Home / Socio-political / سلمان تاثیر بے قصورتھے

سلمان تاثیر بے قصورتھے

 سلمان تاثیر بے قصورتھے


،  تحریر:انعام الحق پاکستان

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔جب سے دُنیا بنی ہے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ظالم کا راج زیادہ عرصہ نہیں رہا کیونکہ عروج کوزوال ضرور آتا ہے۔وقت اےک ایسی چیز جس کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔بڑے بڑے بادشاہ،شہنشاہ اپنی جائیدادیں دے کر بھی اپنی زندگی نہیں بچا سکے۔اللہ تعالیٰ کے نظام کے خلاف چلنے والوں کو سزا ضرور ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم ہے اورزمین پر اشرف المخلوقات کے آپس میں اےک دوسرے پر رحم کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔مگر ہماری قوم اس وقت اللہ تعالیٰ کو بھولی ہوئی ہے اورتوہین رسالت کے نام پر قتل وغارت کا سلسلہ شروع کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو اسلام کے حقیقی معنی تک نہیں پتہ۔اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق دین میں کوئی جبر نہیں۔تو پھر یہ کہاں کا دین ہے کہ تلوار کے زور پر اسلام منوایا جائے؟گورنر پنجاب سلمان تاثیر شہید نے انسانیت کی خاطر قربانی دی۔اُن کا مقصد اُن کا عزم پاکستان کی اقلیتیوں کو تحفظ دینا تھا،اُن کا مقصد ہر گزرسول پاک ﷺ کی توہین کرنا نہیں تھا۔نہ وہ یہ چاہتے تھے کہ عیسائی برادری یا کوئی رسول پاک ﷺ کی توہین کرے۔اُن کا مقصد یہ تھا کہ جو اس بات سے واقف نہیں کہ پاک محمد مصطفی ﷺ سب نبیوں کے سردار اوراعلیٰ شخصیت تھے اُنہیں بتایا جائے اوراُن کی نسلوں کو اس بات کی تعلیم دی جائے کہ محمد مصطفی ﷺ اللہ کے آخری نبی تھے۔مگر ہمارے ملک میں دین کی تعلیم دینے والوں کے دماغ اُلٹ ہیں۔خدا رسول کے حکم کی تعمیل خود تو کرتے نہیں دوسروں پر نظر رکھتے ہیں کہ کوئی رسول پاک ﷺ کی توہین نہ کرے،اگر کوئی توہین رسالت کرے تو اُس کا سر قلم کرنے کےلئے تیار رہتے ہیں۔
 اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اےک اللہ کو ماننے والے نے دوسرے ماننے والے کو قتل کیا اور عوام کے اےک گروح نے اُسے قومی ہیرو بنا ڈالا،سب اُس کے نام کے نعرے بلند کر رہے ہیں،اُسے گلاب کے پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے ہیں،ریاست میں انصاف دلوانے والے اُس کے لئے فری کیس لڑنے کو تیار کھڑے ہیں،دین کی تعلیم دینے والے مقتول کا جنازہ پڑھنے والے کو بھی توہین رسالت کا مرتکب ٹھہرا رہے ہیں۔اگر ایسا سلسلہ چلتا رہا تو جس کا دل چاہے گا وہ اپنے دشمن پرتوہین رسالت کا الزام لگائےگا اور اُس کا سر قلم کر دیگا۔جب بازاروں میں ایسے بینرز لگے ہوں جن پر لکھا ہو©©”گستاخِ رسول کی سزا،سر تن سے جدا“تو اس صورت میںاےک دوسرے سے دشمنی کا بدلہ لینے کا کا م آسان ہو جائے گا۔پھر ہمارے ہاں رواج کُچھ ایسا ہے کہ بغیر تصدیق کے بات پر یقین کر لیا جاتا ہے اور اکثر تو لوگوں کو بلاوجہ سزا ملتی ہے جو قصور وار نہیں ہوتے وہ بھی رگڑے جاتے ہیں۔شہید سلمان تاثیر تو اُن سب بے گناہوں کی لڑائی لڑنا چاہتے تھے، وہ تو انصاف دینے والوں میں سے تھے نا انصافی کرنے والوں میں سے نہیں۔پنجاب حکومت کی وجہ سے پہلے بھی کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جو انتہائی افسوس ناک اور غیر انسانی واقعات تھے مگر شریف برادران انتہائی بے حس ہوکر کرسیوں سے چمڑے بیٹھے ہیں۔سلمان تاثیر پر پیٹھ پیچھے سے حملہ کرنے والے بزدل کا تعلق کس گروپ سے نکلتا ہے یہ توتحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی پتا لگے گا۔مگر اس بات کا واضح کرنا ضروری ہے کہ سلمان تاثیرکا بے دردانہ قتل پوری دُنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکر ہے۔کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جب جسکا دل کرے اُٹھے اورتوہین رسالت کے نام پر کسی دوسرے مسلمان کو قتل کر دے؟غور کیجئے

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *