Home / Socio-political / پاکستان پھر طالبان کے نرغے میں

پاکستان پھر طالبان کے نرغے میں

پاکستان پھر طالبان کے نرغے میں

کراچی میں ایک بار پھر خوف و دہشت کا ماحول ہے اور اس ماحول کی تازہ وجہ متحدہ قومی مومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی اور ان کے بیٹے کا قتل ہے۔ عام انتخابات کے ختم ہونے اور نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے تک یہ قتل و غارت گری کا سلسلہ تھوڑا تھما تھا لیکن پھر وہی ظلم و بربریت اپنے عروج پر نظر آنے لگا۔

کراچی کی گلیوں میں خون کی ہولی پھر سے کھیلی جانے لگی اور پھر سے دہشت گردوں کا وحشیانہ رقص سڑکوں پر دیکھا جانے لگا۔ نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنی طرف سے پرزور کوشش کی کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور پاکستان سے یہ ظلم و جبر کا ماحول ختم کیا جائے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جو ان کے دور اقتدار میں تھا۔ اب تو طالبان کی ایک شاخ کچھ کرتی ہے اور دوسری کچھ۔ ساجد قریشی اور ان کے بیٹے کے قتل کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے اور پاکستان میں وہی روایتی بے حسی کا مظاہرہ ہو رہا ہے جو ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ یہ طالبان کیسے مذہب کے ٹھیکہ دار ہیں جو نماز جمعہ ادا کر کے نکلتے ہوئے شخص کو ہلاک کر کے خوش ہوتے ہیں۔ کیا یہاں بھی نمازوں میں فرق تھا۔کیا یہ لوگ مسلمان نہیں تھے؟

ہر قتل کے بعد قائدین مگر مچھ کے آنسو بہا کر چین سے سو جاتے ہیں اور پھر صبح اٹھ کر ایک دوسرے کو ان دہشت گردیوں کا ذمہ دار گردانتے نہیں تھکتے۔ ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے اور اس بار بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہر چند کہ اس بار نوز شریف نے تفتیش کا حکم دیا ہے لیکن اب جبکہ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی ہے کیا اب بھی نواز شریف یہی کہیں گے کہ اس کی تفتیش ہونی باقی ہے۔ کیا پاکستان کی ہر حکومت طالبان کی قوت کو اسی طرح تسلیم کرتی رہے گی؟ اگر جواب ہا ں ہے تو پھر افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ عام انتخابات میں عوام کی قربانیوں کا کوئی صلہ عوام کو نہیں ملا کیوں کہ عوام نے تو طالبان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتخابات کو کامیاب بنایا لیکن بدلے میں انہیں کیا ملا؟ وہی خون سے بھری سڑکیں، وہی سسکیاں، وہی قتل و غارت گری۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عوام جمہوریت سے تنگ آ کر آمریت کے قصیدے پڑھنے لگتے ہیں کیونکہ انہیں تو امن چاہئے، سکون چاہئے، سر چھپانے کی جگہ چاہئے اور دو وقت کی روٹی چاہئے۔ انہیں اس سے مطلب نہیں کہ پاکستان کن بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہے یا کن سازشوں میں شامل ہے ، انہیں تو بس سکون کی نیند ملے، پیٹ میں روٹی ہو اور روزگار کے مواقع میسر ہوں ان ہی چیزوں سے مطلب ہے۔ نواز شریف کی حکومت سے عوام کو توقعات بہت ہیں اور انہیں بھی سب سے پہلے ان ہی غریب عوام کو دیکھنا چاہئے جنھوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے انہیں اس الیکشن میں کامران و سرخرو کیا ہے۔ ان کے سامنے پاکستان کے تمام صوبوں کی حیثیت مساوی ہونی چاہئے کیونکہ وہ اس ملک کہ وزیر اعظم ہیں۔ طالبان اگر پاکستانی ہیں تو پاکستان میں یہ دہشت گردی چہ معنی دارد؟ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے ۔ ان شر پسندوں کا قلع قمع نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب نواز شریف چاہیں بھی تو ان کی نکیل نہیں کس سکتے۔

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *