پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
اردو فونٹ کا ارتقا
اللہ کی نعمتوں میں ایک بڑی نعمت زبان ہے جو انسان کو ترسیل و ابلاغ کی قوت عطا کرتی ہے۔ زبان کی پہلی اکائی آواز ہے،اوربا معنی آوازوں کے مجموعے کو لفظ کہتے ہیں ، لفظوں کے مخصوص دروبست سے جملے بنتے ہیں ۔اس طرح آوازوں کی شناخت سے زبان کے وجود میں آنے تک کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ انسان کی تمدنی اور معاشرتی ترقی کا سب سے بڑا وسیلہ تھا ۔
اس کا دوسرا اہم مرحلہ آوازوں کو علامتوں کے ذریعے محفوظ کرنے کا تھا ابتدا ئی طور پر جس طرح ہر خطے نے اپنی آوازوں کی شناخت کی، اسی طرح ہر خطے نے زبان کو تحریری طور پر محفوظ کرنے کے لیے الگ الگ علامات وضع کیے گئے ۔ یہی عمل جب ارتقا کی ایک خاص منزل سے گزری تو اسے ’ رسم خط ‘ کا نام دیا گیا ۔
لسانی مطالعے کے لیے یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ ہر زبان میں بامعنی آوازوں کی تعدادمختلف ہے ٹھیک اسی طرح ہر زبان میں تحریر کے لیے علامتوں کی تعداد بھی مختلف ہیں اور انداز بھی جداگانہ ہیں ۔ آج دنیا کی زبانوں کے طرز تحریر یا رسم خط کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کچھ زبانیں دائیں سے بائیں جانب اور کچھ بائیں سے دائیں جانب اور کچھ اوپر سے نیچے کی جانب لکھی جاتی ہیں۔رسم خط کی ایجاد اور اسے تحریری طور پر محفوظ کرنے کی داستان بہت دلچسپ ہے ۔ دنیا کے الگ الگ خطوں میں کس طرح تحریر کو کبھی مٹی کے ٹھیکرے پر تو کبھی چمڑے پر اور کبھی پتھر پر نقش کرنے کی کوششیں ہوئیں ۔ دنیا کی تمام زبانوں نے رسم الخط یا تحریری نظام (Writing System) کو آہستہ آہستہ تصویری علامات (Pictographs)سے لے کر جدید الفبائی حروف (Alphabetic Letters) تک ترقی دی۔ انسان نے ہزاروں سال قبل خیالات اور معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے مختلف تحریری نظام (Writing Systems) اپنائے۔مگر جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی زبان اور رسم خط میں بھی مفید تجربے ہوئے اور آج جب ہم ٹکنالوجی کے سہارے ترقیات کی بلندیو ں پر ہیں تو ہم نےاپنی زبان اور رسم خط کو بھی اس ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کر لیا ہے ۔
آج دنیا میں مختلف قسم کے رسم الخط رائج ہیں، جو مختلف زبانوں کی خصوصیات بنیاد پر وجود میں آئے۔ لیکن اس ترقی کی کہانی طویل ہے اورہر زبان نے اپنی ثقافت، تاریخ، اور ضروریات کے مطابق مختلف تحریری نظام اختیار کی۔ آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے رسم الخط کو مزید ترقی دی ہے، اور کئی پرانے طرز کے رسم الخط اب کمپیوٹرائزڈ ہو چکے ہیں۔ یہ ترقی کسی عجوبے سے کم نہیں ہے ۔
