Home / Articles / اردو اور بنگلہ تہذیب

اردو اور بنگلہ تہذیب

Dr.Khwaja Ekram

ہندستان کی جدید زبانوں میں اردو ایک ترقی یافتہ اور مقبول عام زبان ہے جو ہندستان کے تقریباََ ہر خطے میں بولی جاتی ہے ۔بنگالی بھی جدید ہندستانی زبانوں میں سے ایک ہے جو ایک مخصوص تہذیب و تمدن کی نمائندگی کرتی ہے اور اپنی شیرینیت کے سبب مشہور ہے ۔بنگالی علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ ادبی زبان بھی ہے ۔ بنگلہ ادب میں چند ایسے نام بھی ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقات سے بنگلہ ادب کو عروج تک پہنچایا اور عالمی ادب میں اپنا نام ثبت کیا۔رابندر ناتھ ٹیگور ،نذر الاسلام ، بنکم چندر چٹر جی ایسے بڑے نام ہیں جن کی تخلیقات کا ہندستان اور دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں ۔بنگلہ ادب کی تاریخ بھی کافی دلچسپ ہے، اس میں لوک ادب کے بھی کافی ذخیرے موجود ہیں ۔اس زبان نے زمانے کے بدلتے رجحانات ونظریات کو بھی اپنے اندر جگہ دی ۔ مختصر یہ کہ بنگلہ ادب کی شاندار روایتیں اور قدیم و جدید ادب کے بہترین نمونے ہندستانی ادبیات میں اہم مقام رکھتے ہیں ۔

جہاں تک بنگلہ اور اردو کے باہمی تعلقات کا سوال ہے تو آپ سبھی جانتے ہیں کہ بنگال سے اردو کا بہت ہی قدیم تعلق رہا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اردو زبان وادب نے اپنے ارتقا کی ایک بڑی منزل اسی سرزمین پربھی طے کی ہے ۔یہاں تھوڑی دیر کے لیے آپ کی توجہ ایک دلچسپ امر کی جانب مرکوز کرانا چاہتا ہوں کہ اردو زبان و ادب نے اپنی ترقی کی بیش تر منزلیں ان علاقوں سے طے کی ہے جہاں اس کی خمیر نہیں تھی ۔اس بات پر بیشتر ماہرین لسانیات کا اتفاق ہے کہ اردو کھڑی بولی سے نکلی ہے اور کھڑی بولی کا علاقہ دلی اور اس کا گرد ونواح ہے لیکن اس زبان نے اپنی نشو ونما کے ابتدائی مرحلے دکن کی سرزمین میں طے کیے۔جہاں غیر آریائی زبانیں مروج تھیں اور اسی پر بس نہیں ہے بلکہ پہلی دفعہ اس زبان میں تصنیف و تالیف کا کام بھی یہیں سے شروع ہواجس کی ایک مستحکم روایت موجود ہے ۔یہ اور بات ہے کہ اردو زبان شمالی ہند میں زیادہ نکھر کر نئے رنگ وروپ کے ساتھ جلوہ گر ہوئی لیکن آپ نے کبھی بہ نظراستعجاب یہ نہیں دیکھا کہ شمالی ہندمیں تصنیف و تالیف کا کام جس تیز رفتاری سے بنگال کی سر زمین میں ہوا وہ اردو کے ان علاقوں میں نہیں ہوا۔جس کے سبب اردو کو گنگاجمنی تہذیب کا علمبردار کہا جاتا ہے ۔کلکتے میں فورٹ ولیم کالج کے قیام کے بعد بہت ہی مختصر عرصے میں جتنی تخلیقات و تصنیفات سامنے آئیں وہ صدیوں میں نہیں آسکی تھیں ۔اس طرح بھی اگردیکھا جائے تو سرزمین بنگال کا اردو ادب پر عظیم احسان ہے مگر آپ یہاں یہ بھی غور کرتے چلیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا پہلا قدم کلکتے میں جمایا اور یہاں سے پورے ہندستان پر حکومت کرنے کے منصوبے بھی بنائے اور فورٹ ولیم کالج بھی اسی منصوبے کا ایک حصہ تھا ۔نو واردانگریزوں کو ہندستانی تہذیب سیکھنے کی غرض سے اردو میں تصنیف وتالیف کا خیال اور اس کو بروئے کار لانے کاعمل اسی کلکتے میں ہوا۔مگر حیرت ہے کہ اس عہد کی تصنیفات پر بنگلہ ادب اور بنگلہ تہذیب کے عناصر کا یکسر فقدان ہے ۔دوسری طرف آپ نے دیکھا کہ اردو نے جب اپنی آنکھیں دکن میں کھولی تو وہاں کے بہت سے اثرات اس پر مرتب ہوئے مگر سرزمین بنگال کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔( مثلاََداستانو ں کی فضا اور باغ و بہار وغیرہ ۔۔۔۔مثالیں لکھنی ہیں ۔) بہر کیف یہ بھی ایک بحث کا موضوع ہے لیکن یہاں اس کا موقع نہیں ۔میں دراصل اردو اور بنگلہ ادب کے حوالے سے جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اردو کو شروع سے ہی رابطے کی زبان(LIGUA FRANKA )کی حیثیت حاصل رہی اور پنجاب سے بنگال تک بولی جانے والی اس زبان نے ہر جگہ کے اثرات بھی قبول کیے اور یقینا بنگال کے اثرات بھی اردو پر ہیں ۔اسی طرح بنگلہ میں اردو کے اثرات بھی نمایاں طور پردیکھے جاسکتے ہیں ۔بہت سے ایسے ضرب الامثال اور محاورات رائج ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہو سکتی ہے۔لین دین کا یہ لسانی عمل ضروری بھی ہے اور فطری بھی ۔

ہندستانی شہروں میں کلکتہ سیاسی ،تجارتی اور معاشی اعتبار سے کافی اہم شہر رہا ہے اور اب بھی ہے ۔ادبی لحاظ سے بھی یہ شہر قابل ذکر ہے اسی لیے غالب نے یہ کہا تھا ۔

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

ایک تیر مرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

غالب کے سفر کلکتہ کا اکثر ذکر ہوتا ہے مگریہاں میں غالب کے قیام کلکتہ کے حوالے سے وہاں کی ادبی معرکہ آرائیوں کی طرف اشارہ کروں گا جس سے یہ اندازہ ہوتا کہ اس عہد میں بھی اردو فارسی کے بڑے بڑے اہل علم وفضل موجود تھے اور آج بھی کلکتہ میں اردو بولنے ،لکھنے ،پڑھنے اور سمجھنے والوں کی خاصی تعداد ہے اور یہاں کی اردو ”کلکتیا اردو “کے نام سے بھی جانی جاتی ہے ۔ابراہیم ہوش کی شاعری کلکتیا اردو کے لیے مشہور ہے ۔وہ روزنامہ ”آبشار “ کے مدیر تھے ۔ان کا ایک مجموعہٴ کلا م” جندگی کا میلا “ ہے جسے کافی شہرت ملی اور عوام میں کافی مقبول ہوئی ۔اس میں کلکتہ بلکہ بنگالی زبان اور بنگلہ تہذیب کے بیشتر عناصر موجود ہیں ۔ ان کا لب و لیجہ بھی ویسا ہی ہے ۔مثلاًیہ شعر

میرا جندگی ٹھو اداس    ہے

کوئی آس ہے نہ کوئی پاس ہے

عام فہم الفاظ کے باوجود شعر میں کافی معنویت ہے بلکہ اس طرح کے ان کے اشعار کو سہل ممتنع کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔

ان کے علاوہ اور بھی کئی شعراء ہیں جن کے یہاں یہ اثرات موجود ہیں مثلاًرشک امرتسری کی نظم ” ہلہ آتا ہے “ کا یہ بند:

تو بھوکا ننگا بیوپاری

اور بیچے بھُجیا ترکاری

لیکن یہ سڑک ہے سرکاری

قانون تجھے دوڑاتا ہے

اُٹھ بھاگ کہ ہلہ آتا ہے

یہاں لفظ ’ہلہ‘ خالصتاً کلکتہ کی اصطلاح ہے جو فٹ پات پر دکان لگانے والوں کو بھگانے کے لیے جو پولیس کا دستہ مقرر ہے اُسے کہا جاتا ہے۔اور لطیف الزماں کا یہ شعر

زور مہنگائی کا اتنا ہے کہ ماتھا ہے خراب

اور خالص چیز کا ملنا ہے ناممکن یہاں

اس شعر میں ’ ماتھا خراب ‘ کی ترکیب خالص بنگالی ترکیب ہے ۔اس طرح کی مثالیں بعض شعرا ء کے یہاں مل جاتی ہیں مگر جس قدر ادباء و شعراء کی تعداد یہاں موجود تھی ان کی تعداد اور تخلیقات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اردو نے بنگالی تہذیب اور زبان و ادب کے اثرات بہت کم قبول کیے ہیں مثلاًوحشت کلکتوی بنگال کے بڑے شاعروں میں سے ہیں جنھیں طوطیٴ بنگال بھی کہا گیا ہے ۔ان کی پوری شاعری کو پڑھ جایئے اس میں نہ تو بنگال کی زمین کی خوشبو ہے اور نہ وہاں کی تہذیب و تمدن کی جھلک ملے گی ۔اسی طرح شاکر کلکتوی کے کلام کا حال ہے۔ حالانکہ بنگلہ زبان ایک ترقی یافتہ ادبی زبان کے علاوہ عظیم کلچر کی نمائندگی بھی کرتی ہے ۔اور چونکہ یہ ادبی زبان کے علاوہ ایک علاقائی زبان بھی ہے اس لیے اس میں دیگر علاقائی زبانوں کی طرح لوک گیت، لوک کہانیاں بھی ہیں مگر اس کے باوجود یہاں کے اردو ادب اور شاعری میں یہ عناصر کمیاب ہیں ۔البتہ آزادی کے بعد جدید ادب میں بالخصوص شاعری میں یہاں کی تہذیب و تمدن،طرز رہائش،رقص وسرود اور تقریبات اور مخصوص لفظیات کا استعمال زیادہ نظرآتا ہے ۔یہاں چند مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔مثلاًسید لطیف الزماں کے یہ اشعار ۔

ہر قسم کی ہیں مچھلیاں تالاب کے اندر

پھل پھول کی افراط ہے سبزی ہے برابر

جو ہو نہ کسی کام کا وہ اور کہیں ہے

ہر گوشہٴ بنگال کی زرخیز زمیں ہے

مچھلی بنگال کی سب سے مرغوب غذا ہے ۔کمال تو یہ ہے کہ بنگال کا شاعر خواب میں بھی جھیل اور مچھلیاں ہی دیکھتا ہے۔اختر حمید کی نظم ”کابوس “ میں خواب کا یہ منظر دیکھیں ۔

میں نے دیکھی خواب میں پانی کی ایک چھوٹی سی جھیل

جس میں کیڑے اور مکوڑے چگ رہی تھیں مچھلیاں

اور لیے بیٹھے تھے ہاتھوں میں شکاری بنسیاں

مارتے تھے تاک کر کشتی سے ماہی گیر جال

دیر تک تڑپا میرا دل دیکھ کر مچھلی کا حال

اور کلکتے کی ایک بستی کا منظر شمیم انور کی شاعری میں دیکھیئے۔

سرخ چمکیلی ٹالیوں میں

کب کا نونالگا ہوا ہے

بانس،جس پر یہ چھت کھڑی ہے

گھن لگے کھوکھلے ہیں ،ان میں

دیمکوں کی غذا نہیں ہے

اور بند کمرے کی ساری دیواریں

ننگے اینٹوں کی بے حیائی پر رو رہی ہیں

یہ دراصل کلکتہ کی بستی کا منظر ہے مگر اب اس طرح کے مکانات دوسرے شہروں پر بھی مل جاتے ہیں۔لیکن علقمہ شبلی کے یہ اشعار کلکتہ کی سیاسی اور معاشی زندگی کی بہترین مثالیں ہیں

آدمی کا جنگل ہے

شور و شر ہے دنگل ہے

بھیڑ میں جلوسوں کی

کھو گیا ہر ایک چہرا

شورشوں میں نعروں کی

سوگئی صدائے دل

پرچموں کے سائے میں

آرزو صف در صف

زندگی سوالی ہے

انقلاب آئے گا ،انقلاب زندہ باد

یہ مخصوص انداز کلکتہ کی سیاسی سر زمین کا ہے ۔اور اویس احمد دوراں کی نظم ” بنگال کی دھرتی گاتی ہے“ اسی سیاسی منظر نامے کو پیش کرتی ہے۔ چند غزلوں کے اشعار کی مثالیں ملاحظہ ہو۔

جو دور ہی سے میری جھلک دیکھ پائے گا

پوکھر کے پانیوں میں کنول مسکرائے گا

ہولے ہولے نوکا ڈولے گائے ندی بھٹیالی

گیت کنارے ہے لہریں ، اب کیا کہوے علی

شاعری کے اس حوالے کے بعد لفظیات کی سطح پر جب ہم جائزہ لیتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ بنگالی زبان میں بہت سے اردو فارسی ،عربی اور ترکی کے الفاظ شامل ہیں ۔

About admin

Check Also

اسلوبیاتی مطالعہ کی جہتیں اور رشید احمد صدیقی کی تحریریں

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ہندستانی زبانوں کا مرکز ، جواہر لعل نہر ویونیورسٹی ، …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *