Home / Articles / ہم عصر مجلاتی صحافت

ہم عصر مجلاتی صحافت

 

 

          اردو میں مجلاتی صحافت  کی ایک عظیم اور شاندار روایت رہی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اردو میں صحافت کے آغاز و ارتقا کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ  روزناموں کے مقابلے میں رسائل و جرائد نے زیادہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ بلکہ اردو صحافت میں یہ رسائل و جرائد سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ عام طور پر یہ کہا جاتا  کہ اردو میں ۱۸۵۷ سے قبل نثر داستانوں کی دنیا کی سیر کر رہی تھی ۔ اس کے ذخیرے میں طلسماتی فضا کے علاوہ زندگی کے حقائق اور ہم عصر مسائل عنقا تھے۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اسی عہد میں نثر نے بلندیوں کا سفر بھی طے کیا۔یہی وہ عہد ہے جس میں نثر کا دامن رنگا رنگ اسالیب سے بھر گیا۔ایک طرف غالب نے نثر کو براہِ راست تخاطب اور سادگی کا جوہر عطا کیا تو دوسری جانب سر سید احمد خان نے اردو نثر کو سائنسی اور اور تکنیکی اظہار کا ذریعہ بنایا ۔  

            اردو میں مجلاتی صحافت کا ارتقا یہیں سے ہوتا ہے ۔ سر سید احمد خان نے پہلی دفعہ صحافت کی اہمیت کو بھانپ کر ’’ تہذیب الاخلاق ‘‘ جیسا ادبی ، تہذیبی اور تعلیمی رسالے کا آغاز کیا ۔ اس رسالے نے اردو قارئین کو پہلی دفعہ یہ بتایا کہ نثر کی طلسماتی فضا کے علاوہ بھی اور رنگ ہیں  اور  ایسے رنگ ہیں جن میں زندگی کی تصویروں کو بے حجاب دیکھ سکتے ہیں ۔یہ وہ نکتہ آغاز تھا کہ جس بعد نثر میں تنوع پیدا ہوتی ہے اور صحافت کے ذریعے ادب کا رشتہ زندگی سے استوار ہوتا ہے۔ مجلاتی صحافت میں اگر ابتدائی عہد کی بات کریں تو  پتہ چلتا ہے کہ اولاً ادب اور صحافت میں کوئی حد فاصل نہیں تھا بلکہ ادب کے ساتھ ہی صحافت کا نام لیا جاتا تھا۔مگر موجودہ عہد میں صحافت اور ادب کی سرحدیں جداگانہ ہی نہیں ان میں ایک واضح اور نمایاں فرق ہے ۔ آج ادب کچھ اور ہے۔  اور صحافت با لکل ہی الگ صنف اور شعبے کی حیثیت حاصل کر چکی ہے

             رسائل وجرائد کے موجودہ منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو اس میں  خوشگوار اضافے دیکھنے کو ملیں گے۔ اردو میں اب ہر طرح کے رسائل دستیاب ہیں ۔ اب تو موضوعاتی سطح پر بھی مختلف اداروں سے نکلنے والے رسائل کا جائزہ لیں تب بھی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے ۔ادبی، سیاسی ، تہذیبی، تعلیمی ، مذہبی اور تفریحی ہر طرح کے اردو رسائل بازار میں  موجود ہیں اور قارئین کا ایک بڑا حلقہ ہےجو اپنی اپنی پسند کے اعتبار سے ان رسالوں کو پڑھتا ہے۔ مذہبی رسائل کے حوالے سے ان دنوں ایک خوشگوا ر اضا فہ یہ ہوا ہے کہ پہلے عام طور پر اسے قدامت پسند کہا جاتا تھا اور ان پر تبصرے اور تجزیے بھی نہیں ہوتے تھے۔ لیکن اب ضرورت ہے کہ جس طرح وہ وقت کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے اپنے مواد اور معیار میں تبدیلیاں لا رہے ہیں، انھیں بھی اس منظر نامے  میں جگہ ملنی چاہیے۔

            مثال میں دہلی سے نکلنے والا رسالہ ’’ جام نور ‘‘ کو دیکھیں ۔ ظاہری ساخت اور نوعیت کے اعتبار سے  یہ ایک مذہبی رسالے میں شمار کیا جاتا ہے مگر ایسا کہنا قطعی درست نہیں ہے کیونکہ اس رسالے کے مشمولات کو دیکھیں تو ان میں حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی موجود ہے اور مختلف دانشوروں کے خیالات بھی ہوتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ دانشور صرف مذہبی حلقے کے ہی ہوں ۔ بلکہ اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس میدان کے ماہرین کی رائے شامل کی جائے۔ اس کے مدیر اعلیٰ خوشتر نورانی ہیں جو نئی فکر کے حامل ہیں اور دینی تعلیم سے مزین بھی ہیں ۔ اس کی تصدیق ان کے اداریوں کو پڑھ کر کی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیں دینی اعتبار سے بین الاقوامی سطح پر جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی تفصیلات بھی اس رسالے میں موجود ہوتی ہیں۔ا ور اس ادارے نے کئی خصوصی نمبر بھی شائع کیے جن میں دینی مباحث کو نئے منظر نامے میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ ایک بڑی بات ہے کے اس طرح کے رسالوں نے اپنا کینواس کافی وسیع کیا ہے۔یقیناً یہ رسائل آنے والے دنوں میں مشعل راہ ثابت ہوں گے۔

            دہلی سے شائع ہونے والا ایک اہم سیاسی و سماجی رسالہ ‘‘ نیو ایج ویژن ’’ ہے ۔ یہ رسالہ ارد و صحافت میں ایکBreak through  ہے ۔ اب تک اردو میں اس نوع کا رسالہ  نہیں نکلا ہے ۔ اپنی پیشکش ،  طباعت اور زینت کے اعتبار سے یہ انگریزی کے کسی رسالے سے کم نہیں ہے ۔ اس میں تمام تر سیاسی و سماجی موضوعات   کو  جگی دی جاتی ہے اور  ہر شمارے میں کسی اہم شخصیت کا انٹرویو بھی شامل ہوتا ہے ۔  اس کے مدیر اعلیٰ بھی  خوشتر نورانی ہیں۔ اس رسالے نے اردو صحافت کے دیرینہ مفروضے کو ختم کیا ہے یعنی عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ اردو صحافت میں صرف مسلم تہذیب اور مسائل پر آنسو بہائے جاتے ہیں ، لیکن یہاں ملکی ، ملی ، عالمی اور عالم اسلام ، طب و صحت ، کھیل اور  اس طرح کی فلموں پر تبصرے  شامل ہوتے ہیں جو مسلم تہذیب پر لکھے گئے ہیں اور ساتھ ہی یہ دیکھنے کی کوشش ہوتی ہے کہ ان فلموں میں سچائیوں کو کتنا مسخ کیا گیا ہے اور کس طرح انھیں پیش کیاگیا ہے ۔ اس رسالے کی انھیں خوبیوں کی بنیاد پر اسے پورے ملک میں دیکھتے ہی دیکھتے شہرت مل گئی ۔

About admin

Check Also

جشن آزادی

    Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *