Home / Articles / نیا سال مبارک

نیا سال مبارک

نئے مسائل اور نئے  امکانات

کے ساتھ

نیا سال مبارک


Dr.Khwaja  Ekram

نئے سال کی آمد آمد ہے اور ہر جانب جشن کا ماحول ہے ۔ساری دنیا میں لوگ اس موقعے کو نئے انداز سے منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ اس تیاری میں اصراف بے جا کے بھی امکانات بے شمار ہیں ۔ اگر ان تمام اخراجات کوجوڑا جائے جسے اس خاص موقعے پر دنیا خرچ کرے گی تو ایک عام قیاس کے مطابق اس صرفے سے کسی ایک ملک کی غریبی دور کی جاسکتی ہے ۔ لیکن ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ اس کا امکان ہے۔ کیونکہ ہر جانب ابھی سے ہی مبارک باد دینے کی ہوڑ لگی ہوئی ۔ مختلف اشتہارات اور رنگ و نور کی جو محفل سجائی جائے گی اسی سے دنیا کے غریب بچوٕں کے لیے کتابیں خریدی جاسکتی ہیں ۔ لیکن اس جشن کے ماحول میں کون انسانی مجبوریوں کو سمجھتا ہے اور کسے فکر ہے؟کاش اس نئے سال میں کوئی عالمی سطح پر یہ تحریک چلا سکے کہ اس برس نہ سہی آنے والے برس میں کوئی ایسی جشن کی تقریب نہیں منائی جائے گی ، بلکہ اسی تقریب کے اخراجات کو ان لوگوں پر خرچ کیا جائے گا جو گذشتہ سال کسی ناگہانی آفت کے شکار ہوئے ہیں ۔کاش کوئی اٹھے ۔ ہم نے تو آواز بلند کر دی ہے لیکن مجھے معلوم ہے یہ آواز نقارے خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہے ۔
جہاں تک جشن کے ماحول کا تعلق ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ 25 دسمبرکو کرسمس منایا جاتا ہے ، اس وجہ سے بھی پوری دنیا میں جشن کا سماں رہتا ہے اور نئے سال کی آمد تک یہ ماحول خوشیوں میں ڈوبا رہاتاہے۔مجھے یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ ہندستان میں اور پڑوسی ملکوں میں بھی  ہر جگہ لوگ کرسمس مناتے ہیں ۔ لیکن ان منانے والوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو یہ معلوم نہیں کہ کرسمس کیا ہے ؟ لیکن ہمارے میڈیا اور اقتصادی اداروں نے اسے ایسا رنگ دیدیا ہے جیسے یہ کوئی خاص فرقے کا تہورا نہیں ہے ۔ اسے دیکھ کر اکثر یہ محسوس کرتا ہوں کہ کاش ہمارے تہواروں کو بھی اسی طرح دیکھا جاتا اور کسی تعصب کے بغیر لوگ عید کی خوشیاں مناتے ۔ مگر جب ہمارے اپنے تہوار ہوتے ہیں تو لوگ اسی کسی اور نظریے سے دیکھتے ہیں۔ان باتوں کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اس کرسمس کا مخالف ہوں لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح کرسمس کو ہم مناتے ہیں اسی انداز سے ہندستانی تہواروں یعنی  عید ،  ہولی ، دیوالی وغیرہ کو  بھی منایا جانا چاہیئے۔ کاش ایسا دن بھی آئے کہ ان تہواروں کو مناتے ہوئے  بھی مشترکہ تہذیب کو  پیش کر سکیں۔
جہاں تک نئے سال کے جشن کی بات ہے تو یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کہ نئے سال کے جشن کا کیا مطلب ہے ۔ یہ تو محض ہم نے اپنے دنوں کو سمجھنے اور اس کے شمار کے لیے بنایا ہے ۔ اس دن کوئی خاص بات تو نہیں کہ اسے جشن میں تبدیل کر دیا جائے۔ میں نے اپنے طور پر بہت معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آخر نئے سال کے جشن کی ابتدا کیسے اور کب ہوئی ؟لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا اور جشن منانے کی روایت بہت قدیم ہے ۔ ظاہر ہے کسی قدیم روایت پر بات کرنی یا اس کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرنا لوگوں کے عتاب کے شکار ہونے کے مترادف ہے۔مگر میں کسی کو ناراض کیے بغیر صرف غور وفکر کرنا چاہتاہوں کہ اگر اسے منایا جائے تو کوئی نیا انداز اختیار کیاجاسکتاہے؟ کیا اسے سال گذشتہ کے کے احوال و کوائف کو سامنے رکھ کر منا سکتے ہیں ۔ بہتر تو یہی ہوتا کہ اسے سال گذشتہ کے احتسا ب کے طور پر مناتے ۔ ممکن ہے ایسا کرنے سے کئی سال تک سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے کیونکہ جب ہم اپنے گزرے ہوئے ایام پر نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ پردازی ، بد عنوانی ، لوٹ کھسوٹ کے کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے میں جب ہم اپنے سود زیان پر نظر ڈالیں گے تو غم وغصہ کی ہی کیفیت حاوی ہوگی ۔ لیکن جب یہی روایت کا حصہ بن جائے گی تو ہم سود و زیان کے ذمہ داروں کی گرفت بھی کرنے کی سوچیں گے اس طرح رفتہ رفتہ وہ لوگ جب سر عام بے نقاب ہوں گے اور لوگوں کے عتاب کے شکار ہوں گے تو عین ممکن ہے نئے سال منانے کی روایت کچھ نفع کا سامان بن سکے گی۔ ورنہ ظلم واستحصال اور جبر استبداد کے اس ماحول میں بھلا ہم جشن کیوں کر اور کیسے منائیں؟

اس نئے سال میں  جب ہم  اپنے ملک کی جانب نگاہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں کچھ ایسا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے جشن منایا جائے ۔ کیونکہ جشن اور خوشی کا ماحول تو اسی وقت بنتا ہے جب ہر طرف خوشحالی اور امن و مان ہو ۔ لیکن یہاں تو بد حالی اور کرپشن نے لوگوں کا جینا محال کر رکھا ہے ۔ حکومت اپنی کرسی بچانے کے لیے طرح طرح کی شعبدہ بازیوں میں مصروف ہے او ر دیگر سیاسی پارٹیاں جو حکومت بنانے کی فکر میں ہیں وہ عوام کو گمراہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔ ملک میں کرپشن کے خلاف تحریک چل رہی ہے لیکن یہ تحریک بھی  سیاست اور مفاد کی نذر ہوگئی ۔ تمام ہنگاموں کے بعد لوک پال بل لوک سبھا میں پاس ہوگیا لیکن راجیہ سبھا میں پاس نہیں ہوسکا۔ یہ بات تو پہلے سےمعلوم تھی کہ ایسا ہونے والا ہے لیکن  یہ  نہیں معلوم تھا کہ سیاسی پارٹیاں اتنی شعبدہ باز ہیں اور ان کے ایک چہرے پر  کئی چہرے ہیں۔ ان کی زبان پر کچھ دل میں کچھ اور پارٹی کے منشور میں کچھ ۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے جس طرح کانگریس کے خلاف متحد ہوکر  یہ ظاہر   کرنے میں لگی ہوئی تھیں کہ کسی طرح یہ حکومت بد نام ہوجائے ، سو حکومت تو بدنام ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تمام سیاسی پارٹیان بھی بے نقاب ہوگئیں اور انا ہزارے  بھی بے نقاب ہوئے ، ان کے ساتھی بھی رفتہ رفتہ بے نقاب ہورہے ہیں ۔ اب بدلتے  وقت کے ساتھ ساتھ  یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ لوک پال اور کیا کیا رنگ دیکھاتا ہے ؟

ادھر پانچ ریاستوں میں  الیکشن کے مد نظر  حکومت نے مسلمانوں کو خوش کر نے کے لیے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا ہے مگر یہ محض فریب اور دھوکہ ہے ۔سیاسی پارٹیاں جب اس طرح کا فریب دینے میٕں مصروف ہوں تو بھلا کیسے ہم  نئے سال کا جشن منا سکتے ہیں ، جبکہ مسلمان اس ملک میں اقتصادی، سماجی اور تعلیم اعتبار سے بہت کمزرو ہیں تو پھر اس ملک کی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کی حالت بہتر کرنے کی سمت میں قدم کیوں نہیں اٹھاتیں ؟ مسلمان اس ملک میں دورسی بڑی اکثریت ہیں ، اگر یہ قوم خوشحال نہیں ہوگی تو ملک کیسے خوشحال ہوگا؟ کیا اس سمت کوشش کرنے والا کوئی نہیں ؟ کیا  مسلمان اسی طرح ہر نئے سال میں نئی امیدوں  کے ساتھ زندگی ماہ وسال گزارتے رہیں گے۔

اس ملک میں دہشت گردی بھی ایک بڑی مصیبت ہے ۔ایک طرف نکسل دہشت گردی ہے تو دورسری جانب  ہندو دہشت گردی اور  اور مسلم دہشت گردی ، جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہوتا کیونکر ہم اس ملک میں کوئی جشن منا سکتے ہیں ۔اسی طرح تعصبات اور  مذہبی و ملکی تعصبات بھی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے ، جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہم کیسے کوئی خوشی منا سکتے ہیں ؟

åاس نئے سال میں یہی وہ اہم مسائل ہیں جن کو اگر ہم  حل  کر لیتے ہیں تو ہمارے پاس جواز ہے جسن منانے کا بلکہ ایسا جشن منانے کو جسے ہم ہر نئی صبح کے ساتھ منا سکتے ہیں ۔

****

About admin

Check Also

اردو غزل کے چند نکات

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین  اردو غزل  کے چند  نکات دنیا کی تمام زبانوں میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *