Home / Literary Activities / دریائے نیل کی سیر

دریائے نیل کی سیر

دریائے نیل کی سیر

میرے دیرینہ دوست ڈاکٹر جلال السعید الحفناوی  ، قاہرہ یونیورسٹی میں اردو  کے پروفیسر اور صدر مشرقی زبانوں کے ساتھ ایک دن دریائے نیل اور  اہرامات  کی سیر کو نکلا جس کی تصویری جھلکیاں پیش ہیں ۔اس سیر میں میرے ساتھ میرے ریسرچ اسکالر مصطفیٰ علاء الدین بھی موجود تھے ۔

دریائے نیل کو شام ڈھلے بھی میں نے دیکھا اس  موقعے پر ہمارے ساتھ  نصر عبد الرحمان ، فاطمہ ماہر،فاطمہ عمر ،میار ناصر  مصطفیٰ علاء الدین  تھے ، ان کی معیت نے اس سیر تفریح کو یادگار بنا دیا۔

received_1740037522706642 received_1740039836039744 received_1740040082706386 received_1740039932706401 received_1740039522706442IMG_20180304_181834634 IMG_20180304_182029891 IMG_20180304_185335706 IMG_20180304_185419954 IMG_20180304_185843733 IMG_20180304_190205640 IMG-20180304-WA0211

:کچھ شہر قاہرہ اور دریائے نیل  کے بارے  میں

قاہرہ کا شمار   دنیا کے چند بڑے شہروں میں  ہوتا ہے ۔ قاہرہ دریائے  نیل کی کی کنارے آباد ہے ۔ یہ ندی بھی دنیا کی طویل ترین ندیوں میں سے ایک ہے ۔ دریائے نیل جہاں ایک جانب اس شہر کے حسن کو دوبالا کرتا ہے وہیں اس شہر کو قدرتی  نعمتوں سے سرفراز بھی کر رہاہے ۔دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں بھی ندیوں کی کنارے آباد ہوئی ہیں ۔ قاہرہ بھی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے  جس کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ دریائے نیل  کے متعلق اپنی باتیں کہنے سے بہتر ہے کہ ویکی پیڈیا میں جو اس کی تاریخ لکھی گئی ہے اسے حوالے کے طور پر پیش کروں :

’’دریائے نیل دنیا کا سب سے طویل دریا ہے جو براعظم افریقا میں واقع ہے۔ یہ دو دریاؤں نیل ابیض اور نیل ازرق سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ آخر الذکر ہی دریائے نیل کے بیشتر پانی اور زرخیز زمینوں کا سبب ہے لیکن طویل اول الذکر دریا ہے۔ نیل ابیض وسطی افریقا میں عظیم جھیلوں کے علاقے میں جنوبی روانڈا سے نکلتا ہے اور شمال کی جانب تنزانیہ، یوگینڈا اور جنوبی سوڈان سے گذرتا ہے جبکہ نیل ازرق ایتھوپیا میں جھیل ٹانا سے شروع ہوتا ہوا جنوب مشرق کی سمت سفر کرتے ہوئے سوڈان سے گذرتا ہے۔ یہ دونوں دریا سوڈان کے دار الحکومتخرطوم کے قریب آپس میں ملتے ہیں۔

دریائے نیل کا شمالی حصہ سوڈان سے مصر تک مکمل طور پر صحرا سے گذرتا ہے۔ جنوبی مصر میں اس دریا پر مشہوراسوان بند تعمیر کیا گیا ہے جو 1971ء میں مکمل ہوا۔ اس بند کے باعث ایک عظیم جھیل تشکیل پائی جو جھیل ناصر کہلاتی ہے۔ یہ جھیل مصر اور سوڈان کی سرحد پر واقع ہے تاہم 83 فیصد جھیل مصر میں واقع ہے جبکہ 17 فیصد حصہ سوڈان میں ہے جہاں اسے جھیل نوبیا کہا جاتا ہے۔ جھیل ناصر 550 کلومیٹر طویل اور زیادہ سے زیادہ 35 کلومیٹر چوڑی ہے۔ اس کا کل رقبہ 5،250 مربع کلومیٹر ہے جبکہ پانی کے ذخیرے کی گنجائش 157 مکعب میٹر ہے۔ مصر کی آبادی کی اکثریت اور تمام شہر اسی دریا کے کنارے آباد ہیں۔مصر کا موجودہ دار الحکومت قاہرہ دریائے نیل کے کنارے اور اس کے جزائر پر عین اس مقام پر واقع ہے جہاں دریا صحرائی علاقے سے نکل کر دو شاخوں میں تقسیم ہوکر ڈیلٹائی خطے میں داخل ہوتا ہے ۔

دریائے نیل 6،695 کلومیٹر (4،160 میل) کا سفر طے کرنے کے بعد اس ڈیلٹائی علاقے سے ہوتا ہوا بحیرہ روم میں گرتا ہے۔قدیم مصر کے تمام آثار قدیمہ بھی دریائے نیل کے کناروں کے ساتھ ملتے ہیں کیونکہ 4 ہزار سال قبل مسیح میںصحرائے اعظم کی وسعت گیری اور خشک سالی کے باعث مقامی باشندے دریائے نیل کی جانب ہجرت کر گئے جو عظیم مصری تہذیب کا پیش خیمہ بنی۔دریائے نیل میں گرنے والے اہم معاون دریا نیل ابیض اور نیل ازرق ہیں جن میں سے نیل ابیض استوائی مشرقی افریقہ اور نیل ازرق ایتھوپیا سے نکلتا ہے۔ ایک اور کم اہمیت کا حامل دریا اتبارا بھی دریائے نیل میں گرتا ہے لیکن اس میں صرف اسی وقت پانی ہوتا ہے جب ایتھوپیا میں بارش ہو۔عام طور پر جھیل وکٹوریہ کو نیل ابیض کا دہانہ مانا جاتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیل ابیض کا دہانہ روانڈا کے جنگلات میں ہے جس کے بعد یہ جھیل وکٹوریہ سے سفر کرتا ہوا یوگینڈا میں اس کا ساتھ چھوڑدیتا ہے۔ 500 کلومیٹر کے سفر کے بعد یہ جھیل کیوگااور بعد ازاں جھیل البرٹ پہنچتا ہے جس کے بعد یہ سوڈان پہنچتا ہے۔ اس مقام پر یہ بحر الجبل (یعنی کوہستانی دریا) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بحرالغزال کے ملاپ کے بعد یہ دریا بحر الابیض یعنی سفید دریا کہلاتا ہے جسے دنیا نیل ابیض کے نام سے جانتی ہے۔نیل ازرق ایتھوپیا کے پہاڑوں میں واقع جھیل ٹانا سے نکلتا ہے۔ یہ 1400 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد ]‘‘سوڈان کے دار الحکومتخرطوم کے قریب نیل ابیض میں مل جاتا ہے اور دریائے نیل تشکیل دیتا ہے۔‘‘ ویکی پیڈیا [ اردو ورژن

:اس ندی کے متعلق ایک مشہور واقعہ  بھی ہے جس کا ذکر دائرۃ المعارف  نے اس طرح  کیا ہے

’’جب مصر فتح ہوا تو اہل مصر نے فاتح مصر حضرت عمرو بن عاص سے کہا کہ ہمارے ملک میں کاشتکاری کا دارومدار دریائے نیل پر ہے، ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ ہر سال ایک حسین وجمیل کنواری لڑکی دریا میں ڈالی جاتی ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو دریا خشک ہو جاتا ہے اور قحط پڑ جاتا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص نے انہیں اس رسم سے روک دیا۔ جب دریا سوکھنے لگا تو حضرت عمرو بن عاص نے یہ واقعہ خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر فاروق کو لکھ بھیجا۔ جواب میں حضرت عمر نے تحریر فرمایا کہ دین اسلام ایسی وحشیانہ وجاہلانہ رسموں کی اجازت نہیں دیتا اور آپ نے ایک خط دریائے نیل کے نام لکھ بھیجا اور اسے دریا میں ڈالنے کی ہدایت کی۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:

”بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد وقہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کردے“یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ابھی ایک رات بھی گذرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔(بحوالہ: البدايہ والنہايہ ،مؤلف: ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن كثيرناشر: دار حياء التراث العربی)

دریائے نیل  کے ساحلوں پر  واقع یہ تہذیب  آج بھی دنیا پر اپنی تابندگی   بکھیر رہا ہے ۔ اس کی اصل وجہ ہے یہاں کے لوگوں کا اپنی تہذیب اور وراثت کے تئیں  لگاؤ اور پیار ہے۔مصرکو دنیا میں امتیاز حاصل ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ دریائے نیل اورملک کو  کم از ساری دنیا کے مسلمان اس لیے بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر قرآن کریم  بھی ہے ۔ کئی انبیاء کا مسکن  بھی یہ سر زمین رہ چکی ہے۔ جید صحابۂ کرام جیسےحضرت صلاح الدین ایوبی، حضرت  عبد العزیز بن عمر،  حضرت ابو دردا  ، فاتح مصر حضرت عمرو بن عاص کے علاوہ کئی صوفیائے کرام ،علمائے کرام  اور دانشوروں نے  اس سر زمین کو  منور اور سرفراز کیا ہے۔

میں نے بھی بچپن سے ہی اس ملک اور ندی کا ذکر سن رکھا تھا بڑی خواہش تھی کہ اس  ملک کو دیکھ سکوں سو اللہ نے میری مراد پوری کی اور الحمد اللہ مارچ 2018 میں  شہر قاہرہ کو دیکھنے کا موقع ملا ۔

اہرامات مصر کی چند تصاویر

received_1740040472706347 received_1740043139372747 received_1740044006039327 received_1740044242705970 received_1740044342705960 received_1740045646039163 received_1740047522705642 received_1740050176038710 received_1740051146038613 received_1740052229371838 received_1740056659371395 received_1740057416037986

About admin

Check Also

اردو زبان و ادب اور ہندستانیت

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ہندستانی زبانوں کا مرکز ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *