Home / Socio-political / چوتھی جنگ ۔۔۔ چہ معنی دارد

چوتھی جنگ ۔۔۔ چہ معنی دارد

چوتھی جنگ ۔۔۔ چہ معنی دارد

پچھلے دنوں نواز شریف کا بیان میڈیا میں گشت کرتا رہا کہ چوتھی جنگ ہندوستان سے کشمیر مسئلہ پر متوقع ہے۔ عموماً اس طرح کے بیانات کے رد عمل میں بیانات کا ایک طویل سلسلہ چل پڑتا ہے اور اس کے فوراً بعد منموہن سنگھ کا بیان آیا کہ پاکستان ہندوستان پر حملہ کر کے جیت نہیں سکتا ہے۔ اس بات کا خدشہ بار بار ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ نواز شریف پھر سے کوئی کھڑاگ نہ پھیلائیں اور یہ خدشہ اس وقت بھی بہت حد تک حقیقت میں بدلتا دکھائی دیا جب نواز شریف نے منموہن سنکھ کو گاؤں کی عورت سے تشبیہ دی اور پھر یہ بیان کہ کشمیر مسئلے پر چوتھی جنگ ہو سکتی ہے ہندوستان اور پاکستان کے رشتے کو مزید خراب کرنے کا پیش خیمہ لگنے لگا ہے۔

                مہذب دنیا کے تقریباً تمام دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جنگ اب کسی بھی مسئلہ  کا حل نہیں ہے اور مذاکرات کے سہارے ہی تمام مسائل حل کیے جا سکتے ہیں ۔ یہ با ت نواز شریف کی سمجھ میں یا تو آتی نہیں ہے یا وہ جان بوجھ کر اپنے سیاسی مفادات کو مزید استحکام بخشنے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں، اور یہ دونوں صورتیں پاکستان جیسے ملک کے مفاد میں بہتر نہیں ہیں۔ اگر واقعی نواز شریف اس نکتے کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو پاکستا اور پاکستان کے خیر خواہوں کو ا س ملک کے لیے دعائے خیر کرنی چاہیے کہ اتنا کم فہم انسان کیسے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے  گا اور خاص کر ان حالات میں جب بین الاقوامی مفادات اس خطے سے وابستہ ہوں۔ اور اگر نواز شریف کا بیان اپنے سیاسی فائدے کے لیے ہے تو بھی دعا ہی کی جا سکتی ہے کیونکہ معمولی سے سیاسی استحکام کے لیے ملک کو غیر مستحکم کرنا بے حد غیر دانش مندانہ عمل ہے۔   اور اس سے نہ صرف یہ کہ پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔  ان حالات میں اگر بین الاقوامی قوتوں کو پاکستان کے جوہری اثاثے سے متعلق تشویش لاحق ہوتی ہے تو اس میں تعجب نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جس ملک میں جوہری ہتھیار ہوں اس ملک کے وزیر اعظم کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ کھلے عام میڈیا کے سامنے جنگ کی بات کرے۔

                معصوم پاکستانی عوام نے پیپلز پارٹی کی حکومت سے تنگ آ کر نواز شریف کو چنا تھا  کہ مسلم لیگ کی حکومت ان کے لیےکچھ بہتر کرے گی لیکن جب اس حکومت نے دیکھا کہ پاکستان کے حالات کو سدھارنا اس کے بس کی بات نہیں ہے تو اس نے پھر وہی پرانی چال چلی ، یعنی عوام کی نفسیات کے ساتھ کھیلنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا۔ اس حکومت کو معلوم ہے کہ عوام میں جب نفرت کا بیج بویا جائے گا تو اس سے اگنے والی فصل افیم سے بھی زیادہ نشہ آور ہوگی جو اس کے پیٹ کی بھوک بھلا دیگی اور  عوام کو حکومت کی نا اہلیوں کا ہوش ہی نہیں رہے گا۔  یہ معاملہ نیا نہیں ہے اور قیام پاکستان کے کچھ ہی دنوں بعد یہ عمل شروع ہوگیا تھا جو آج تک جاری ہے۔

                کون اس صدق کو جھٹلائے گا کہ محمد علی جناح کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا جس کی پاداش میں انہیں ایسی موت ملی جو کسی بھی طور سے ایک ملک کے اتنے بڑے قائد کے شایا ن شان نہیں کہی جا سکتی۔ کون اس بات سے انکار کرے گا کہ آج تک اس ملک میں وہی فرسودہ جاگیر دارانہ نظام ہے جوغریب عوام کے خون کو مشروب کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ جاگیر دار اپنی زمینوں سے بے دخل نہ ہونے کے لیے مذہبی جذبات بھڑکانے کا کام کرتے ہیں۔ عوام کو اگر اتنا سوچنے کی مہلت مل جائے کہ جس مذہب کی آڑ میں انہیں جہاد اور مادر وطن پر مر مٹنے کی ترغیب دی جاتی ہے زمینداری اور جاگیر داری اس مذہب کی روح کے خلا ف ہے تو دو دن میں ہی پاکستان کا تختہ پلٹ دیا جائے گا اور یہ نظام زر تہس نہس ہو جائے گا۔  نواز شریف جو اسی نظام کے پر وردہ ہیں انہیں یہ فکر سب سے زیادہ ستاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عنان حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلے لوگوں کے ذہن کو حب الوطنی اور مذہبی جذبات کی طرف موڑنے کی سعی کرتے ہیں۔

                عوام نے کبھی نواز شریف کی شخصیت اور اس سے متعلق تضادات پر غور ہی نہیں کیا ورنہ ان کی حقیقت ان پر بہت پہلے آشکار ہو جاتی اور مسلم لیگ حکومت میں نہ ہوتی۔ کارگل کی جنگ کو لیں تو اس جنگ میں بقول نواز شریف  ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور پر ویز مشرف نے انہیں اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دی۔  اور بقول مشرف نواز شریف کو سب کچھ پتہ تھا۔  غور کریں تو دونوں ہی صورتوں میں نواز شریف کی نا اہلی سامنے آتی ہے۔ اگر مشرف نواز شریف کو اتنے دنوں تک اندھیرے میں رکھنے میں کامیا ب رہے  تو یہ ایک وزیر اعظم کی نا اہلی نہیں تو اور کیا کہی جائے گی اور اگر یہ نواز شریف کی مرضی سے ہوا تو اس کا انجام سب کو معلوم ہے ۔ حیر اس بات کی ہے کہ نواز شریف نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے پھر اسی راستے پر چل نکلے ہیں جس کا انجام سوائے ذلت و خواری اور کچھ نہیں ہے۔  دنیا جانتی ہے کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ میں پھول نہیں برستے ہیں بلکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی معذور نسلیں اس بات کی گواہی دیں گی کہ یہ جنگ آنے والی نہ جانے کتنی نسلوں  کی قربانی مانگتا ہے۔ خدا کرے نواز شریف کی عقل میں یہ بات جلد ہی آ جائے کہ نہ تو دونوں ممالک کے درمیان کوئی جنگ ہی ممکن ہے اور نہ ہی جنگ کی دھمکیوں ہی سے کوئی سیاسی فائدہ ممکن ہے۔

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *