آسٹریلیا کی ناعاقبت اندیشی
صرف ہندستان کے لیے بلکہ خود آسٹریلیا کے لیے بھی باعث تشویش ہوناچاہیے کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی حرف آئے گا۔اور خود آسٹریلیا کے حوالے سے دوسرے ممالک کے طلبہ بھی اب وہاں تعلیم مکمل کریں یا نہ کریں یہ انھیں سوچنا پڑے گا بلکہ سوچ بھی رہے ہوں گے۔
ہندستان کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنے کی ضروت ہے اور واضح لفظوں میں یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ جب ہمار ے شہری ہی تمہارے ملک میں محفوظ نہیں تو سفارتی تعلقات بے معنی ہے۔
Dr. Khwaja Ekram Prof. Dr. Khwaja Mohd Ekramuddin
آسٹرلیا کے عام شہری اتنے متعصب نیکلیں گے یہ تو پہلے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اور کوئی بھی حکومت اپنے عوام سے بہت زیادہ الگ نہیں سوچتی جب تاک کوئی خاص مفاد نہ ہو۔ آپ نے درست فرمایا کہ ہندوستان کو کوئی سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
واقعی جب اپنے ملک کے شہری ہی اس ملک میں محفوظ نہیں تو سفارتی تعلقات بے معنی ہے۔