زبانوں کے رسم خط کا استعمال جب کمپیوٹر میں استعمال ہونے لگا تو اس طرزِ تحریر یا رسم خط کو ’’فونٹ ‘‘کے نام سے جانا جانے لگا ۔ فونٹ اور رسم خط میں یہی فرق ہے کہ جب ہم خود لکھتے ہیں تو وہ رسم خط ہے اور جب مشین کے سہارے سے لکھتے ہیں تو وہ ’’ فونٹ ‘‘ہے ۔ اسے یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ کمپیوٹر کی تحریر کی لیے جو علامات استعمال کیے جاتے ہیں وہ فونٹ کہلاتے ہیں ۔ ہر زبان کے فونٹ کے لیے جداگانہ علامات استعمال کیے جاتے ہیں جو پرنٹ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہیں اورا سکرین پر بھی نظر آنے والی بھی ہوتی ہیں ۔ مثلاً کمپیوٹر، موبائل ،ڈیجیٹل بورڈ یا کسی بھی طرح کی ڈیجیٹل اسکرین پر نظر آنے والی تحریر بنیادی طور پر فونٹ ہے ۔ فونٹ میں آوازوں کو ظاہر کرنے والی علامات کے علاوہ اعداد و شمار، کرنسی کی علامات ،ریاضی ، سائنسی اور دیگر علامات علامات شامل ہوتی ہیں۔فونٹ بنیادی طور پر مختلف طرح کے کریکٹرزکا ایک مجموعہ ہوتا ہےجس میں تمام حروف کے لیے استعمال ہونے والی علامت ایک ہی سائزاور ڈیزائن کا ہوتا ہے جسے حسب ضرورت چھوٹایا بڑا کیا جاسکتا ہے ۔اس عمل سے تحریر کے معیار میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور اب تو ہر زبان کے سینکڑوں فونٹ بن گئے ہیں جو دیدہ زیب بھی ہیں اور مختلف طرح کی تحریروں میں استعمال کرنے کے لیے مفید بھی ہیں ۔
کمپیوٹر فونٹس کی ایجاد: ایک عمومی جائزہ :
کمپیوٹر فونٹس کی ایجاد اور ارتقائی مراحل کو جاننا یقیناً دلچسپ ہوگا کہ حروف کس طرح قلم دوات، کاغذ، پنسل اور سلیٹ سے گزرتےہوئے سلور اسکرین پر لکھے جانے لگے ؟۔کمپیوٹر فونٹس کی ایجادکا ایک دلچسپ سفر ہے جو روایتی طباعت، ڈیجیٹل کمپیوٹنگ اور جدید گرافکس ٹیکنالوجی کے امتزاج سے پروان چڑھا۔ آج کے جدید فونٹس جو ہم کمپیوٹر، موبائل اور ویب پر استعمال کرتے ہیں،وہ صدیوں پر محیط طباعتی ارتقا اور ڈیجیٹل تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ دور میں فونٹ کے استعمال اور ایجاد سے پہلے پس منظر کے طور پر اس ارتقائی مرحلے کو اجمال سے یوں بیان کیا جاسکتا ہے ۔
’’ڈیجیٹل فونٹس کی ایجاد سے پہلے طباعت کے لیے ٹائپوگرافی اور یکساں تحریری انداز میں نظر آنے والے حروف کو ہاتھوں سے بنایا گیا تھا۔پندرھویں صدی عیسوی میں متحرک حروف (Movable Type) کی ایجاد ہوئی۔ 1440 کی دہائی میں جوہانس گٹنبرگ Johannes Gutenberg نے متحرک دھاتی حروف ایجاد کی۔ متحرک سے مرادہر حرف کے سانچے کو ضرورت کے مطابق جہاں چاہیں رکھا جاسکتا تھا۔ جن کی مدد سے طباعت میں انقلاب آیا۔ اس کے بعد لائنوٹائپ اور مونو ٹائپ کا طریقہ وجود میں آیا جس کے ذریعے مشینیں خودکار طریقے سے حروف کو ترتیب دے کر اخبارات اور کتابوں کی اشاعت کو تیز کر سکتی تھیں۔ تجربے کا یہ عمل مستقل جاری رہا اور 1950-1970 کی دہائی میں فوٹوٹائپ سیٹنگ کا طریقہ عمل میں لایا گیا ۔اس ٹیکنالوجی میں تصویری طریقے استعمال کیے گئے تاکہ حروف کو فلم پر پرنٹ کر کے اخبارات اور کتابوں میں شامل کیا جا سکے۔یہ تمام ترقیاتی مراحل بعد میں ڈیجیٹل کمپیوٹنگ اور فونٹس کے ارتقا کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ ‘‘
( مختلف ویب گاہوں سے یہ معلومات جمع کی گئی ہیں )
بیسویں صدی کے ربع دو م کے آغاز کے ساتھ ہی ڈیجیٹل دنیامیں ایک انقلاب آیا جب کمپیوٹر کو کثیر الاستعمال طور پر استعمال کرنےکے امکانات روشن ہوئے ۔ ویکی پیڈیا کےمطابق :
’’ابتدائی کمپیوٹرز کا مقصد صرف حساب کتاب کرنا تھا۔ سادہ دستی آلات جیسے اباکَس قدیم زمانے سے لوگوں کو حساب کتاب میں مدد دیتے رہے ہیں۔ صنعتی انقلاب کے آغاز میں، کچھ میکانی آلات طویل اور مشکل کاموں کو خودکار کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، جیسے کہ لومز کے لیے پیٹرن گائیڈ کرنے کے لیے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں زیادہ جدید برقی مشینیں مخصوص اینالاگ، حسابات کرنے کے لیے بنائی گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پہلے ڈیجیٹل الیکٹرانک حسابی آلات تیار کیے گئے، جو الیکٹرو مکینیکل اور تھرمونک والو (ٹرمک پلگ) استعمال کرتے تھے۔ 1940 کی دہائی کے آخر میں پہلے سیمی کنڈکٹر ٹرانزسٹرز کی ایجاد کے بعد 1950 کی دہائی کے آخر میں سلیکان پر مبنی MOSFET (MOS ٹرانزسٹر) اور مونو لیتھک انٹیگریٹڈ سرکٹ چپ ٹیکنالوجیز کی ترقی ہوئی، جس نے 1970 کی دہائی میں مائیکرو پروسیسر اور مائیکرو کمپیوٹر انقلاب کو جنم دیا۔ تب سے کمپیوٹرز کی رفتار، طاقت اور ورسٹیلٹی میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔‘‘
)https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1(
کمپیوٹر فونٹ کی ابتدا:
1950-1970کی دہائی میں کمپیوٹر فونٹس کے کامیاب ابتدا ئی تجربے ہوئے ۔اور ابتدائی طور پر مندرج ذیل فونٹ کی شکلیں سامنے آئیں۔
- ابتدائی مونو اسپیسڈ فونٹس: ( 1950–1960) یہ فونٹس ٹائپ رائٹر جیسے تھے، جہاں ہر حرف برابر چوڑائی کا حامل ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر IBM 1401جیسے کمپیوٹرز میں ایسے فونٹس استعمال کیے جاتے تھے۔
- سی آر ٹی (Cathode Ray Tube) (CRT) ڈسپلے فونٹس (1960):
جیسے جیسے کمپیوٹرز میں اسکرین متعارف ہونے لگیں، حروف کو گرافیکل انداز میں ظاہر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ابتدائی کمپیوٹرز میں ’بلاک نما پکسلز پر مبنی‘ فونٹس استعمال کیے جاتے تھے۔
بٹ میپ (Bitmap) فونٹس (1970) :
بٹ میپ فونٹس مخصوص پکسل گِرڈز(grids of pixels) میں حروف کو ڈیزائن کرنے کا طریقہ تھا، جو ابتدائی گرافیکل یوزر انٹرفیس (GUI) جیسے ’زیراکس آلٹو (Xerox Alto)‘ میں استعمال ہوتے تھے۔
- جدید اسکیل ایبل(saleable) فونٹس کی ایجاد (1970–1980) یہاں سے کمپیوٹر فونٹ میں ایک مثبت تبدیلی آتی ہے ۔ در اصل بٹ میپ فونٹس کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ انہیں بڑا یا چھوٹا کرنے پر وہ دھندلے یا بے ہنگم نظر آتے تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ’ویکٹر بیسڈ فونٹس ‘متعارف کروائے گئے۔
- کمپیوٹر فونٹ میں 1984 میں انقلاب انگیز تبدیلی آئی جب جان وارنک اورچارلس گیشکے جو Adobe کے بنیاد گزرا تھے۔ ، انھوں نےPostScript ٹکنالوجی کو متعارف کرایا۔ پوسٹ اسکرپٹ فونٹس ’ویکٹر گرافکس پر مبنی‘ تھے، یعنی ان کا سائز کو اگر بدل دیا جائے یعنی چھوٹا بڑا کیا جائے تب بھی اس کا معیار برقرار رہتا تھا۔
- 1985 میں ایپل نے LaserWriterپوسٹ اسکرپٹ کا کامیاب استعمال کیا جس نے ’ڈیسک ٹاپ پبلشنگ (Desktop Publishing) ‘ کی بنیاد رکھی۔
- TrueType فونٹس (1989): ایپل اور مائیکروسافٹ نے TrueType فارمیٹ متعارف کرایا تاکہ PostScript کا متبادل بنایا جا سکے۔TrueType فونٹس نے زیادہ کنٹرول اور بہتر رینڈرنگ کی سہولت فراہم کی، جس کے باعث یہ Windows اور macOS میں معیاری فونٹ فارمیٹ بن گیا۔
- ڈیجیٹل فونٹس کا انقلاب1990میں ہوا۔اس کے بعد کمپیوٹر نے روز افزوں ترقی کی نتیجتاًفونٹ کی سمت میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے ۔
- OpenType فونٹس (1996) مائیکروسافٹ اورAdobe نے مل کر OpenType فارمیٹ متعارف کروایا، جو TrueType اور PostScript کا امتزاج تھا۔اس میں اضافی زبانوں، لیگیچرز(ligatures) اور متعدد اسٹائلز کو ایک ہی فونٹ فائل میں شامل کرنے کی صلاحیت تھی۔
- ویب فونٹس (2000 )ویب سائٹس پر مخصوص فونٹس کے استعمال کے لیےWeb Open Font Format (WOFF) متعارف ہوا۔اس کے بعدگوگل فونٹس (Google Fonts) اور Adobe Fonts جیسی سروسز نے ہزاروں فونٹس مفت یا سبسکرپشن ماڈل کے تحت فراہم کیے۔
- جدید دور میں فونٹس مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ مزید ترقی کر رہے ہیں۔
- ویری ایبل فونٹس (Variable Fonts) – 2016 ایک ہی فونٹ فائل میں متعدد وزن (Bold, Light, Medium) اور اسٹائلز موجود ہوتے ہیں، جس سے لوڈنگ اسپیڈ بہتر ہوتی ہے۔
- مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی فونٹس AI کی مدد سے خودکار طور پر نئے فونٹس ڈیزائن کیے جا رہے ہیں۔
- برانڈڈ اور کسٹم فونٹس: بڑی کمپنیاں اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے منفرد فونٹس ڈیزائن کروا رہی ہیں، جیسے گوگل کا’’Product Sans‘‘اور ایپل کا’’San Francisco”۔
( یہ تاریخی حوالے مختلف ویب گاہوں سے ماخوذ ہیں )
ان تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپیوٹر فونٹس کی ایجاد اور ترقی نے نہ صرف طباعت بلکہ ڈیجیٹل کمیونی کیشن، ویب ڈیزائن اور گرافکس کے میدان میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ابتدا میں پکسل بیسڈ بٹ میپ فونٹس سے شروع ہو کر آج ویری ایبل اور اسمارٹ فونٹس تک کا یہ سفر ڈیجیٹل تحریر کی حیرت انگیز داستان ہے۔
اردو فونٹ کا آغاز اور ارتقا
مشینی طرز تحریر سے قبل اردو رسم خط کے مختلف طرز تحریر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ سمجھنا آسان ہو جائے کہ اردو کے مشینی فونٹ کے ارتقا میں کیا کیا اہم دشواریاں تھیں ۔ اردو طرز تحریر کے لیے عموماً خط نسخ ، او ر سب سے رائج طرز خط نستعلیق رہا ہے ۔ان دونوں میں کئی بنیادی فرق ہیں ۔
- خطِ نسخ
- سیدھی لکیر میں لکھا جاتا ہے۔
- حروف واضح اور الگ الگ نظر آتے ہیں۔
- عام طور پر کتابوں، قرآن پاک اور ویب سائٹس میں استعمال ہوتا ہے۔
- خطِ نسخ پڑھنے میں آسان، سادہ، اور پرنٹ کے لیے موزوں ہے۔
- خطِ نستعلیق
- الفاظ اور حروف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔
- زیادہ خوبصورت اور آرٹسٹک نظر آتا ہے۔
- زیادہ تر اردو تحریر، شاعری، اور خطاطی میں استعمال ہوتا ہے۔
- خطِ نستعلیق خوبصورت، جھکا ہوا، اور آرٹسٹک اندازکا ہے۔
کمپیوٹر میں سب سے پہلے خط نسخ رائج ہوا کیونکہ نستعلیق کے مقابلے اس کا مشین سے ہم آہنگ کرنا زیادہ آسان تھا ۔اس کی وجہ نستعلیق تحریر کا پیچ وخم ہے ۔پروفیسر عبد الغفور نے اپنے مضمون ’’ نسخ اور نستعلیق ‘‘ میں اس کی وضاحت اس طرح کی ہے :
’’نسخ میں ایک تہائی خطوط منحنی اور دو تہائی خطوط مستقیم موجود ہیں لیکن نستعلیق صرف خطوط منحنی اور حلقوں ہی پر مشتمل ہے۔ یہاں تک کہ اس طرز کتابت میں الف بھی ایک خاص انداز پر خمیدہ ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خطوط اور حلقوں کی متغیر دبازت سے یہ تحریراورپیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔خط نسخ کے مقابلے میں نستعلیق کے پیچ وخم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کے لیے متعدد جوڑ بند در کار ہیں ۔ اس کے علاوہ نستعلیق میں حرف یا لفظ کے مختلف حصے نسخ کی طرح خط مستقیم میں نہیں ہوتے بلکہ ہر دو سر ا ،جوڑا گلے کے مقابلے میں نیچے کی طرف اُتر تا ہوا محسوس ہوتا ہےغرض جتنے زیادہ جوڑ بند پر کوئی لفظ مشتمل ہوگا۔ اسی قدر اس کے مختلف حصوں میں نشیب و فراز ہو گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔نسخ کا ٹائپ ایک ہی کرسی پر ہوتا ہے اور اس کے جوڑ و بند کی دبازت بھی یکساں ہوتی ہے ۔‘‘
(مضمون نسخ اور نستعلیق ، پروفیسر عبد الغفور،ص ۱۵ ، مشمولہ اردو ٹائپ اور ٹئپ کاری : مرتبہ علی حیدر ملک ، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد، 1989)
جس مضمون کا اقتباس پیش کیاگیا وہ اس وقت لکھا گیا تھا جب ٹائپ رائٹر کے لیے حروف اور حروف کے جوڑ و بند کو سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں ہورہی تھیں ۔ لیکن جب کمپیوٹر کے لیے نستعلق فونٹ کی ساخت کی بات آئی تو یہ اس سے مشکل مرحلہ تھا۔ کیونکہ کمپیوٹر میں نسخ رائج تھا جو دیگر زبانوں کے مقابلے زیب و آرائش کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا مگر جمیل نوری نستعلیق کی ایجاد کے بعد فونٹ کی تمام کرشمہ سازیاں ممکن ہوسکیں ۔ لیکن یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں تھا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے کسی ادارے نے نہیں بلکہ فرد واحد نے بنایا۔اب تو ہر شخص احمد مرزا جمیل کے نام سے واقف ہے کہ انھوں نے اس فونٹ کی ایجاد کی اور اسے اپنے والد گرامی مرزا نور احمد کےنام سے منسوب کرتے ہوئے اس کا نام جمیل نوری نستعلیق رکھا۔
نوری نستعلیق فونٹ کی تخلیق: ایک انقلابی کارنامہ
اردو زبان میں روایتی نستعلیق خط خوبصورتی، جھکاؤ، اور فنکارانہ حسن کی وجہ سے بہت مشہور تھا، لیکن اس کی کمپیوٹر پر ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ نستعلیق خط میں الفاظ اور حروف کے پیچ وخم یعنی جھکاؤاور دائرہ نما شکلیں (Kerning & Ligatures) پیچیدہ ہوتی ہیں۔ دیگر رسم الخط جیسے نسخ، رومن، یا دیوناگری کی طرح سادہ حروف کا نظام نہیں تھا۔ہر لفظ کے لیے مخصوص جوڑ (Ligatures) بنانا پڑتے تھے، جو دستی طور پر کرنا ایک مشکل کام تھا۔اس کام کو انہوں نے روایتی نستعلیق خط کو ٹائپ سیٹنگ کے قابل بنانے کے لیے 20000 سے زائد جوڑ (Ligatures) خود تیار کیے۔ یہ کام ہاتھ سے لکھ کر، اسکین کر کے، اور مخصوص سافٹ ویئر میں ایڈجسٹ کر کے کیا گیا۔
فوٹو کمپوزنگ ٹیکنالوجی (Photo Typesetting) کو استعمال کر ’’نوری نستعلیق‘‘ فونٹ تیار کیا۔
مرزا احمد جمیل نےپاکستان میں مکتبہ کاروانِ ادب اور برطانوی مونوٹائپ کارپوریشن (Monotype Corporation) کے ساتھ مل کر یہ کام کیااس طرح1971 میں’’نوری نستعلیق‘‘ مکمل ہوا، جو اردو کا پہلا ڈیجیٹل نستعلیق فونٹ بن گیا۔
نوری نستعلیق کی اہمیت اور اثرات
اس سے اردو طباعت میں ایک انقلاب آیا۔ یہ اردو کا پہلا کمپیوٹرائزڈ نستعلیق فونٹ تھا، جو اردو اخبارات، کتابوں اور سرکاری دستاویزات میں استعمال ہونے لگا۔ اخبار جنگ اور دیگر اردو اخبارات نے نوری نستعلیق کی بدولت روایتی طباعت سے ڈیجیٹل طباعت کی طرف قدم بڑھایا۔ اردو ٹائپوگرافی میں یہ ایک بنیادی سنگِ میل ثابت ہوا۔
جدید اردو فونٹس کی بنیاد
آج اردو میں جو جدید نستعلیق فونٹس (جیسے جمیل نوری نستعلیق، فیض نستعلیق، علوی نستعلیق وغیرہ) موجود ہیں، وہ سب نوری نستعلیق پر ہی مبنی ہیں۔ ان پیج (In Page) سافٹ ویئر نے بھی اسی فونٹ کو استعمال کیا، جو اردو، فارسی، اور پشتو کی ڈیجیٹل طباعت کا سب سے مشہور پلیٹ فارم بنا۔
اس فونٹ کے ارتقا کی راہ میں بہت سی تکنیکی دشواریوں( اوپر اس کاذکر ہوچکا ہے ) کے ساتھ ساتھ کئی عملی دشواریاں بھی تھیں ۔ سب اہم مسئلہ یہ تھا کہ اس کے ہزاروں ترسیمے ہاتھ سے لکھے جانے تھے اور تحریر کا معاملہ یہ ہے کہ ہر کاتب کا انداز الگ الگ ہوتاہے ، ایسے میں اگر کئی لوگ اس فونٹ کے ترسیمے (ligatures) بناتے تو فونٹ میں یکسانیت برقرار نہیں رہتی اور اتنی تعداد میں ترسمیے بنانا بھی ایک اہم مسئلہ تھا ۔ کاتبوں سے لکھنے کا معاملہ نہیں بنا تو مرزا جمیل نے خود ہی اس کام کو مکمل کیا خو مرزا جمیل اس سلسلے میں لکھتےہیں کہ :
’’آخر اللہ کا نام لے کر میں نے خود ہی ترسیموں کی کتابت کا کام شروع کر دیا اور چھ مہینے میں سترہ ہزار ترسیمے نستعلیق کے روایتی حسن کو قائم رکھتے ہوئے مکمل کر کے مونو ٹائپ کارپوریشن کے حوالے کر دیے۔ہر شخص حیرت میں تھاکہ آخریہ کیا جادوگری ہوگئی۔ البتہ چھ مہینے مجھے اٹھارہ بیس گھنٹے مسلسل روزانہ کام کرنا پڑا۔‘‘
(مضمون نوری نستعلیق ، جمیل نقوی،ص 90 ، مشمولہ اردو ٹائپ اور ٹئپ کاری : مرتبہ علی حیدر ملک ، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد، 1989)
1998میں قلمی کتابت کو مشین سے ہم آہنگ کرنے کا جو کرشمہ جمیل احمد نے کیا ،اردو دنیا ا س عظیم کارنامے کے لیے ان کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس فونٹ میں اردو کے تمام الفاظ کو دو حرفوں سے لے کر آٹھ حرفوں کے ترسیموں کی شکل میں منقسم کیا گیا ۔اس طرح نوری نستعلیق کے کلیدی تختے کے ذریعے تقریباً ڈھائی لاکھ الفاظ کو ایک سادہ کلیدی تختے (Key Board)کے ذریعے اسکرین اور پبلیشنگ کے لیے استعما ل کیا جاسکتا ہے ۔اس اختراع نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں بنیادی پتھر کاکام کیا۔اس فونٹ کے بعد جدید طرز کے فونٹ بنانے کی تقریباً تمام دشواریاں ختم ہوگئیں اور اب ہمارے پاس کئی ایسے فونٹ بھی موجود ہیں جو خطاطی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔
ان پیچ سے قبل ارود کے کئی سوفٹ وئیر بنانے کے تجربے ہوئے جن میں ؤسرخاب نظامِ کتابت:1989 میں’’ انعام علوی کمپیوٹرز نے سرخاب نظامِ کتابت متعارف کرایا۔‘‘
- شاہ کار اردو پبلشنگ سسٹم:1989ء میں شاہ کار کمپیوٹر کی جانب سے شاہ کار اردو پبلشنگ سسٹم متعارف کرایا گیا۔‘‘
- صدف ارود ڈیٹا بیس:یہ ایک جدید ورڈ پرو سیسر تھا۔اس میں ایک وقت میں تین فائلیں بیک وقت تحریر کی جاسکتی تھیں اور آزادانہ طور پر ایک دوسرے میں تبدیل کی جاسکتی تھیں۔ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان(ٹی آئی پی) اور مقتدرہ قومی زبان کے ترتیب دیے ہوئے کلیدی تختہ سے مطابقت رکھتا تھا۔ اور کئی تجربات ہوئے ۔
- ان پیج:90کی دہائی اردو کے لیے خاص اہمیت کی حامل ہے۔احمد جمیل مرزا نے نوری نستعلیق بنایا تو اس وقت انتہائی مہنگی مشینیں اس کام کے لیے استعمال میں لائی جاتی تھیں۔اس طرح کمپیوٹر کی کتابت ہر آدمی کی پہنچ میں نہیں تھی۔اس لیے سوچا جانے لگا کہ کوئی سستا متبادل تیار کیا جائے۔اس کےلیے بہت سے کمپوزنگ کے سوفٹ ویئر تیار کیے گئے ،جیسے سرخاب، شیراز وغیرہ۔نوری نستعلیق کو بھی کسی سوفٹ ویئر کی مدد درکار تھی۔ “90 کی دہائی میں گرافیکل انٹرفیس کو مقبولیت حاصل ہوئی۔اس لیے ونڈوز پر چلنے والے جدید لفظ کار کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔جو اس وقت کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔”بالآخر 1994ء میں ان پیج نامی سوفٹ وئیر سامنے آیا۔اسے راریندر سنگھ اور وجے گپتا نے” کانسیپٹ سوفٹ ویئر کمپنی انڈیا” اور برطانیہ کی “ملٹی لنگوئل سلیوشنز” کے اشتراک سے بنایا۔اس میں نوری نستعلیق کے علاوہ چالیس مزید فونٹ شامل کیے گئے۔اس سوفٹ ویئر نے صحافت اور کتب کی اشاعت میں اہم رول ادا کیا۔
یونی کوڈ:
1991ء میں متعارف ہو چکا تھا”یونی کوڈ سے مراد وہ نظام ہے جو حروف کو بین الاقوامی نمبر دیتا ہے اور ان نمبروں کے مطابق حروف اور الفاظ ا سکرین پر نظر آتے ہیں۔ موجودہ عہد اردو فونٹ کی ترقی میں یونی کوڈ کے ایجاد نے ایسا انقلاب برپا کیا کہ اس کی مدد سے ہم کسی بھی ڈیجیٹل پلٹ فارم اردو لکھ سکتے ہیں اور اب تو ٹیکسٹ ٹو اسپیچ کی سہولت بھی اردو میں موجود ہے ۔آپ اردو میں بات کریں ڈیجٹل پلیٹ فارم اس کو اردو میں تحریر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، بشرطیکہ آپ ڈیجیٹل ڈیوائس میں اردو یونی کوڈ موجود ہے ۔
ان تمام کے باوجود اردو خطاطی کے تمام اسٹائلس کو فونٹ میں تبدیل نہیں کیا جاسکا ہے۔ تاہم اگر آپ گوگل پر تلا ش کریں تو آپ کو سینکڑوں کی تعداد میں اردو فونٹ مل جائیں گے۔ یہ عہد حاضر کے وہ وسائل ہیں جو اردو کو ٹکنالوجی کے سہارے فروغ دے رہے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں اس میں مزید ترقی کے امکانات موجود ہیں ۔مگر صرف کسی نازل ہونی والی نعمت کی طرح اس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جتنا بھی ہوسکے اردو کے اداروں اور افراد کے ضروری ہے کہ وہ اس سمت میں غو ر وخوض کرتے رہیں۔
Dr. Khwaja Ekram Prof. Dr. Khwaja Mohd Ekramuddin