امریکہ ۔پاکستان ۔ چین اور ہندستان
امریکہ کے حالیہ بیان جس نے پاکستان کو رنجیدہ کیا کہ حقانی گروپ کے ساتھ پاکستان کے روابط ہیں اور اس کی امداد بھی ملتی ہے ، امریکہ کے اس بیان کے ساتھ پاکستانی سیاست میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔پاکستان نے بہت دنوں کے بعد امریکہ کے اس بیان پر جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کئی سطح پر جواب دیا ۔ اس کو منہ توڑ جواب بھی کہہ سکتے ہیں ۔سب سے پہلے حنا ربانی نے آتشی زبان کھولی اس کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ کو یہ جتایا کہ اب ہمارے تحمل کا امتحان نہ لیا جائے اور آناً فاناً انھوں نے ال پارٹی مٹینگ کا منصوبہ بنا کر امریکہ پر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس امریکہ اب اس خام خیال میں نہ رہےکہ اس کی ہر بات پر پاکستانی حکومت سر تسلیم خم کرے ۔ اس کو مزید با اثر بنانے کے لیے چین نائب صدر کے دورے کا اہتمام کیا گیا اور چینی نائب صدر کی جانب سے یہ بیان آیا کہ چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ چین کا یہ قدم دراصل گھس پیٹ ھ جیسا ہے کیونکہ ایک طرف وہ امریکہ کو آنکھ دیکھانا چاہتا تو دوسری جانب ہندستان پر یہ رعب ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ہندستان کو کمزور کر سکتا ہے ۔ اور عملی طور پر وہ پاک مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو ہی گیا ہے ۔ اب اگر یہ مان بھی لیاجائے کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان سے نکل جائےگا ، جوکبھی نہیں ہوگا ، ایسی صورت میں چین ان علاقوں میں داخل ہوکر اپنی طاقت کو وسیع کرے گا۔ چین کا یہ خیال بھی ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر بھی نہیں ہوگا۔
لیکن دوسری طرف پاکستان کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ چین کو اپنے یہاں جگہ دے گا یہ امریکہ کو ؟ امریکہ تو پہلے ہی سے پاکستان کے اندر تک داخل ہوچکا ہے ۔اور چین بھی اس کے سر حد میں مضبوطی سے اپنے قدم جما رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہندستان کی دشمنی کے نام سے پاکستان اپنی سر زمین میں چین اور امریکہ دونوں کو جگہ دے دے اور مستقبل میں جس طرح آج امریکہ سے پریشان ہے ، وہ چین سے بھی اسی طرح پریشان رہے اور اپنے ملک کو دو ملکوں کو غلام بنا لے ۔ اس لیے ابھی موقع اس بات کا ہے کہ جس طرح جارحانہ انداز میں اس نے امریکہ سے آنکھ ملانے کی کو شش کی ہے اسی انداز سے اپنے مستقبل کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جوش میں پاکستان اپنا دو گنا نقصان نہ مو ل لے لے۔
Dr. Khwaja Ekram Prof. Dr. Khwaja Mohd Ekramuddin

آپ نے بہت اچھا تجزیہ کیا ہے کہ پاکستان کو چین سے بھی ہوشیار رہنا پڑے گا اور ممکن ہے کہ جب امریکہ ٹوٹ جائے اور چین سپر پاور بن جائے تو پھر پاکستان اور چین کی بھی نہ بن سکے اور چینیوں کو اپنے خطے سے نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا لیکن میں یہاں اتنا بتادوں کہ اس وقت پاکستان سرکار اور اس کی خفیہ ایجنسی انتہائی مہارت سے اپنے کارڈز کھیل رہی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ چین بہت جلد پاکستان کو آنکھیں دکھا سکے گا کیونکہ اس وقت خطے میں چین کے بعد ہندوستان ایسی قوت ہے جو معاشی لحاظ سے ترقی کرتی جا رہی ہے ۔ ایسی صورتحال میں چین کبھی بھی پاکستان سے بگاڑ پیدا نہیں کرے گا اور جب تک ایک مضبوط ہندوستان چین کے راستے میں موجود ہوگا اس کے تعلقات اتنے ہی پاکستان سے گہرے ہوں گے۔ چین کی شاید کوشش بھی یہی ہے کہ ہندوستان کی معاشی ترقی کا راستہ روکا جائے جبکہ خود ہندوستان بھی بار بار یہ الزام لگا رہا ہے کہ اس کی ترقی کے راستے میں پاکستان اور چین سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ورنہ آج ہندوستان بہت آگے نکل چکا ہوتا۔ جب تک متحدہ ہندوستان کا وجود برقرار ہے اس وقت تک چین اور پاکستان کی دوستی بھی گہرئی ہوتی رہے گی اور شاید یہ دونوں ملکوں کی مجبوری بھی ہے کیونکہ ہندوستان کے ساتھ دونوں ممالک کے تنازعات چلے آ رہے ہیں۔ چین سمجھتا ہے کہ تبت میں ہونے والے گڑ گڑ میں دلائی لامہ کا ہاتھ ہے جسے ہندوستان استعمال کر رہا ہے جبکہ پاکستان تبت کے معاملے میں چین کی مکمل حمایت کرتا ہے اسی طرح چین ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر پر پاکستان کا حق جتاتا ہے اور جب تک تبت اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے حل نہیں ہوں گے چین اور پاکستان کی دوستی برقرار رہے گی اور اسے برقرار رکھنا دونوں ملکوں کی مجبوری بھی ہے۔