Home / Socio-political / سپریم کورٹ اور سرائیکی پراونس

سپریم کورٹ اور سرائیکی پراونس

روف عامر پپا 

عدلیہ کے پرشکوہ محلات کو عالمی میڈیا اخبارات چینلز نے گھیر رکھا تھا۔ سیاسی پارٹیوں کے پر جوش کارکن ممبران اسمبلی دانشور وکلا کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ کارکنان کے نعروں کی باز گشت میں کوئی چیز بجھائی نہیں دیتی۔ عدلیہ کے سامنے فراٹے بھرتی ہوئی شاہراہ دستور ہماری سیاسی زندگی کے ایک اہم ترین مقدمے کے مناظر فلمبند کرنے کی خاطر بے تاب تھی۔ شاہراہ دستور نے ماضی میں سیاسی جمہوری جرنیلی اور حکومتی کشا کش کے جتنے کیسز ملاحظہ کیے اسکے نتائج بھیانک اور زہریلے تھے جمہوریت اور امریت کی عدالتی جنگ میں ہمیشہ ڈنڈے والے کامیابی سے سرفراز ٹھرے مگر یہ کیس عجب صورتحال سے دوچار تھا جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ کی بجائے وزیراعظم اور ججز صاحبان امنے سامنے تھے۔ حاکم وقت کو توہین عدالت کا سامنا کرنا ہے۔ حاکم اپنی کابینہ اتحادی جماعتوں وکلا پانچوں صوبوں کے گورنرز اور تین وزرائے اعلی کے جلو میں وارد ہوئے انکا چہرہ اپنی مسکان کے ساتھ کھلکھلا رہا تھا۔ وہ مسلسل تیسری مرتبہ عدالتی کٹہرے میں جلوہ گر ہوئے۔7 رکنی بنچ نے وزیراعظم اور وکیل کو چند سیکنڈ بات کرنے اور بنچ کے ساتھ ہمکلام ہونے کی درخواست کو مسترد کردیا حالانکہ حاکم وقت اور عالمی شہرت یافتہ قانونی بقراط اعتزاز احسن دو ایسے رہنما ہیں جنکی کاوشوں سے بنچ ممبران دوبارہ کرسی عدل پر جلوہ گر تھے ۔سپریم کورٹ کے مہاراجوں نے وزیراعظم کو مجرم بنایا قلیل سزا دی اسکے سر پر نااہلی کی تلوار لٹکادی۔ مستقبل کا کوئی گیلانی اور اعتزاز احسن کسی وکلا تحریک میں شامل ہونے سے قبل ہزار مرتبہ سوچ بچار ضرور کریگا۔ یا د رہے کہ یہ وہی ریاستی سربراہ ہے جس نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہی ججز کو مشرف کی امرانہ نظر بندی سے رہائی کا حکم دیا تھا۔ وزیراعظم نے ہی ایک طرف ازاد عدلیہ کے قیام کو یقینی بنایا تو دوسری طرف چیف جسٹس کی دوبارہ تعیناتی کا مومنانہ کریڈٹ بھی گیلانی کے حصے میں ایا۔ وزیراعظم عدلیہ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اہ بھری کہ وہ انصاف ملنے کی حسرت و یاس لیکر ائے تھے مگر مجھے انصاف سے محروم رکھا گیا۔ گیلانی نے برملا شکوہ کیا کہ اس کیس میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سات رکنی بنچ کے لارڈ کو ایک طرف وکیل اعتزاز احسن کو اپنی فلاسفی پیش کرنے کا موقع دیا جاتا۔ کیا یہ عدل کا تقاضا تھا یہ کوئی ائینی شق یہ بنچ کا اختیار تھا یا فوری فیصلہ سنانے کی جلدی کہ وکیل اور ریاست کے مقدس ترین منصب پر فائز گیلانی کو لب کشائی سے روک دیا گیا۔ قوم نظام عدل کی زبان و بیان سے تکریم کرتی ہے تاہم اسی نقطے کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ قران کریم میں عدل کے حوالے سے حضرت شعیب علیہ الاسلام کا قصہ ایک طرف اللہ پاک کے نذدیک عدل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تو دوسری جانب اسی میں انصاف اور عدل کی توہین کرنے والے رزیلوں کے لئے تازیانہ عبرت بنی ہوئی داستان کے کئی اسباق بھی موجود ہیں جو اہل علم و دانش کو اپنی طرف غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اہل مدین کو ناپ تول میں گڑ بڑی دھوکہ دہی کا چسکا پڑا ہوا تھا وہ ہوس زر کے اسیر بن گئے۔ اللہ نے جہاں لوگوں کو بشارت دی کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور شعائر اسلام کو سمجھنے کی خاطر قران پاک نازل کیا وہاں ایک اور چیز بھی اتاری میزان یعنی عدل کو اپناو۔ حضرت شعیب علیہ اسلام ساری بستی میں وہ اکیلے خضرراہ اور رہبر تھے جو گمراہ لوگوں کو عدل کی کارفرمائی اور تعلیمات ربی پر عمل پیرا ہونے کی اپیلیں کررہے تھے مگر انکے مقابلے میں بستی والوں نے اپس میں غیر منصفانہ تجارت اور نفع بخش کاروبار کے یک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کرلیا۔ حرص و ہوس نے اپوزیشن کو لوٹ مار کرنے کی خاطر یکجا ہوگئے۔ وہ حضرت شعیب کو کوسنے دیا کرتے کہ ہم نے اتفاق رائے سے ایجنڈہ بنایا ہے ہمارے نذدیک احکامات الہی کی کوئی قدر و منزلت نہیں۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ جب ہر سو ناانصافی استحصال لوٹ مار چھینا جھپٹی کے بادل منڈلانے لگے تو فطرت یذداں نے جوش مارا اور پیغام بھجوایا کہ حضرت شعیب اپنے 107 ساتھیوں جانثاروں کو لیکر شہر سے کوسوں دور چلے جائیں۔ اللہ کے نبی اور پیروکار جونہی مدین سے رخت سفر باندھ رہے تھے تو انہوں نے صور اسرافیل سے بھی شدید تر چھنگاڑ سنی جس نے پوری بستی مکینوں سمیت زمین میں دھنس گئی۔ مدین شہر اج بھی نشانہ عبرت بنا ہوا ہے جو اہل بصیرت کو انصاف کی اہمیت اور ظالموں فرعونوں کو شرمناک انجام کا درس دے رہے ہیں۔ تاریخ پر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو کئی سربستہ راز بے نقاب ہوتے ہیں۔ عذاب سزا زلزلے طوفان سیلاب افات سماوی صرف اس لئے نہیں اتے تھے کہ لوگ عبادتتھے یا انہوں نے نمازیں نہیں پڑھیں تھیں۔ تاریخ رقم کرنے والے محققین اس پوائنٹ پر متفق ہیں کہ رب العالمین کی طرف سے قہر بنکر ٹوٹنے والا عذاب ان اقوام پرمسلط ہوا جہاں عدل نام کی کوئی شے موجود نہ تھی جہاں انصاف کے رکھوالے خود قانون شکن بن گئے۔ وزیراعظم پاکستان پچھلے5 سالوں سے عدالتی حکم کے باوجود خط لکھنے سے انکاری ہوگئے۔ انکا موقف تھا کہ حکومت صدر کیط خلاف سوئس عدلیہ کو خط لکھر ائین سے منحرف نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیا بھر میں ریاستی سربراہ کو استثنی حاصل ہے۔ خط کے علاوہ عدلیہ کی جانب سے جاری کئے جانیوالے تمام عدالتی احکامات پر گیلانی سرکار کورنش بجالاتی رہی ۔ عدلیہ اور دوسرے ائینی اداروں نے خط کو انا ضد ہٹ دھرمی کا درجہ دے دیا۔ سیاسی استحکام کے فروغ اور جمہوریت کی زیبائش و ارائش کی خاطر عدلیہ کو ایسے نازک حالات میں وزیراعظم کے

خلاف فیصلہ کرنے سے گریز کا پہلو اپنانا چاہیے تھا۔ بھگت کبیر نے کیا خوب کہا تھا کہ غصہ نفاق خود ستائی ایسی صفتیں ہیں جو ایسے انسانوں میں پائی جاتی ہیں جو شیطانی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں بحر حال عدلیہ کے پرستاروں کو ماضی کی تلخ تاریخ پر نظر دوڑا کر چند سوالات کے جوابات منصفہ شہود پر لانے چاہیں۔ کیا یہ کڑوا کسیلا سچ نہیں کہ پی پی پی عدلیہ کی شاہی ان بان سے جبر و تشدد کا نشانہ بنتی رہی ہے؟ کیا ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھٹو کیس میں ڈکٹیٹر کی خوشنودی کے لئے خود ساختہ مرڈر کیس میں قائد عوام کو پھانسی کی سزا دی؟ نوے کی دہائی میں ن لیگ اور پی پی پی کی حکومتیں کرپشن کے الزامات کے ردعمل میں صدارتی پھانسی کی بھینٹ چڑھیں؟۔ کیا یہ دوہرا انصاف نہیں کہ سپریم کورٹ نے ن لیگ کی حکومت کو بحالی کا پروانہ جاری کردیا مگرppp کو راندہ درگا بنایا گیا کیا اس فیصلے کے رد عمل میں چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی نے جنم نہیں لیا جس نے قوم پرست جماعتوں کو تقویت دی؟ موجودہ ازاد عدلیہ کو بحال ہی موجودہ جمہوری بندوبست نے کیا مگر انہی ججز نے وزیراعظم کو سزا دیکر اخلاقی روایات کا جنازہ نکال دیا۔ نظریہ ضرورت ایل ایف او پی سی او نام کے کالے قوانین کو کس نے جنم دیا؟ کیاسپریم کورٹ نے ائین شکن جرنیلوں کی ڈکٹیٹرشپ کو دوام بخشا؟ کیا یہ درست نہیں کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے جنرل ایوب سے لیکر جنرل مشرف کے امرانہ و غاصبانہ اقدامات کو قانونی لبادہ پہنا کر انصاف کا قتل عام کیا؟گر ائین شکنی پر ارٹیکل کا اطلاق لازمی ہوتا ہے تو پھر ائین شکن احکامات کو جائز قرار دینے والے ججز کو کیا سزا ملنی چاہیے؟ کیا روئے ارض کی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججز نے کسی امر کو ائینی ترامیم کا اختیار سونپ دیا ہو حالانکہ عدلیہ بزعم خویش ائین میں ترامیم کا کوئی حق نہیں رکھتی؟ کیا یہ دنیا کا اٹھواں عجوبہ نہیں کہ ائین بنانے اور اسکی چوکیداری کرنے والے کو عدلیہ سنگین ترین سزا دیتی ہے مگر ائین کے ساتھ بلاتکار کرنے والے غاصب جرنیل کو تزک و احتشام سے ٹریٹ کیا جاتا ہے؟ یوسف رضا گیلانی نے اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری کا حق ادا کیا حالانکہ جنوبی پنجاب کے سیاسی خانوادے بندروں کی طرح قلابازیاں کھا کر ایک سے دوسرے پیڑ پر جانے میں خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی ناقابل لغزش نظریات کے علمبردار ہیں۔ وہ سرائیکیوں کی پسماندگی جہالت کے خاتمے اور سرائیکی تہذیب و ثقافت کی ارتقا اور افزائش کی خاطر سرائیکی صوبے کا ہوم ورک کرچکے ہیں۔ ن لیگ نے وزیراعظم کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ نواز لیگ کا یہ اعلان عاجلانہ ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی یکجہتی رواداری اور مفاہمانہ طرز عمل درکار ہے۔ ن لیگ عدالتی فیصلے کی بھرپور حمایت کررہی ہے جبکہ ُُPPP اور ایوان وزیراعظم کے رہائشی وزیراعظم سزا کے بعد مستعفی نہ ہونے کو ائین کی پاسداری کا درجہ دیتے ہیں۔ اپوزیشن ضماعتیں جن میں ن لیگ شامل ہے لیپاپوتی کی خاطر تو سرائیکی صوبے کے حق میں ٹھنڈی اہیں بھر لیتے ہیں تاہم درون خانہ اپرپنجاب کی طاقتور اشرافیہ سیاسی رہنما پنجاب کی تقسیم کے سخت مخالف ہیں۔ اپوزیشن تحریک چلا کر جہاں ایک طرف حکومتی مخاصمت میں سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہی ہے تو دوسری طرف احتجاج لانگ مارچ اور سڑکوں پر سیاسی کشا کش کے اعلانات سرائیکی صوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے میں مضمر ہیں تاکہ تخت لاہور اپنی شاہاہانہ قوت کے ساتھ قائم و دائم رہے۔ اپوزیشن کے اقدامات حسد کا نمونہ ہیں۔ ن لیگ سرائیکی صوبے کو روکنے کی خاطر کوئی ہتھکنڈہ استعمال کرسکتی ہے۔ سرائیکی قوم نے گیلانی اور صدر زرداری کو ملتان کے ضمنی الیکشن میں لیگ کے گڑھ سے پی پی پی کی کامیابی کو یقینی بناکر سرائیکی صوبے پر مہر ثبت کردی۔ سرائیکی قوم گیلانی سرکار سے دست بستہ عرض کرتی ہے کہ وہ اپوزیشن کی رکاوٹوں کو نظر انداز کرکے تھیوڈر ہزڈل کے قول کی روشنی میں سرائیکی صوبے کے قیام کا فوری اعلان کردیں۔ تھیوڈر ہزڈل نے کہا تھا حسد بغض ایسا زہر ہے جسکا تریاق نہیں ہوتا مگر بعض اوقات یہی زہر حاسدین کو تازیانہ عبرت بنادیتا ہے۔ عدلیہ کو بھی پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہونگے۔ عدلیہ نے اپنی اتھارٹی کے فن و کمالات کا مظاہر دکھا دیا مگر یہی فیصلہ سیاسی انتشار کو بڑھاوا دینے میں ممدون ثابت ہورہا ہے۔ عدلیہ حکومتی ادارے سیاسی رہنما اپوزیشن ذاتی مفادات کی خاطر انصاف کشی سے گریز کریں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فطرت جوش مارے اور حضرت شعیب کے زمانے کا قصہ دوبارہ منظر عام پر نظر ائے ۔ بھٹو ریفرنس پٹیشن سپریم کورٹ میں صدائے حق بلند کررہی ہے تاہم انصاف کے مندر چپ ہیں۔سپریم کورٹ جلد از جلد بھٹو ریفرنس کا فیصلہ کیوں نہیں دیتی؟ ویسے بھی فراہمی عدل میں تاخیر انصاف کی توہین ہے۔ کیا تاخیری حربوں میں ملوث جسٹس صاحبان کی گردن میں توہین عدالت کا شکنجہ کسا جانا چاہیے؟ عدل و انصاف کی حرمت کو پاش پاش کرنے والے ججز امریکی ہوں یا پاکستانی وہ بھارتی ہوں یا افغانی کیا ایسے کواکب کرسی عدل پر بیٹھنے کے حق دار ہیں؟ حیرت انگیز اور ورطہ حیرت نقطہ تو یہ ہے کہ عدلیہ منتخب پارلیمان کے چیف کو تو تین تین پیشیوں پر طلب کرسکتی ہے ریاستی سربراہ کو توہین عدالت کیس میں سزاوں کی بیڑیاں پہناسکتی ہے تو پھر جنرل مشرف ایسے قاتل ائین کو پابند سلاسل کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے؟ کیا نظریہ ضرورت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹانے اور عدلیہ کے ماتھے پر چمکنے والی ایل ایف او اور پی سی او کی لال کالک کو صاف کرنے کے لئے ججز کو ہتھکڑیاں پہنانے

کی ہمت کیوں نہیں دکھائی جاتی؟ ہٹلر نے کہا تھا بہادر لوگ بکھر تو سکتے ہیں مگر انہیں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ زرداری اور گیلانی کی خاطر مخالفین چاہے ہزار ہا مشکلات کا پہاڑ تعمیر کردیں انہیں نہ تو ائینی شیڈول میں درج مدت مقررہ سے پہلے اقتدار کے ایوانوں سے بیدخل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے ڈرایا جا سکتا ہے۔ صدر و وزیراعظم کا نام سیاسی ہسٹری کے سنہری ابواب میں درج ہوچکا ہے قوم خوش قسمت ہے کہ انہیں دو بہادر حکومتی سربراہ میسر ہوئے۔

 

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *