Home / Uncategorized / وقت کس کی رعونت پر خاک ڈال گیا

وقت کس کی رعونت پر خاک ڈال گیا

وقت کس کی رعونت پر خاک ڈال گیا

سمیع اللہ ملک

خبر ہے کہ کابل میں کھدائی کے دوران دو گڑھوں سے ۱۶ لا شوں کے ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔افغانستان چاردہائیوں سے ایک شورش زدہ اور جنگ میں مبتلا ملک ہے۔اس دوران حکمرا نوں نے مخالفوں کو قتل کیاہے۔اقتدار کے طالبوں نے کشمکش اقتدار میں خون کے دریا بہائے ہیں‘کشتوں کے پشتے لگائے ہیں۔پہلے خون آشا م روسی سر خ ریچھ اور آجکل فرعونی اور نمرودی طاغوت اپنی بے پناہ قوت ‘مظا لم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔اس دوران مجاہدین غیر ملکی طاقتوں،ان کے ایجنٹوں اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ لڑتے رہے ہیں۔ایک ایسے ملک میںکسی اجتماعی قبر نہیں بلکہ آج بھی گڑھوں سے با قاعدہ تہجیز و تکفین کے بغیر بس یونہی اٹھا کر پھینکی گئی لا شوں کا بر آمد ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے ۔۔۔۔حیرت ،بلکہ عبرت کا مقام یہ ہے کہ ان میں ایک ڈھانچے کو سردار داؤدکے ڈھانچے کے طور پر شناخت کیا گیاجس نے اپنے بہنوئی ظاہرشاہ کا تختہ الٹ کراقتدارپرقبضہ کیاتھا! افغانستان کو روس کی چراگاہ بنا نے کی بنیاد رکھنے والے، پاکستان کو آنکھیں دکھا نے والے ،پختونستان کے حامیوں کو افغانستان میں پناہ دینے اور وہاں سے پاکستان کے ا ندر دہشت گردی کی کاروائیوںکیلئے بیس کیمپ فراہم کرنے والے سردار داؤد کا بے کفن ڈھانچہ ،جسے اس کے لباس اور جوتوں سے شناخت کیا گیا۔۔۔۔یہ وقت کس کی رعونت پر خاک ڈال گیا۔۔۔۔۔۔۔سردار داؤد ہی نہیں تمام آمر اپنی زندگیوں میں ا پنے مخالفوں کو بندوق کی نوک اور ان کی تنقید و تجاویزاور مشوروں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیںلیکن جب تا ریخ کا پہیہ گھومتا ہے تو سردار داؤد کی شناخت اس چہرے سے نہیں ہوتی جس کی ہیبت سے سارا ملک لرزتا تھا بلکہ ا ن کے خون آلود کپڑوں اور دھول میں اٹے جوتوں سے ہوتی ہے۔

 اسی لئے میںکئی دفعہ چغہ پوش مسخرے حامد کرزئی کوان کی زہر افشانیوں پر یاد دلاتارہتاہوں کہ صدیوں پہلے ان کے آباؤاجدا کو روندتے ہوئے ہندوستان پر قبضہ کرنے اور دلی میں بیٹھ کر افغانہ پر حکومت کرنے والے آل تیمور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بہادر شاہ ظفر بلک اٹھا تھا!

کتنا ہے  بد نصیب ظفر د فن کیلئے

دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

لیکن  بہادر شاہ ظفرا تناخوش نصیب ضرور تھا کہ دیار غیر میں ہی سہی‘اسے دفن کیلئے دو گز زمین مل گئی تھی اور اس کی قبر کی شناخت بھی قائم ہو گئی تھی اور آج بھی رنگون کی سیا حت کو جا نے والے چاہیں تو عقیدت کے پھول نچھاور کریں یا شہنشاہیت پر تبریٰ بھیجیں‘دعا کیلئے ہا تھ اٹھائیں ‘چاہیں تو دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی رسم نبھائیں‘چاہیں تو عبرت پکڑیں یا اپنے آپ کو اس سے بالا تر سمجھیں۔ویسے تکاثر کا شکار اور عاجلہ کا طلبگار انسان عبرت کم ہی پکڑتا ہے ۔اگر انسان عبرت پکڑنے کا عادی ہوتا تو بہادر شاہ ظفر کے مدفن رنگون کے حاکم مسلسل آمریت اور فسطائیت کے راستے پر نہ چل رہے ہوتے۔ہوس اقتدار عروج پر نہ ہو تا ا ور برما میں انسانی حقوق کی پامالی نہ ہوتی۔

اگر انسان عبرت پکڑتا تو بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی اور دیار غیر میں موت‘شہزادوں کے قتل‘شہزادیوںاور شہزادوں کی ہندوستان کی وسعتوں میں ہی نہیں بلکہ پایہ تخت شاہ جہاںآباد میں دست سوال دراز کرکے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کی عبرت ناک روایات سے آگاہ ،مسلمان قوم میں دین سے دوری ،حب دنیا،آخرت سے بے نیازی،مطلق العنانیت کی خواہش،ذاتی اقتدار کی طلب،غیروں پر کرم اور اپنوں پر ستم کی رذالت کا شائبہ تک بھی نہ پا یا جاتا۔لیکن ہوا کیا؟غلام محمد سے سکندر مرزا تک ،ایوب خان سے یحییٰ خان تک،ذوالفقار علی بھٹو سے ضیاء الحق تک،نواز شریف سے لیکر بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف تک اوراب زرداری بھی اپنے اقتدار کو دوام دینے،اپنی مطلق العنانیت کو آئین و قانون بنانے،اپنے زیر دستوں پر مظالم ڈھانے اور اپنے سے زبردستوں کو سلام کرنے،غیروں پر کرم کرنے اور ان کی خوشنودی اور ان کی سرپرستی کے نتیجے میںاپنے اقتدار کے دوام کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے اپنوں پر ستم کرنے میں مصروف ہیں۔لیکن انہیں نہ تو بہادر شاہ ظفر کی غر یب الدیار ی سے خوف آتا ہے نہ شاہ فاروق اور شہنشاہ ایران کی در بدری سے۔نہ ان کا دھیان اس طرف جاتا ہے کہ پاکستان کے پہلے آمر غلام محمد کو مسلما نوں کے قبرستان میں دفن ہونا بھی نصیب نہیں ہوا تھااور نہ ہی یہ بات انہیں کچھ سوچنے پرآمادہ کرے گی کہ سردار داؤد کو نہ غسل نصیب ہوا اور نہ ہی کفن۔ نہ نماز جنازہ ہوئی نہ با ضابطہ تدفین۔انہیں ایسے گھسیٹ کر گڑھے میں ڈال دیا گیا جیسے جانوروں کی لاش ٹھکانے لگائی جاتی ہے۔ایکڑوں پر پھیلے شاہی محل کے مقیم کو اپنی الگ قبر بھی نہ ملی۔فاعتبرو ا یااولی الابصار

میں بات کر رہا تھا سردار داؤد کے ڈھانچے کی دریافت کی۔۔۔۔۔۔ یہ ستّر کی دہائی تھی جب سردار داؤد نے ظاہرشاہ کا تختہ الٹا تھااور پاکستان کے خلاف سازشوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ ذوالفقار بھٹو نے سردار داؤد کو اسلام آباد بلایا‘انہیں سمجھایا اور انکی مدد کا بندوبست بھی کیا۔آج افغانستان کے حالات کا ذمہ دار جنرل ضیاء الحق کو ٹھہرانے اور بین الاقوامی سا زشوں کا سا را ملبہ ایک فرد پر ڈالنے وا لے اور افغانستان میں جاری شورش کے پاکستان پر پڑنے والے سارے اثرات کا ذمہ دار مذ ہبی جماعتوں کو قرار دینے والے نہائت چالاکی سے       ا فغانستان کے معاملات کے اہم ترین کردار کا تذکرہ گول کر جاتے ہیں ۔نئی نسل تو خیر اس سارے معا ملے سے نا واقف و بے خبر ہے لیکن نذیر ناجی اور ان کی قبیل کے دیگر لوگ جب جہاد افغانستان کے حوالے سے ضیاء الحق اور جماعت اسلامی کو جی بھر کر کوس رہے ہوتے ہیں،تب وہ اس حقیقت کو چھپا رہے ہوتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے سردار داؤد کی سازشوں کا کیا بندوبست کیا تھا ۔میں یہ کئی بار با وثوق ذرائع کے حوالے سے اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے انجینئر گلبدین حکمت یار کو افغانستان میں جوابی انتشار پیدا کر نے کیلئے وسائل فراہم کئے۔اگلے مرحلے پر برہان الدین ربانی بھی اس منصوبے میں شامل کر لئے گئے۔انجینئر گلبدین حکمت یارسید مودودی ؒکی تحریروں کے اسیر  اور مولانا کی ا نقلا بی فکر کے گھائل تھے لہندا پاکستان میں ان کی ہمدردیاں جماعت اسلامی کے ساتھ تھیں۔ ضیاء الحق نے افغانستان میں روس کے با قاعدہ داخلے کے بعد انہی راستوں اور رابطوں کو استعمال کیا تھا جس کی تعمیر پاکستان کے ذہین ترین سیاستدان ذوالفقار علی بھٹونے کی تھی۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر افغانستان میں روس کے    با قاعدہ داخلے کے وقت ذوالفقار علی بھٹوپا کستان کے وزیراعظم ہوتے تو وہ انجینئر گلبدین حکمت یار کو ضیاء الحق سے بہت بہتر انداز سے استعمال کرتے۔ ذوالفقار علی بھٹونے ہندوستان سے۹۰ ہزار فوجیوں کی واپسی کیلئے شملہ مذا کرات کے دور ان بھا رتی سیاست کا جو رخ دیکھا تھا اس کے نتیجے میں انہوں نے صرف ایٹمی پلانٹ ہی نہیں لگایا ‘صرف ڈاکٹر عبدالقدیر کی سرپرستی ہی نہیں کی تھی ‘ انجینئر گلبدین حکمت یاراور کشمیری قیادت کو مزاحمت کیلئے تیار بھی کیا تھا۔جاگیردارانہ پندار کے حامل انا پرست ذوالفقار علی بھٹونے شملہ میں اندرا گاندھی کے ہا تھوں اپنی انا کو لگائے گئے کچوکوںکا بدلہ لینے کیلئے ہندوستان کے دا خلی انتشار سے فائدہ اٹھانے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے شمال مغرب میں نئے دوست تلاش کئے تھے۔

 ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت، اس کی عوامی مقبولیت اور اس کے شخصی سحر سے خوفزدہ لوگوں اور بین الاقوامی سا زشیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو ٹھکانے لگا دیا۔بد قسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اوراپنے باپ کی شہرت جوبے نظیرکووراثت میں ملی تھی، بالآخرانہی طاقتوںکے حکم پراین آراوکے ذریعے فاسق کمانڈوسے شراکت اقتدارکامعاہدہ کرکے پاکستان پہنچیں لیکن مکافاتِ عمل کاشکارہوگئیںاوراقتدارکاہماان کے شوہرنامدارزرداری کے سرپرآن بیٹھا۔ ذوالفقار علی بھٹونے توپختونستان کی سا زش کرنے والوں کو کا بل میں غیر محفوظ کر دیا تھالیکن آج ان کے بے بصیرت وارثان انہی قوتوں سے شیروشکرہواقتدارکے ایوانوں میں براجمان ہیں۔

۱۹۷۹ء کو ذوالفقار علی بھٹوکو پھا نسی دی گئی تھی لیکن آج۱۹۹۹ء میں اندھیرا مسلط کرنے اور اندھیر مچانے والوں کو بھٹو کے نام نہاد وارثوں کی حمائت حاصل ہے۔لیکن کوئی نہیں سوچ رہا کہ نام نہاد بڑی طاقتوں کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہے۔روس نے ظاہر شاہ کے خلاف سردار داؤد کی حمائت اپنے مقا صدکیلئے کی تھی لیکن جب سردار داؤدا پنے حصے کا کام کر چکا اور روس کو ایک زیادہ روس نواز حکومت کی ضرورت محسوس ہوئی تو سردار داؤد کو قتل کر کے لا وارثوں کی طرح زمین میں گاڑھ دیاگیا ۔۔۔۔۔۔جب روسی فوجیں واپس چلی گئیں اور ضیاء الحق کی ضرورت نہ رہی تو ان کے طیارے کو نذر آتش کر دیا گیا ۔حد درجہ سفاک امریکیوں نے ضیاء الحق کو محفوظ ہونے کا تاثر دینے کیلئے اپنے سفیر کو ’’چارے‘‘ کے طور پرا ستعمال کیا۔انہی امریکیوں نے عراق میں صدام کو ایران سے جنگ کیلئے مدد دی ،کویت پر قبضہ کیلئے حوصلہ دیااور پھر انہیں کردوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کر نے اور تباہی پھیلانے کے جرم میںٹانگ دیا۔پرویز مشرف نے بھی جا معہ حفضہ اور لال مسجد میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے اورملک کے آئین کودودفعہ تاراج کیااورانہی قوتوں (یہود وہنود ) نے بڑی ہوشیاری سے مشرف کوپاکستان روانہ کردیاتاکہ یہ بھی اپنے انجام کوپہنچ جائے۔ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔اورپرویز مشرف کو گرفتار نہ کرنے پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کوانیس اپریل کو عدالت میں طلب کر لیا گیاہے۔

میں سوچ رہا ہوں جب یہی طاقتیںاس خطے میں اپنا ہدف پورا کر لیں گی تو امریکہ آصف زرداری کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ شاہ ایران جیسا‘ ضیاء الحق جیسا‘ سردار داؤد جیسا یا صدام جیسایاپھراس سے کہیںزیادہ عبرتناک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ جو شخص

چراغ با نٹتا پھرتا  ہے چھین  کر آنکھیں

About admin

Check Also

فرینکفرٹ میں بین الاقوامی سیمنار و مشاعرہ

حیدر طباطبائی کی یاد میں بین الاقوامی سیمنار اور مشاعرہ گوئٹے کی سرزمین جرمنی سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *