Home / Socio-political / واہ کیا بات ہے!

واہ کیا بات ہے!

واہ کیا بات ہے!

 

اے حق۔لندن

سبھی ایک جیسے بھی نہیں ہوتے اور سبھی اچھے بھی نہیں ہوتے۔اگر یہ کہا جائے کہ ساری خرابی کی ذمہ دار عوام ہے تو یہ بھی درست نہ ہوگا اور اگر کہا جائے کہ سبھی حکمران کرپٹ ہیں اور عوام دشمن ہیں اور اپنے پیٹ بھرنے آئے ہیں تو شایدغلط نہیں بلکہ سچ ہے۔واقعی سبھی اپنا پیٹ بھرنے آئے ہیں۔اگر کسی کو عوام کی پرواہ ہوتی تو یقینا عوام کو دووقت کی روٹی ضرور نصیب ہوتی۔عوام کو اپنا سچا پن دیکھانے کے لئے اداکاریاں کرنا ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا اسٹائل ہے۔یاد رہے سٹائل نہیں ”اسٹائل“!آج کل یہ اسٹائل میاں نواز شریف نے اپنایا ہوا ہے۔اپوزیشن میں ہونے کے باوجود حکومت کو ڈھیل دینا اور مزید کرپشن اور لوٹ مار کا موقع دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حصہ تو آخر ان کا بھی کُچھ نہ کُچھ تو ضرور ہوگا۔پاکستانی سیاسی دنگل میں کیا کُچھ ہو رہا ہے اس بارہ میں کسی نے کیا خوب خوب اور بہت خوب لکھا ہے۔

         وزیرا عظم گیلانی :

جناب میاں بس کر دیں سر گرمیاں

اتنی سختی نہ کریں پھر سے دیکھائیں نرمیاں

میاں نواز شریف :

پہلوان تو میں بھی نہیں اور بلا وجہ میں بھی نہیں گھُل رہا

فرینڈلی آپوزیشن کا داغ بھی دھوئے نہیں دھل رہا

اگر ہم بھی چلے ہوئے کارتوس نکلے تو کون دوبارہ آزمائے گا

یہ وقت تو چلا جائے گا یہ داغ پھر نہیں جائے گا

وزیرا عظم گیلانی :

آپ نے جو سُنایا ہے میں دس نکاتی ایجنڈا

ہمیں تو لگ رہا ہے یہ سیدھا سیدھا ڈنڈا

کرپٹ وزیروں پر انتخابی ہونجا فرماﺅں کیسے

تریسٹھ سال کا گند،پنتالیس دنوں میں مکاﺅں کیسے

میاں نواز شریف :

ہم تمارے لئے مر گئے تم ہمیں نہیں جانتے

کیا کریں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے

اس صورتحال میں وقت کی نزاکت کو دیکھیں

یہ ہماری ڈیوٹی نہیں کہ حکومت کی ہر چوٹ کو سیکیں

وزیرا عظم گیلانی :

ہمیں چھوڑ کر کسی اور طرف بھی دیہان دیو

بس کرو میاں صاحب اب غصہ جان دیو

شروع شروع میں آپ ہر معاملے میں الگ تھلگ رہے ہیں

اب تو میاں کم اور مولا جٹ زیادہ لگ رہے ہیں

ہمارا سارا اعتماد پکڑ کے کر دیا پھیتی پھیتی

باوا لوکو آپ سب نے کوئی کھٹ نہیں کیتی

میاں نواز شریف :

میرے انتقام کی آگ کو آپ خود جگاتے ہو

مجھے ساڑنے کے لئے ق لیگ سے یاریاں لگاتے ہو

پھر چاہے دس نمبری کی جگہ سو نمبری نکات دیں

مشورہ ہے کہ پہلے اینٹی ق،اینٹی مشرف میڈیسن لیں

وزیرا عظم گیلانی :

ہم پر الزام لگا کر ن لیگ کے دل ہی نہیں بھرتے

آپکے بندے ڈراموں میں کپتی ساس کا رول کیوں نہیں کرتے

میاں نواز شریف :

بڑے بڑے مگر مچھوں پر تو ہتھ پانا پڑے گا

میرا ایجنڈا نہ مانا گیا تو پھر گھر جانا پڑے گا

کوئی مت کی بات کہیں تو آپکے بندے لڑنے کو پڑتے ہیں

تاثیر کیس میں ہمارا نام ڈلوانے کی کوشش کرتے ہیں

وزیرا عظم گیلانی :

آپکی طرف سے ہر روز یوں ایجنڈا آتا ہے

جیسے مرغی کی طرف سے ڈیلی انڈا آتا ہے

جتنا بڑا پتنگ باز ہے اُس کے مطابق پیچا کرے

رانے کو سمجھائیں سردیوں میں چنگوزے بیچا کرے

میاں نواز شریف :

تانے دینے سے کبھی باز نہیں آتے ہو

میرے چیلوں پر یوکےوں اُنگلیاں اُٹھاتے ہو

وزیرا عظم گیلانی :

آپ کو موقع ہے ملا کُچھ تو بھلا کر کے دیکھا

ہور بھی کم ہیں زمانے میں کرپشن کے سوا

بلا وجہ جوابی کاروائی کے لئے نہیں اُکسایا کرتے

آپ ہی اپنے پیٹ سے کپڑا نہیں اُٹھایا کرتے

ورنہ پھر جتنی بھی ہوگی سمجھنا تھوڑی ہوئی ہے

آپ نے تو ورزش بھی ایک عرصے سے چھوڑی ہوئی ہے

میاں نواز شریف :

مجھے رزلٹ چاہئے حکومتی سندھی بریانی نہیں

اور یاد رکھنا ہم پہلے ہی بہت دور دور ہیں

میری شہرت سیاست ہے اور کیا میاں کے پاوے مشہور ہیں

وزیرا عظم گیلانی :

اب تو حکومتی صفوں کے اندر تک وڑ گئے ہیں

ہاتھ دھو کر صرف ہمارے پیچھے ہی پڑھ گئے ہیں

اتنا تو دھُل کر نوٹ بھی نہیں اکڑتا

پنتالیس دن کے بیان پر جتنا آپ اکڑ گئے ہیں

میاں نواز شریف :

آپ کے سب وزیر شوخے ہیں کوئی اُن میں کٹھ نہیں ہے

میرا سب گِلا آپ سے ہے اُن پہ کوئی وٹ نہیں ہے

انہیں دس نکات پہ اگر چل کے آسکو تو آﺅ

میرے گھر کے راستے میں کوئی شاٹ کٹ نہیں ہے

وزیرا عظم گیلانی :

ہمارے وزیروں،گھوڑوں،کالے بکروں پر بڑی نظر رکھتے ہیں

آپ کے ہاں بھی تو بھورے تیتر اور کالے ہرن پکتے ہیں

حکومتی بازو مڑور کر مفاہمتی چوڑیاں توڑ دیتے ہیں

آپ تو ہر تھوڑے عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں

میاں نواز شریف :

پنتالیس دن کا ٹائم ہو چاہے جاگو چاہے سو جاﺅ

بس بڑی ہوگئی ہے اب سارے سدھے ہو جاﺅ

لکھنے والے کے کہنے پر ہمارے سیاستدان سیدھے ہوں یا نہ ہوں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اتنا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شرم اور غیرت ان کو اب ان سب مگر آتی نہیں!

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *