتی ہیں تو انھیں یہ پسند نہیں آتا۔ اور تو اور ،تب وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تو ان کا پیدائشی حق ہے اور ہم خود اس کا نعرہ لگاتے ہیں۔اسی طرح پورے مغربی ممالک میں ٹوپی ، داڑھی ، کرتا ،پائجامہ اور عمامہ سے تو جیسے انھیں چڑھ سی ہوگئی ہے۔ ان لباسوں پر ان کے ملک میں بھپتی کسی جائے تو انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہوتی۔ یہ وہ حقائق ہیں جو جگ ظاہر ہیں اور ساری دنیا دیکھ رہی ہے مگر تعجب یہ ہے کہ انھیں ممالک کے ہاتھ میں انسانیت کے علمبرار ہونے کا پر چم دے دیا گیا تو آپ خو د سوچ سکتے ہیں کہ استحصال کرنے والا ہی رکھوالا بن جائے تو انجام کیا ہوگا۔
اب آپ مذاہب کا بھی انداز دیکھ لیں۔ اکثر خطیب اور مذہب کے رہنما یہ کہتے ہوئے سنے جائیں گے کہ اس کے مذہب میں انسانیت کا گن گان ہے اور مذہب پریم اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ہم اسے مان بھی لیتے ہیں۔لیکن اس میں کتنی صداقت ہے ؟ اس کے تجزیے کی ضرورت ہے۔سوال یہ ہے کہ دنیا کے اکثر مذاہب میں یہ ضرور موجود ہے لیکن کیا وہ انسانوں کے وسیع تر مفادات کا احاطہ کرتے ہیں؟ اور کیا وہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر کوئی ضابطۂ حیات پیش کرتے ہیں؟جب اس نقطہ نظر سے مذاہب عالم کامطالعہ کریں گے تو بہت مایوسی ہوگی۔انسانی حقوق کی نگہبانی کے حوالے سے جب اسلام کا مطالعہ کریں گے تو اسلام اس حوالے سے سر فہرست نظر آتا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کا مطلب صرف نہیں ہے کہ اسے اپنے انداز میں جینے کی آزادی مل جائے بلکہ انسانی حقوق کا مطلب یہ بھی ہے کہ قدرت کی جانب سے انسانوں کو جو تحائف ملے ہیں ان کی نگہبانی بھی ضروری ہے۔اور ان تحائف کا عالم یہ ہے کہ ابھی تک انسانوں نے انھیں مسخر بھی نہیں کیا ہے۔ایسی صورت میں اکثر اوقات قرآن و سنت سے ہی ہمیں روشنی ملتی ہے۔آپ حضور اکرم کی ایک بات حدیث کو ہی سامنے رکھیں جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ وضوع کرتے وقت پانی کا ایک قطرہ بھی زائد خرچ نہ کرو ،اور اسی طرح ان کا یہ فرمان کے بے زبان مویشیوں پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو، کسی درخت اور اس کے پتے کو بغیر ضرورت نہ توڑو۔یہ باتیں اکثر سننے میں چھوٹی لگتی ہیں یا یہ کہیں کہ ہم سنتے سنتے اس کی روح کو فراموش کر گئے ہیں۔ورنہ یہ باتیں انقلاب انگیز ہیں اسلام کے حوالے سے ایک دو نہیں ہزاروں ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جن میں انسانوں کے حقوق کے پیش نظر معمولی معولی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ان کے مطالعے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آج دنیا میں انسانی حقوق کے نام پر جو تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ (ہم سرے سے ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی اہمیت سے انکار کر ر ہے ہیں )وہ زیادہ تر مقبول عام نعروں کی مدد سے چل رہی ہیں۔ان تنظیموں اور کارکنوں کو ابھی اس حوالے سے اور بھی لائحہ عمل مرتب کرنے ہوں گے اور اپنے فکر کے زاویے کو بھی بدلتے ہوئے اس میں وسعت لانے کی ضرورت ہے۔ ٭٭٭

About admin

Check Also

اردو غزل کے چند نکات

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین  اردو غزل  کے چند  نکات دنیا کی تمام زبانوں میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *