Home / Articles / اقبال کی شاعری میں کوہ و کہسار

اقبال کی شاعری میں کوہ و کہسار

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

اقبال کی ہمہ جہت اور متنوع شاعری میں فکر و فن کی اس قدر بوالعجبیاں اور نیرنگیاں ہیں کہ ان کے فکرو خیال کے ایک ایک پہلو سے کئی نکات ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔ فکر و فلسفہ کے مضامین ہوں یا حسن جمال کی سحر آفرینی کا بیان اقبال کی شاعرانہ فنکاری اور سحر کاری ہر جگہ نظر آتی ہے ۔اقبال کی فطرت نگاری بھی محض فطرت نگاری نہیں بلکہ اس کے پس ِپردہ تخلیق کائنات کے اسرارور موز کی موشگافی کرتی ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ابتدائی عہدمیں بہترین منظری نظمیں کہی ہیں ۔ ’’ہمالہ‘‘ ، ’’ایک آرزو ‘‘ ، ’’ابر کہسار‘‘ ، ’’پیام صبح‘‘ ،اور’’ ماہ نو‘‘ وغیرہ جیسی نظمیں کافی مشہور ہیں ۔ ان نظموں میں محاکات اور پیکر تراشی کے خوبصورت نمونے پیش کیے ہیں ۔ بعد کی شاعری میں بھی اقبال نے جابجا منظر نگاری کرتے ہوئے دی
دہ و دل کو حیرت و استعجاب کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے اور فکر و معانی کے رنگ برنگ گل بوٹے کھلائے ہیں ۔
ؔ اقبال کی منظری شاعری کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے کوہ و کو ہسار ،دشت و صحرا ، صبح و شام ، آفتاب و ماہتاب اور افلاک کی بلندیوں کو اپنی منطری شاعری میں خاص جگہ دی ہے اور نئی معنویت عطا کی ہے ۔ میرے مطالعے کے مطابق اردو شاعری میں ’کوہ و کہسار‘کو سب سے زیادہ اقبال نے اپنی شاعری میں جگہ دی ہے ۔ اقبال کے اردو اور فارسی کلام میںسیکڑوں اشعار کوہ و کہسار اور اس کے متعلقات پر مبنی ہیں ۔ پہاڑ کی بلندیوں ، اس کی دلفریب وادیوں اور مترنم آبشاروں کو دیکھ کراقبالؔ کا دل مچل اٹھتا ہے اور کہتے ہیں :
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
پھرمجھے نغموں پر اکسانے لگا مرغ چمن
کوہ و دمن کے یہ دلفریب نظارے کبھی شاعر فطرت نوا کو نغمہ ریز کرتے ہیں تو کبھی شاعر کا دل ان کے حسن سحر آگیں کو دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے:
ہوا خیمہ زن کاروان بہار

ارم بن گیا دامن کوہسار
کوہ کی رفعت و دلفریبی سے اقبالؔ کو والہانہ وابستگی ہے ۔ جذباتیت کی انتہا یہ ہے کہ :
میرے کہستاں!تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک
روز ازل سے ہے تو منزل شاہین و چرخ
لالہ و گل سے تہی ، نغمہ ٔ بلبل سے پاک
تیرے خم و پیچ میں ، میری بہشت بریں
خاک تیری عنبریں ! آب ترا تاب ناک
باز نہ ہوگا کبھی بندۂ کبک و حمام
حفظ بدن کے لیے، روح کو کردوں ہلاک
اقبال کے اس جذباتی لگاؤ کا اشارہ دوسرے اور تیسرے مصرعے میں موجود ہے :
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک
اور
روز ازل سے ہے تو منزل شاہین و چرخ
پہلا مصرعہ انسانی تمدن کے ارتقا کا واضح اشاریہ ہے ۔ پہاڑ کی وادیاں اور اس سے نکلنے والی ندیاں شروع سے ہی انسانی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ رہی ہیں ۔ اقبالؔ اسی تمدنی تاریخ اور اس کی ارتقائی کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظم ’’ہمالہ ‘‘ جو محاکات کا ایک دلکش نمونہ ہے اس کے اشعار پڑھیے تو کوثر و تسنیم کاترنم جاگ اٹھتا ہے اور اس کے وجود کی تاریخ کو دیکھیے تو حیرت و استعجاب سے ششدر رہ جائیں گے ۔
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
اور
تیری عمر رفتہ کی ایک آن ہے عہد کہن
اس لیے اقبالؔ اس سن رسیدہ شاہد قدرت سے یہ سوال بھی کرتے ہیں :
اے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کانہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور ! پھر وہ صبح شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
یہاں شاعر ہندستان کے اس عہد کے تمدن اور تہذیب کی بات کر رہا ہے جو ہزاروں برس پہلے ایک درخشاں و تابندہ تہذیب بن کر جگمگائی تھی ۔ یہاں شاعر ماضی کے اوراق نو سٹیلجیائی کیفیت کے سبب نہیں پلٹ رہا ہے بلکہ ایک کرب ہے جسے ماضی کی شاندار روایت سے دور کرنا چاہتا ہے :
جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محیط آب گنگا تو مجھے
سر زمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے
وصل کیسی یاں تو اک قرب فراق انگیز ہے
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب
ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب
اقبالؔ کے عہد کے تناظر میں ان اشعار کو دیکھیں تو اقبالؔ کی شدید جذباتیت کا راز ہم پر عیاں ہوگا ۔ مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اور بھی الجھ جاتی ہے کیونکہ یہ جذباتیت نہ صرف منظر نگاری میں ہے بلکہ وطنی شاعری میں بھی نظر آتی ہے جب وہ یہ کہتے ہیں :
تنگ آکے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے
اقبالؔ کی یہ تلخی اتنی شدید ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں :
کانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساں
اقبالؔ کی یہ بے کلی اور اضطرابی کیفیت دنیا کی محفلوں اور شور شوں کے سبب ہے اس لیے سکون اور خاموشی کی تلاش میں وادیٔ کہسار کا رخ کرتے ہیں اور آرزو کرتے ہیں :
مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھو نپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
ان اشعار کے مطالعے سے ایک لمحے کے لیے حیرت ہوتی ہے کہ وہ اقبالؔ جو عمل پیہم ، جہد مسلسل اور تسخیر کائنات کی بات کرتا ہے وہ کیوں کر یہ کہہ سکتا ہے:
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
جب کہ وہی اقبالؔتخلیق آدم کو خدا کی تخلیق کا شاہکار بتاتا ہے اور جس کی طاقت و قوت کا حال یہ ہے کہ :

نعرہ زد عشق کہ خونیں جگرے پیدا شد
محسن لرزید کہ صاحب نظرے پیدا شد
فطرت آشفت کہ از خاک جہان مجبور
خود گرے ، خود شکنے ، خود نگرے پیدا شد
خبرے رفت زگردوں بہ شبستان ازل
حذر اے پر دگیاں ، پردہ درے پیدا شد
اور اسی پر بس نہیں بلکہ :
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے
ایسا انسان انجمن کی بے لطفی اور زمانے کی کج روی کو ختم کرنے کے بجائے پہاڑ کے دامن میں خاموش زندگی کا طالب کیوں کر ہوا ۔ اس کا ہلکا اشارہ تو خود نظم ’’ایک آرزو ‘‘میں موجود ہے :
راتوںکو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میر ا ٹوٹا ہوا دیا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو رونا مر ا درا ہو
ہر درد مند دل کو رونا مر ا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انھیں جگادے
اقبالؔ حسد و رقابت اور نفرت و عداوت بھری دنیا سے کنارہ کش ہو کر بھی دنیا سے رشتہ نہیں توڑتے بلکہ اپنی کٹیا کو رات کی تاریکی میں مسافروں کے لیے ٹھکانہ بناتے ہیں اور اپنے ٹمٹماتے چراغ کی روشنی سے راہ دکھانا چاہتے ہیں اور تمام آلام سے کنارہ کش ہو کر نالہ و فریاد کرتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ میرے دل کی کسک اوروں میں بھی عطا کر تا کہ دنیا کی محفلوں سے بیگانگی ، نا آشنائی ، اور نفرت و عداوت دور کر سکیں ۔ یہ اشعار حالانکہ صریحاً جواب فراہم نہیں کرتے مگر ان کی دوسری نظموں کو دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظمیں ’’ایک آرزو ‘‘کی فکر و خیال کی توسیع ہیں جو اس نظم کے مبہم اشارے کو واضح کرتی ہیں ۔ مثلاً ’’ نیا شوالہ ‘‘جس میں اقبال دیر و حرم کے خلفشار سے گھبرا کر یہ کہتے ہیں:
تنگ آکے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے
یہاں بھی جذباتیت غالب آجاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اقبالؔ گوشۂ عزلت میں پناہ لینا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ عقل عنا ں گیر ہوتی ہے ، تب اقبال کے ارادے میں عزم و استحکام کی جھلک نمایاں ہوتی ہے اور کہتے ہیں :
آ ، غیریت کے پردے اک بار پھر اٹھا دیں
بچھڑوں کو پھر ملا دیں ، نقش دوئی مٹادیں
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ ، اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں
اقبالؔ کے ان اشعار میں کیا یہ فکر موجود نہیں کہ :
ہر بنائے کہنہ را کہ آباداں کنند
می ندانی اول؛ آں بنیاد را ویراں کنند
گویا اقبالؔ کی یہ جذباتیت تعمیر نو کی علامت ہے نہ کہ راہ فرار کی ۔ اس طرح ’’ایک آرزو ‘‘کا یہ شعر :
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو
اور’’ رخصت اے بزم جہاں ‘‘کے یہ اشعار :
گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی میں ہے
اجنبیت سی مگر تیری شناسائی میں ہے
گھر بنایا ہے سکوت دامن کہسار میں
آہ ! یہ لذت کہاں موسیقیٔ گفتارمیں
گویا اقبالؔ کو دامن کوہ میں ہی سکون میسر آتا ہے لیکن اقبالؔ کبھی سکوت کی تلاش میں گور غریباں کا بھی سفر کرتے ہیں ، لیکن ان کا یہ سفر محض تسکین ذات کے لیے نہیں ہوتا بلکہ خود ان کی زبانی سنیے :
دل کہ ہے بیتابیٔ الفت میں دنیا سے نفور
کھینچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور
اقبال اس خاموش فضا اور قدرت کی دلفریب رنگینیوں میں کھو نہیں جاتے اورگورِ غریباں کی خاموشی میں اپنی ذات اور اپنے مقصد کو بھول نہیں جاتے بلکہ ہر جگہ متفکر نظر آتے ہیں یہاں تک کہ خفتگان خاک سے استفسار کرتے ہیں :
واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں کیا ؟
امتیازِ ملت و آئیں کے دیوانے ہیں کیا ؟
آہ وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے؟
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے ؟
اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبالؔ گوشۂ عزلت و تنہائی کے شیدا اس لیے نہیں کہ وہ راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں بلکہ فطرت کے حسین و جمیل اور دلکش و دلنواز مناظر و مظاہر کی رفاقت و آشنائی کئی رنگ و آہنگ پیدا کرتی ہیں جو بیک وقت جذباتی بھی ہیں اور جمالیاتی بھی ، فکری اور روحانی خصوصیات کی حامل بھی ہیں ۔ اقبالؔ کے اس مختلف الجہات جمالیاتی تصور کا انکشاف اس شعر سے بھی ہوتا ہے :
طعنہ زن ہے تو کہ شیدا کنج عزلت کا ہوں میں
دیکھ اے غافل! پیامی بزم قدرت کا ہوں میں
اگر آپ اقبالؔ کے پورے کلام میں کوہ و کہسار کے لفظ و تصور کی تلاش کریں تو کئی اور حقیقتیں کھل کر سامنے آئیں گی ۔ پہلے یہ دیکھیں کہ اقبالؔ نے اپنے کلام میں عام پہاڑوں کے ذکر کے علاوہ کن کن مخصوص پہاڑوں کا ذکر کیا ہے ۔ میرے علم کے مطابق ہمالہ ، کوہ طور ، فاراں ، حرا ، کوہ اضم ، اور کوہ دماوند کا ذکر آیا ہے۔ کوہ اضم اور کوہ دماوند کا ذکر عمومیت کے ساتھ ہوا ہے اور وہ بھی ایک جگہ لیکن کوہ فاراں ، غار حرا اور کوہ طور کا ذکر تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ بار بار ہوا ہے ۔ اب یہاں ان پہاڑوں کے تاریخی حوالوں کو ذہن میں تازہ کریں کہ غار حرا میں رسول اکرم ﷺ نے طویل عرصے تک عبادت و ریاضت کی اور وہیں رسالت سے سرفراز ہوئے۔ بایں معنی کہ قرآن کریم کی پہلی آیت وہیں نازل ہوئی اور فاران کی چوٹی پر جا کر اسلام کا پہلا پیغام دیا اور اس طرح کہ:
سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تونے
اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تونے
ان پہاڑوں کی عظمت اور تاریخی حوالوں کی مناسبت سے ذہن اقبالؔ کو سمجھنے کی کوشش کریں اور کوہ و کہسار سے متعلق اشعار کی تفسیر و تعبیر کریں تو معنی کی نئی جہت سامنے آئے گی بلکہ یہاں قرآن کی ایک آیت کریمہ بھی ملاحظہ فرمائیں :
افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت والی السماء کیف رفعت والی الجبال کیف نصبت والی الارض کیف سطحت فذکر انما انت مذکر۔
(ترجمہ:کیا اونٹوں کی طرف نگاہ نہیں کرتے وہ کیسے بنائے گئے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کیسا اونچا کیا گیا اور پہاڑوں پر نظر نہیں ڈالتے کس طرح کھڑے کیے گئے اور زمین کو نہیں دیکھتے کس طرح بچھائی گئی۔پس تم یاد دہانی کردو ! تم بس ایک یا ددہانی کر دینے والے ہو۔)
اب یہ بھی غور کریں کہ اقبالؔ کی منظری شاعری میں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کوہ وکہسار، صبح و شام، دشت و صحرا، آفتاب و مہتاب اور ارض و سماوات ہی بیشتر موضوع بنے ہیں۔ کیا اقبالؔ کی منظری شاعری کے یہ موضوعات قرآن ِ کریم کی ان مقدس آیات کی تفسیر و ترجمانی نہیں کرتے ؟
بلکہ جملہ معترضہ کے طور پر یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ اقبالؔ کی شاعری میں سفر کو بھی ایک خاص درجہ حاصل ہے کیا ۔کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ اس سفر کے وسیلے کے طور پر اقبالؔ کے یہاں اونٹ کا ذکر آیا ہے ،اسی لیے حُدی خوانی کی سرمستی اقبالؔ کے یہاں اس طرح نظر آتی ہے:
ناقہ ٔ سیّا ر من
آہوئے تاتار من
درہم و دینار من
اندک و بسیار من
تیز ترک گامزن
منزل ما دور نیست
اور یہ ان کی شاہکار شعری تخلیق کیا اس آیت کریمہ افلا ینظرون الی الابل کی تفیسر و تعبیر نہیں ؟ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ پہاڑ سے اقبالؔ کے جذباتی لگاؤ کی ایک وجہ تو ’’تیری چٹانوں میں ہے میرے اب وجد کی خاک‘‘ ہے اور دوسری وجہ ’’روز ِ ازل سے ہے تو منزلِ شاہین و چرخ‘‘ ۔ حالانکہ اقبالؔ نے کوہ و کہسار کے ذکر میں بیشتر پہاڑوں کو سکوت و خامشی کا مرکز بتایا ہے مگر اسی پہاڑ کی چٹان سے ’’شاہین‘‘ کا کردار بھی تراشا ہے جو حرکت و عمل کی سب سے بڑی علامت بن کر سامنے آیا اور اس طرح کے اشعار زبان زد خاص و عام ہوئے :
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
تو شاہیںہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
اب چند ایسے اشعار کو بھی ذہن نشیں کریں جن کی کوہ و کہسار کے سلسلے میں معنویت ہے اور نظم’’ ایک آرزو‘‘ سے جس کی ابتدا ہوئی اس کی تفسیر بھی:
وحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک میدانی
کہسار کی خلوت ہے تعلیم خود آگاہی
اور یہ شعر :
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مرد کُہستانی
ان اشعار کی تفہیم کیا ان تاریخی حوالوں کے بغیر ہوسکتی ہے۔ میرا خیال ہے اگر ان کی تشریح ہوتی بھی ہے تو شاید مومن ؔ کے اس شعر کی طرح :
بنے کیونکر کہ ہے سب کام الٹا

ہم الٹے، بات الٹی، یار الٹا
اس شعر کی تشریح سیاق و سباق کو نہ جاننے والا تو یوں کرے گا کہ مجھ میں اور محبوب میں کوئی معاملہ اس لیے نہیں بن پارہا ہے اور حالات اس لیے سازگار نہیں ہورہے ہیں کہ جس طرح ہم الٹے مزاج کے ہیں محبوب بھی ویسا ہی تنک مزاج ہے اس لیے ہماری باتیں بھی الٹی ہوتی ہیں۔ پھر ہم کیا اور ہمارا معاملہ کیا لیکن اس شعر کی یہ تشریح بالکل غلط ہوگی کیونکہ یہ شعر معمہ ہے مہتاب رائے کے نام کا اور اب آپ صرف دوسرا مصرعہ پڑھیں ’’ہم الٹے، بات الٹی، یار الٹا‘‘ تو سمجھ میں آئے گا کہ ہم کا الٹا مہہ اور بات کا الٹا تاب اور یار کا الٹا رائے ۔ اس طرح اس مصرعے سے ’’مہتاب رائے ‘‘ نکلتا ہے۔ بالکل اسی طرح اقبال ؔ کے بھی بعض اشعار ایسے ہیں جو بغیر تاریخی اور تہذیبی حوالوں کے نہیں سمجھے جاسکتے۔ بہر کیف اس سلسلے کے ایک دو شعر اور ملا حظہ ہوں:
مدرسے نے تیری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں پاش
ہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش و لیکن
ہاتھوں سے ترے دامنِ افلاک نہ چھوٹے
اس شعر میں اقبالؔ اپنے انہی حوالوں سے کوہ و بیابان سے ہم آغوش ہونے کی تلقین کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس کو منزلِ آخر نہ سمجھا جائے بلکہ پہاڑ کی رفعت کو آسمان کی بلندی سے اور بھی نزدیک کرتی ہے اس لیے اقبالؔ کہتے ہیں :
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
٭٭٭

About admin

Check Also

سال نو نئے عزائم

سال نو نئے عزائم نئے سال کی آمد کا جشن  منایا گیا اور رسم دنیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *