پاکستان کا قیام بقول قائد اعظم محمد علی جناح معاشی بنیادوں پر عمل میں آیا تھا نہ کہ مذہبی بنیادوں پر۔ ہر چند کہ قیام پاکستان کے اس نظریے سے اکثر مورخین یا قائدین اتفاق نہیں کرتے لیکن پاکستانی عوام کے حق میں یہی بہتر تھا کہ اول الذکر نظریے کو درست مانتی اور پاکستان کو اپنے لئے خدا کا عطیہ مان کر اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہیں تلاش کرتی۔ بد قسمتی پاکستان کی یہ رہی کہ اس کے اپنے ہی لوگ قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان کو مذہبی بنیادوں پر قائم ملک تسلیم کرنے اور کروانے کے لئے کوشاں ہو گئے اور بہت جلد اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہو ئے۔ رفتہ رفتہ ملک مصنوعی مذہبی شناخت کی تلاش میں سرگرم ہو گیا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وسائل کی حقیقت کو درکنار کرتے ہوئے ملک میں جغرافیائی سرحدوں سے الگ نظریاتی سرحدوں کی بات کی جانے لگی۔ نتیجہ وہی ہوا جس کا اندازہ بہت سے لوگ پہلے سے ہی لگا رہے تھے یعنی پاکستان بتدریج ایک ایسے ناسور کا شکار ہو گیا جس کا علاج اب ان کے پاس بھی نہیں ہے جن کے ہاتھوں اس ملک کو یہ ناسور ملا تھا۔ معاشی اور اقتصادی بنیادوں پر بنایا گیا یہ ملک اب معاشی اور اقتصادی دیوالیہ پن کے قریب پہونچ چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ خود پاکستان کے سرمایہ دار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتےجبکہ سیاسی اور فوجی رہنما سب سے پہلے پاکستان سے باہر برطانیہ، امریکہ یا کسی عرب ملک میں مکان خریدنے کی فکر کرتے ہیں تاکہ وہ مکان ہنگامی حالات میں جائے پناہ یا گوشئہ عافیت کے طور پر استعمال کیا جا سکے ۔اس لئے کہ جو کھیل پاکستان میں یہ حضرات کھیل رہے ہیں اس کا انجام بھی انہیں بخوبی معلوم ہے۔
پاکستان کے دیگر خطوں کی طرح اس کے معاشی دارالحکومت میں بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے اور رفتہ رفتہ مختلف گروہوں اور پارٹیوں کے مفادات نے اسے ایک ایسا شہر بنا دیا ہے جہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ مہاجر ، سندھی، بلوچ اور پختونوں کے نام پر یہاں مفادات کی وہ جنگ لڑی جا رہی ہے جس میں عوام خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسی حالت میں کیسا کاروبار اور کیسی معیشت؟
کراچی میں امن و امان کی اسی صورت حال کو جب عدالت عظمی نے دیکھا تو اسے اپنے عبوری فیصلے میں کہنا پڑا کہ کراچی میں طالبان کی موجودگی کو اس طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کی باضابطہ جانچ ہونی چاہئے۔ اس فیصلے میں ایک اور بات چونکانے والی یہ تھی کہ طالبان سے جڑے ہونے کے شک میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا انھیں پیرول پر رہا کر دیا گیا جس پر عدالت نے بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ معاملہ پھر انتظامیہ کے ہاتھ میں آیا اور بجائے اس کے کہ اس پر کارروائی کی جائے شرجیل میمن جیسے لوگ اسے ارباب غلام رحیم کے دور کی غلطیاں کہہ کر اس سے اپنا دامن بچا رہے ہیں تو دوسری طرف دیگر سیاسی جماعتیں اور اس سے جڑے لوگ اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں مشغول ہیں۔ ایسے میں بس ٹیلی ویژن پر مباحثے تونشر ہوتے ہیں لیکن متاثرہ علاقوں میں کوئی کارروائی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ قائد اعظم کا پاکستان اور شہر قائد اپنے وجود پر آنسو بھی نہیں بہا سکتا کہ اس سے اپنی ہی رسوائی ہوگی ۔ لیکن حیف اس ملک کے قائدین ہنوز اس کی بوٹیاں نوچنے میں مشغول ہیں۔
Dr. Khwaja Ekram Prof. Dr. Khwaja Mohd Ekramuddin