Home / Socio-political / عروس البلادکراچی شہر خوں ریز بن گیا

عروس البلادکراچی شہر خوں ریز بن گیا

 

 عروس البلادکراچی شہر خوں ریز بن گیا

          پاکستان کی حکومت گذشتہ تین چار مہینے سے اس فکر میں ہے کہ کس طرح ہندستان کو کشمیر کے نام پر گھیرا جائے۔ کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے جہاں سے پاکستان نے یہ آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کی کہ ہندستان کشمیر میں حقوق انسانی کو پامال کر رہا ہے اور وہاں شہریوں کو کسی بھی طرح کا انسانی اور اخلاقی حقوق بھی حاصل نہیں کہ وہ زندگی گزار سکیں۔یہ بات ضرور ہے کہ کشمیر کے حالات گذشتہ تین چار مہینے سے معمول پر نہیں ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں اور ان میں سے ایک بڑی وجہ پاکستان کی بے جا مداخلت بھی ہے۔ لیکن ابھی میں کشمیر کے حوالے سے کوئی بات نہیں کہنا چاہتایہ تو بر سبیل تذکرہ بات اس لیے آگئی کہ پاکستان جو صرف بغض معاویہ میں موقع ملتے ہی کشمیر اور انسانی حقوق کی باتیں کرتا ہے وہ اب خود اپنے شہریوں کی حفاظت اور بے دریغ خو ں ریزی پر انسانی حقوق کی پامالی کی باتیں کیوں نہیں کرتا۔ وہ ملک جو دوسروں کو نشانہ بناتا ہے وہ ملک خود اپنے ملک میں امن و سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ کیوں نہیں ہے۔ابھی پاکستان کی حالت یہ ہےکہ صوفیوں کے دربار ، مسجدیں اور خود ان کے آشیانے کہیں بھی تو لوگوں کو سکون نصیب نہیں ہے۔ اب تک تو لوگ دنیا کے ہنگاموں سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر مسجدوں میں پناہ لیےلیتے تھے ، لیکن اب توایک اسلامی ملک میں لوگوں کو مسجدوں میں بھی پناہ نصیب نہیں ہے کیونکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے لیے اب تو مسجد سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں جہاں آسانی سے خدا کے حضور سر جھکانے والوں کا خون بہایا جا سکے۔ اس صورت حال کو لکھتے ہوئے بھی یہ کہیں سے یقین نہیں ہوتا کہ کسی اسلامی ملک میں اور اسلام کے ماننے والے مسلمانوں کو مسجدوں میں اپنی دہشت گردی کانشانہ بنائیں گے۔ لیکن یہ حقیقت ہے لوگ اس کو تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ اپنی آنکھوں سےایسے واقعات کو دیکھ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہےکہ مسجد وں یا صوفیوں کے دربار میں جانے والوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔ ایک اسلامی ملک میں مسجدیں اگر دہشت گردوں کی وجہ سے سنسان ہو رہی ہوں تو اس سے بڑھ کر اور کون سا المیہ ہو سکتا ہے؟ کاش پاکستان دوسروں پر چھینٹا کشی کر نے کے بجائے اپنی حالت پر غور کرے اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ انسانی حقوق کی جو پامالی خود اس کے ملک میں ہورہی ہے اس پرتوجہ دے۔

 کراچی کے تازہ ترین حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ”گلف نیوز“نے لکھاہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعدارواں سال پاکستان بھر میں خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد سے کہیں زیادہ ہے اخبار نے مزیدلکھاہے کہ رواں سال پاکستان میں335خودکش دھماکوں کے واقعات میں1208افرادجان بحق ہوچکے ہیں جبکہ صرف کراچی میں اسی عرصے میں 1233افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیاہے۔ اور پاکستان کے ایک سیاسی مبصر نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ :” منگل19 اکتوبرکی صبح سے شام تک شہر کراچی میں کھیلی جانے والی آگ و خون کی ہولی کی نظر ہونے والے نہتے اور معصوم انسانوں کی ہلاکتوں کی تعداد 32تک پہنچ چکی تھی اِن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جواِسی روز شام کے وقت شیر شاہ کی کباڑ مارکیٹ میںپیش آنے والے سانحہ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے اگر چہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کا امن و سکون ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور عالمی سازش کے تحت تباہ اور برباد کیاجارہاہے مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے حکمران یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیارکیوں کئے ہوئے ہیں …..؟؟وہ کراچی میں قتل و غارت گری کے گرم ہوتے بازار کو ٹھنڈاکرنے کے لئے کیوں سنجیدہ نہیں ہیں اور کوئی ایسا سخت قدم کیوں نہیں اٹھارہے ہیں کہ جس سے شہر کراچی کا امن بحال ہوسکے اور یہاں کی رونقیں دوبالا ہوجائیں۔مگر معلوم نہیں کیوں اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی مسلمان بھائی کا خونِ ناحق بہانے میں آج فخر محسوس کررہے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں کسی کے گھر کا چراغ گل کر کے ہم ا پنے سینے پر کونساکاتمغہ لگارہے ہیں یہ تو ہمیں خود بھی نہیں معلوم کہ ہم ایساکیوں کررہے ہیں بس کسی کو مار نااور اذیتیں دینا اَب ہمارا مشغلہ بن گیاہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں رتی برابر بھی کمی کا احساس نہیں ہوپایاہے جوں جوں وقت گزرتاجارہاہے اِس میں مزیدشدت آتی جارہی ہے اِن سطور کے رقم کرنے تک اور خبروں کے مطابق کراچی میں جاری حالیہ قتل و غارت گری اور پرتشدت کارروائیوں کے دوران90سے زائد نہتے اور بے گناہ معصوم انسانوں کی ہلاکت عمل میں آچکی ہے اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کے اطلاعات اور واقعات سمیت نجی اور سرکاری املاک کو جلاو اور گھیراوکے سبب کروڑوںروپے کے ہونے والے نقصانات سے نہ صرف کراچی میں بسنے والا ہر فرد غمگین ہے بلکہ اِن سانحات پر پوراپاکستان افسردہ ہے اور یہ کہنے اور سوچنے پر مجبور ہے کہ کیاشہرکراچی میںحکومت اور قانون نام کی کوئی چیزنہیں ..!!!جو اِن درندوں کو لگام دے سکے، جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے سبب شہرکراچی کے معصوم انسانوں کو بے دردی سے گولیوں کا نشان بناکر اِنہیں موت کی نیدس لاکر قبر کی آغوش میں دے رہے ہیں اور کراچی کے محب وطن شہریوں کے خونِ مقدس سے سرزمینِ پاک کے زرے زرے کو رنگ رہے ہیں۔“ان تمام حالات کا پیش خیمہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمران اپنی اپنی سیاسی مصالحتوں کا شکار ہیں اوراِسی وجہ سے شہرکراچی کی گلی کوچوں بازاروں اور چھوٹی بڑی شاہراہوں پر قاتل اپناسینہ چوڑاکئے دندناتے پھررہے ہیں اور اِنہیں پکڑنے اور سزادینے والا کوئی نہیں ہے اور حکمران دانستہ طور پر اِن ٹارگٹ کلنگ کرنے والے عناصر کے آگے بے بس اور مجبور ہوکر اپناسرکھجاتے اور سینہ کوبی کرنے کے سوااور کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔

          اس تناظر میں عالمی اخبار کی مدیر نے لکھاہے کہ ” کراچی کے دن بدن ابتر ہوتے حالات اور بگڑتی ہوئی صورت حال نے کراچی کی رونقیں ماندکردی ہیں ڈھیڑکروڑ سے بھی زائد آبادی والے اِس شہر کراچی کو جِسے منی پاکستان کہاجاتاہے اور جو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے بھی بین الاقوامی حیثیت کا حامل شہر ہے پاکستان کا معاشی حب ہے اِس شہر کا امن ملک کے مجموعی امن و امان سے تعبیر کیاجاتاہے اور جب یہاں کی امن و امان کی صورت حال کو ملک دشمن عناصر اپنی گھناونی کاررواوں سے نقصان پہنچاتے ہیں تو اِس سے پوراپاکستان متاثر ہوجاتاہے اِس شہر کی ایک دن کی بندش سے ملک کو اربوں کھربوں کا نقصان ہوتاہے۔یہاں مجھے کہنے دیجئے کہ بدقسمتی سے اِس شہر ِعظیم کے امن و امان کو ملک دشمن عناصر سپوتازتوکرہی رہے ہیں مگر اِن کی پست پناہی کے سبب ہمارے چندناسمجھ لوگ بھی شہرکراچی کے امن اور سکون کو خراب کرنے کے درپے ہیں یہ وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ناانصافی کا شکار ہوئے ہوں گے۔۔ ؟ صوبہ سندھ جہاں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اس صوبے کا سربراہ وزیر اعلیٰ سجدہ شکر ادا کرنے کے لیئے عمرہ کرنے گیا ہوا ہے.اسی کو تو کہتے ہیں کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا.آج کے تناظر کراچی جل رہا ہے اور حکام سکون میں ہیں۔ “

          ابھی دنیا بھرمیں جن ممالک کو اس اعتبار سے جانا جاتاہے کہ وہاں ہر روز خون خرابے ہوتے ہیں اور کسی کو اس کا یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ کل کی شام دیکھے گا یا نہیں۔ ان ممالک میں اب پاکستان کا بھی شمار ہونے لگا ہے۔ عراق اور افغانستان سے پاکستان کاتقابل اور موازنہ کیا جا رہاہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ ابھی اعداد و شمار کے لحاظ سے جتنی خو ں ریزی افغانستان اور عراق میں نہیں ہورہی ہے ، اس سے کہیں زیادہ پاکستان میں ہر روز خود کش دھماکے اور ہلاکتیں ہورہی ہیں۔حیرت ہے کہ پاکستان کی حکومت کس فکر اور کس نہج پر چل رہی ہے چلی جیسے چھوٹے ملک سے بھی سبق نہیں لیتا۔ چلی جہاں سونے کی کان میں پھنسے 31 لوگوں کو نکالنے کے لیے اس نے جتن کر کے زمین کے اندر دھنسے لوگوں کی جانوں کو بچا لیا ، جن کے بچنے کی امید نہیں? تھی۔ مگر پاکستان جس کے پاس ایٹمی اور جوہری ہتھیار بھی ہے اور دنیا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کرتا رہتا ہے وہ اپنے شہریوں کوتارگیٹ کلنگ سے بھی نہیں بچا سکتا۔ اپنے شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتا؟ تو اس پر یہ سوالیہ نشان ضرور لگتا ہے کہ ایسے ملک میں فوجی بجٹ کے اضافے اور ایٹمی ہتھیار کو جواز کیا ہے ؟ جو اپنے شہروں کو سناٹے میں تبدیل ہونے سے بھی نہیں بچاسکتے۔

٭٭٭٭

 

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *