Home / Socio-political / پاک امریکہ تعلقات کی تلخ و ترش حقیقتیں

پاک امریکہ تعلقات کی تلخ و ترش حقیقتیں

پہلے اس اقتباس کو پڑھیں جو شاہد مسعود احمد اردو نیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’’ھور چوپو کبھی ہندوستان تو کبھی امریکہ دھمکی دے جاتا ہے اسامہ پاکستان میں ملا عمر پاکستان میں اور ھم ایسے چپ ھوجاتے ہیں جیسے مجرم ھوں کمال ہے کمال ہے واہ جی واہ کیا بات ھے ھماری گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ھوتے کیا بے غیرتی ہے بے حیائی ھے یہ کہاں سے آئی ہے امریکہ کے کھانے ڈالر اور پھر کرنی باتیں غیرت کی حیا کی شرم کی بھیک مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں ھوتی افسوس تو یہ ہے کہ جب بھارت بمبی دھماکوں‌کا راگ الاپتا ہے تو بھی ایسے چپ ھوجاتےہیں ہیں جیسے کوئی معصوم بچہ لالے کوے سے ڈر جاتا ہے………کب تک یہ گردن جھکی رہے گی کب تک؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جب تک بھیک سے گزارا ھوتا رہے گا‘‘۔۔۔۔ یہ تبصرہ اگرچہ  ایک عام  پاکستانی  نے لکھا ہے۔ اس اقتباس کے جملے اور لہجے سے صاف جھلکتا ہےکہ پاکستانی قوم  کس قدر اذیت میں مبتلا ہے ۔ جس کو جہاں موقع ملتاہے اپنے درد کو اجاگر کرنے کے لیے کچھ بھی کہنے سے گریز نہیں کرتا ۔عالمی اخبارات کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ لوگ اب اپنے ملک سے بھی بیزار ہورہے ہیں ، انھیں یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ہمارا ملک ایک ایسے راستے پر چل رہاہے جس کامنزل خود پاکستان کو بھی معلوم نہیں ہے ۔ لیکن جس طرح کی ذلتوں اور رسوائیوں سے انھیں سابقہ پڑ رہ اہے وہ انھیں کسی بھی طرح  قبول نہیں ۔ لیکن کریں کیا ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ’’ یا ’’ آگے گڑھا ،پیچھے کھائی ‘‘ کے مصداق   ایسا  لگتا ہے کہ پاکستان کی حالت ہے اسی لیے پاکستانی خود کو منجمد محسوس کر رہے ہیں ۔ اور سچائی بھی یہی ہے کہ اگر کسی ملک کو کوئی دوسرا ملک ڈکٹیٹ کرے تو اس کی  یہی کیفیت ہونی چاہیے۔

          اب ذرا غور کریں کہ  آخر یہ نوبت کیوں آئی ؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی دنوں سے ہی  خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا تھا اور اسے کسی سہارے کی ضرورت تھی ، عالمی طاقتوں نے بھی  پاکستان کی اس ضرورت اور مجبوری کو سمجھ لیا تھا ۔ اسی لیے کبھی اس وقت کا طاقتور ملک روس اور ابھی کا امریکہ ہمیشہ پاکستان پر ڈورے ڈالتا  رہا۔کچھ عرصے تک روس سے دوستانہ رہا  لیکن بہت جلد امریکہ نے  اپنی دوستی کا جال بچھادیا ۔ اب حال یہ ہےکہ اس جال سے پاکستان نکل نہیں سکتا۔امریکہ کی دوستی پاکستان کے لیے ایک ایسا دلدل ثابت ہورہی ہے کہ اگر کسی نے نکلنے کی کوشش کی تو اس میں وہ حکمراں اور بھی اندر تک دھنستا چلا گیا۔یہ صورت حال جنرل پرویز مشرف  کے وقت میں اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔ایک طرف امریکہ کی سازش اور دوسری جانب  جنرل پرویز کی مجبوری ۔ مشرف کو پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کر چکے تھے انھیں استحکام چاہیے تھااور امریکہ کو پاکستان کی سرزمین میں اپنا قدم جمانا تھا ۔ لہذا دونوں نے ایک دوسرے کے مفاد کو سمجھا اور دونوں نےاس کا بھر پور فائدہ اٹھا یا ۔ اب مشرف تو اقتدار تو کیا پاکستان سے ہی دور چلے گئے ہیں ۔ جن کی سر پرستی میں مشرف نے پاکستان بہت دنوں تک من مانی کی اب وہ مشرف کو بھلا چکے ہیں اور مشرف کے لیے پاکستان کی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے لیکن امریکہ کے لیے پاکستان میں اندر تک داخل ہونے  کے لیے ہر طرح کا موقع مل گیا ۔

          نائن الیون کے بہانے پاکستان میں قدم رکھنے والا امریکہ اب اس قدر پاکستان پر حاوی ہوگیا ہےکہ اس کے اثرات کم ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ لیکن اس پہلو پر غور کریں کہ نائین الیون کے وقت اگر پاکستان میں جموہری حکومت ہوتی تو کیا ایسا ہی ہوتا؟ میرا خیال ہے یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ اس وقت پاکستان اکیلے مشرف صاحب کی مرضی سے چل رہاتھا۔تو بات یہ ٹھہرتی ہے کہ کیا آج بھی کمزور جمہوریت کی وجہ سے امریکہ دن بہ دن پاکستان پر حاوی ہو رہا ہے ؟ اکثر مبصرین یہی مانتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت  اندر سے بالکل کھوکھلی ہوچکی ہے ۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا بھی احساس نہیں ہے ۔ عوام پریشان اور بد حال ہیں لیکن نہ ان کے ہاتھوں میں کچھ ہے اور نہ ہی وہ کچھ کر سکتے ہیں۔اندرونی سطح پر کچھ نہ کر پانے کی وجہ  منصوبہ بندی کی کمی اور اقتصادی مجبوری ہے ۔ اسی لیے جب جب امریکہ پاکستان کو کوئی مدد دیتا ہے یا مدد کرنے کی باتیں کرتا ہے توا س سے پہلے ہی وہ پاکستان پر الزام تراشی شروع کردیتا ہے ۔ نفسیاتی طور پر دباؤ دالنے کے بعد امریکہ مدد تو کرتا ہے مگر اتنے شرائط تھوپ دیتا ہے کہ پاکستان اسی بوجھ سے باہر نکل نہیں پاتا ۔ حد تو یہ ہےکہ خارجہ پالیسی میں بھی امریکی اشارے کنائے ہوتے ہیں ۔ اتنی جان نثاری   کے بعد بھی امریکہ پاکستان کو دھمکی دینے سے باز نہیں آتا۔ ابھی حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان میں تربیت یافتہ دہشت گردوں نے امریکی سرزمین پر ٹائمز سکوائر بم دھماکے جیسی کوشش کی تو اسلام آباد کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ۔ واشنگٹن میں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ’’جمہوری حکومت کے قیام سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون میں اضافہ ہوا ہے تاہم پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے مزید تعاون کے لئے توقعات رکھتا ہے ۔ ماضی میں پاکستان امریکہ سے ڈبل گیم کھیلتا رہا ہے ۔ پاکستانیوں نے زبانی وعدے تو بہت کئے مگر عملی اقدامات نہیں کئے مگر اب ایسا نہیں ہو گا ۔ انہوں نے پاکستان پر واضح کر دیا کہ اگر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم نہ کیا گیا تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی حکومت کے رویئے میں انتہائی مثبت تبدیلی آئی ہے ۔ امریکہ نے دہشت گرد گروپوں کے اہم راہنماؤں کو گرفتار کیا ہے یا انہیں ہلاک کر دیا ہے ۔ امریکہ اس طرح کی مزید کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رکھے گا ۔‘‘ جی ہاں  یہ پاکستان کی تازہ ترین دھمکی ہے ۔ ان کی دیدہ دلیری یہ بھی ہے کہ پاکستان میں آکر یہ کہتی ہیں کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان میں ہیں ۔ اگر انہیں پکڑ لیا جائے تو بڑی کامیابی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار ہیلری کلنٹن نے پاکستان کے ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر کر تے ہیں۔پاکستان نے سول اور ملٹری دونوں محاذوں پر اہم کر دار ادا کیا اور اس کا بہت مالی اور جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ دشمن ہیں اور وہ ہماری جمہوری آزادیوں کو ختم کر نا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کر دار ادا کیا اس میں امریکہ پاکستان کے ساتھ ہے اور اس سے یکجہتی کا اظہار کر تا ہے۔

اب اسے بھی  اظہار یکجہتی کا نام دیا جائے تو آپ کیا کہیں گے خود فیصلہ کر لیں ۔  پاکستان کی پوری رجامندی نہ ہونے کے بعد بھی  پاکستان میں ڈرون حملے جاری ہیں ،  آئے دن دہشت گردو ں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے  کے سبب معصوم اور بے قصورشہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں ۔ لیکن   پاکستا ن سوائے دیکھنے کے اور کیا کر سکتا ہے ۔ بس اس کے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ وہ ٹھنڈی سانسیں بھرے اور خاموش ہوجائے ۔

 

 

 

 

 

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

One comment

  1. عمبر شمیم

    پاکستان کے ان حالات زار پر واقعی بہت افسوس ہوتا ہے۔ وہاں کے عوام اور رہنما دونوں ہی پریشان ہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر پاکستان کی طرف سے کوئی مثبت قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔ کیوں سب کی باتوں کو اتنا وزن دیتے ہیں وہاں کے لوگ۔
    پاکستان کو چاہیے کہ اس بد سے بد تر ہوتے حالات کا جائزہ لے کر خود کوئی قدم اٹھائے، نہ کہ امریکہ ، چین کی باتوں میں آکر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *