Home / Articles / پروفیسر الفت محبّووا: ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک ادبی پل

پروفیسر الفت محبّووا: ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک ادبی پل

پروفیسر الفت محبّووا: ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک ادبی پل

بعض سفر محض نئے مقامات کی سیر اور نئے لوگوں سے ملاقات کا وسیلہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ   تاریخ، تہذیب، زبان اور ادب کو سمجھنے کے نئے زاویے بھی روشن کرتے ہیں۔ ایسے اسفار میں ہونے والی بعض ملاقاتیں وقت گزرنے کے باوجود اپنی تمام تر اپنائیت اور خوش گوار تاثر ات کے ساتھ حافظے میں محفوظ رہتی ہیں۔ وسطی ایشیا کا میرا سفر اور تاشقند میں پروفیسر الفت محبّووا سے ملاقات بھی میرے لیے ایک ایسا ہی یادگار  اور خوشگوارتجربہ ہے۔

2019 میں مجھے تاشقند   انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز   جو ب تاشقند  اسٹیٹ یونیوروسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز ہے ،  میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ اس وقت پروفیسر الفت محبّووا اس شعبے کی صدر تھیں۔ انھوں نے جس خلوص، محبت اور گرم جوشی سے میرا استقبال کیا، اس کی خوش گوار یاد یں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ ان کے طرزِ عمل میں ایک صاحبِ علم خاتون کا علمی وقار، ایک حساس معلمہ کی انکساری اور مہمان کے لیے احترام و محبت کا جذبہ یکجا نظر آیا۔ اس تجربے نے مجھے ان کی شخصیت کے اس روشن پہلو سے روشناس کرایا جس میں علمی ذمہ داری کا احساس اور انسانی رشتوں کی اپنائیت نہایت خوب صورتی سے ہم آہنگ ہیں۔پروفیسر الفت کی سترھویں  سال گرہ (70)کے موقعے پر ان کے شعبے کے اساتذہ نے  بڑے پیمانے پر جشن کا  اہتمام کرنے  کا ارادہ کیا ہے  جو ان کی علمی و ادبی  خدمات کا اعتراف  کے طور پر ہوگا۔ اس موقعے سے میری یہ تحریر  بھی  پروفیسر الفت  کی خدمت میں ایک ہدیہٴ تبریک ہے ۔ یہاں ایک  بات کی اور وضاحت کردوں کہ اس ملک میں اساتذہ سبکدوش  نہیں ہوتے ، وہ جب تک چاہیں ، یا جب تک صحت  اجازت دے وہ درو تدریس سے وابستہ رہ سکتے ہیں ، اسی لیے پروفیسر الفت آ ج بھی اس ادارے میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں ۔

تاشقند میں قیام کے دوران مجھے وہاں کے ادارے، اساتذہ، طلبہ اور ہندی و اردو کی تدریس و تعلیم کی روایت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے اپنے مشاہدات اور تجربات کو ’’مشرق وسطیٰ میں تاشقند:  ارود ۔ ہندی کا عظیم مرکز ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں قلم بند کیا ہے ۔ اس تحریر میں تاشقند کی علمی فضا اور ہندی و اردو کے مطالعے کے توسط سے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان فروغ پانے والے ادبی و تہذیبی مکالمے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی سفر سے میرا سفرنامہ ’’امام بخاری کے ملک میں چند روز‘‘ بھی وابستہ ہے، جس میں وسطی ایشیا کی سرزمین، اس کے تہذیبی ورثے اور سفر کے مختلف تجربات کو بیان کیاہے۔ اس سفر  نے میرے لیے وسطی ایشیا کو محض ایک جغرافیائی خطے کے بجائے ایک ایسی زندہ تہذیبی دنیا کی حیثیت سے دیکھنے کا موقع دیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی  ہے کہ اس ملک  کے ہندوستان کے ساتھ گہرے تاریخی اور ثقافتی روابط رہے ہیں۔

  پروفیسر الفت محبّووا کے علمی سفر اور ادبی خدمات پر کچھ لکھنے   کی کوشش کررہا ہوں تو 2019 کی وہ ملاقات بے اختیار یاد آجاتی ہے۔ اس وقت صدرِ شعبہ کی حیثیت سے ان کی شخصیت کا جو فعال اور محبت آمیز پہلو سامنے آیا تھا، ان کی علمی زندگی اور ادبی  کارناموں کا مطالعہ کرنے پر اس کی معنویت مزید وسیع ہوجاتی ہے۔ ہندی زبان اور ہندوستانی ادب سے ان کی وابستگی محض تدریس تک محدود نہیں رہی؛ انھوں نے تحقیق، تصنیف، نصابی کتابوں کی تیاری اور ترجمے کے ذریعے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے مابین ادبی روابط کو مستحکم بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔کسی صاحبِ علم کی قدر و قیمت کا تعین صرف اس کی مطبوعہ کتابوں، تحقیقی مقالات یا علمی مناصب کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا؛ اس کی کاوشوں کا وسیع تہذیبی پس منظر اور مختلف زبانوں اور معاشروں کے درمیان ربط و مکالمہ قائم کرنے میں اس کا کردار بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ پروفیسر الفت محبّووا کا طویل علمی سفر اسی اعتبار سے خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ انھوں نے ہندی زبان اور ہندوستانی ادب کی تدریس کو محض ذریعۂ معاش نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک وسیع تر تہذیبی ذمہ داری کے طور پر اختیار کیا۔

پروفیسر الفت محبّووا کی علمی زندگی ہندی زبان اور ہندوستانی ادب سے دیرینہ وابستگی کی روشن مثال ہے۔ ان کی علمی خدمات کی اہمیت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ انھوں نے وسطی ایشیا میں ہندی کے مطالعے کی روایت کو نہ صرف تسلسل عطا کیا بلکہ ہندوستانی ادبی روایات کو ازبکستان کے قارئین اور طلبہ تک پہنچانے کی بھی مسلسل کوشش کی۔ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ زبان کی تدریس، ادبی تحقیق، ترجمے اور تدریسی مواد کی تیاری جیسے متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ان کے علمی سفر کو سمجھتے ہوئے یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی غیر ملکی زبان کی تدریس صرف قواعد، ذخیرۂ الفاظ اور لسانی مہارت کی تعلیم تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے ذریعے طلبہ اس زبان میں اظہار پانے والے معاشرے کے احساسات، تاریخی تجربات، تہذیبی اقدار اور ادبی روایتوں سے بھی آشنا ہوتے ہیں۔ پروفیسر الفت کی علمی خدمات کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔تاشقند میں ہندی زبان کی تدریس اور اس کے فروغ میں پروفیسر الفت کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے۔ تدریسی فرائض کے ساتھ ادارہ جاتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انھوں نے ہندی زبان و ادب کے مطالعے کے لیے سازگار علمی ماحول پیدا کرنے میں حصہ لیا۔ صدرِ شعبہ کی حیثیت سے ان کی خدمات محض انتظامی امور تک محدود نہیں تھیں، بلکہ علمی سرگرمیوں کی تنظیم، طلبہ کی رہنمائی اور ہندوستانی ادب کے مطالعے کی حوصلہ افزائی بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔

2019 میں ان سے میرا رابطہ اس حقیقت کا ذاتی تجربہ تھا کہ علمی اداروں کی اصل قوت ان کے اساتذہ کی سنجیدگی، باہمی تعاون اور علم سے بے لوث وابستگی میں مضمر ہوتی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے ان کی شخصیت ان کی علمی خدمات کو سمجھنے کا ایک اہم حوالہ فراہم کرتی ہے۔پروفیسر الفت کے علمی ذوق کا ایک نمایاں پہلو ہندوستانی ادب، بالخصوص بھکتی روایت اور برج ادب سے ان کی دلچسپی ہے۔ ہندوستانی ادب کی یہ روایات صرف مذہبی واردات و احساسات کی ترجمان نہیں، بلکہ ان میں عوامی زبانوں کے ارتقا، سماجی شعور، انسانی احساس اور تہذیبی ہم آہنگی کی متعدد جہتیں بھی جلوہ گر ہیں۔ ان کا مطالعہ وسطی ایشیا کے طلبہ اور محققین کو ہندوستانی معاشرے اور اس کے ادبی ورثے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

بھکتی ادب کی شعری روایت کا مطالعہ ہندوستانی ادب کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے جن میں زبان کی سادگی، جذبات کی گہرائی اور وسیع انسانی نقطۂ نظر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس میدان میں پروفیسر الفت کی دلچسپی ہندی ادب کے مطالعے کو ہندوستان کے وسیع تر تہذیبی پس منظر سے جوڑتی ہے۔

ہندوستان اور وسطی ایشیا کے تعلقات کی تاریخ کئی جہتوں پر مشتمل ہے۔ تجارت، سیاحت، مذہب، فلسفہ، فنونِ لطیفہ، موسیقی اور ادب نے دونوں خطوں کے درمیان مسلسل رابطے اور تبادلۂ خیال کو ممکن بنایا ہے۔ ان رشتوں کی نوعیت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے زبانوں اور ادبی روایتوں کا مطالعہ خاص معنویت رکھتا ہے۔کسی زبان کے بین الاقوامی فروغ میں ترجمے اور تدریسی مواد کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ ترجمے کے ذریعے ادب ایک زبان کے قارئین کی حدود سے نکل کر دوسری زبان اور تہذیب کے قارئین تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح نصابی کتابیں اور لغات زبان سیکھنے والوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہیں اور تدریس کے عمل کو زیادہ منظم اور مؤثر بناتی ہیں۔

پروفیسر الفت کی مطبوعہ تصانیف میں مونوگراف، نصابی کتابیں، لغات، تراجم اور تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ ان کی علمی کاوشوں کا یہ تنوع ظاہر کرتا ہے کہ ان کی خدمات کسی ایک میدان تک محدود نہیں رہیں۔ انھوں نے ہندی کی تعلیم و تدریس، ادبی فہم کے فروغ اور ہندوستانی ادب کو وسیع تر حلقۂ قارئین تک پہنچانے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کیے۔ ان کی تحقیقی سرگرمیوں کی اہمیت اس پہلو سے بھی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ ہندی زبان اور ہندوستانی ادب کے مطالعے کو وسطی ایشیا کی علمی دنیا سے مربوط کرتی ہیں۔ یوں ان کی تصنیف و ترجمہ نگاری لسانی مطالعے کے ساتھ تہذیبی مکالمے کا وسیلہ بھی بن جاتی ہے۔پروفیسر الفت محبّووا کی شخصیت اور علمی کارناموں کو ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ادبی و تہذیبی تعلقات کی ایک اہم کڑی کی حیثیت سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہندی زبان سے ان کی دیرینہ وابستگی، ہندوستانی ادب سے گہری دلچسپی، تحقیق و تصنیف کی سرگرمیاں اور ترجمے کے میدان میں خدمات انھیں ایک ممتاز صاحبِ علم خاتون کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔ان کی خدمات ک اعتراف کرتے ہوئے  ملکی

***اور بین القوامی سطح پر ان کو  اعزازات سے نوازا گیا ہے ۔پروفیسر الفت محبّووا محض ہندی کی معلمہ اور محققہ نہیں، بلکہ ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ادبی و تہذیبی روابط کو مضبوط بنانے والی ایک اہم ثقافتی رابطہ کار بھی ہیں۔

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

پروفیسر، مرکزِ ہندوستانی زبانیں، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

About admin

Check Also

سائبر پنک لٹریچر

Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *