Home / Socio-political / بے بنیاد الزام تراشی

بے بنیاد الزام تراشی

 

بے بنیاد الزام تراشی

ہندستان کے خلاف مسلسل الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھتےہوئے پاکستانی وزیر دفاع رحمان ملک نے پھر الزام لگایاہے کہ ہندستانی اسلحوں سے بھرے ہوئےچار ٹرک وزیرستان میں پکڑے گئےہیں ۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مخالف عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندستان پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔اس طرح کی الزام تراشی کا یہ پہلا موقع نہیں ہے مگر یہ ہمیشہ بے بنیاد ثات ہوئے ہیں۔ اس طرح کے نا مناسب الزامات کی تردید پاک سکیورٹی کے ترجمان اور میڈیا نے خود ہی کردیا ہے۔روزنامہ ڈان نے ایک سکیورٹی افسر کے حوالہ سے بتایا ہے کہ پکڑے گئے چاروں ٹرک غیر قانونی دھماکا خیز مواد لے جارہے تھے۔ اور وہ ایسے پرائیویٹ ڈیلروں کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں جو ان دھما کہ خیز اشیا کی تجارت میں ملوث ہیں۔

 ایک دوسری رپورٹ میں وزارت صنعت میں دھماکہ خیز اشیا کے شعبہ میں چیف انسپکٹر ہارون رحمان نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ ڈیرا غازی خان میں بھا ری مقدار میں دھماکا خیز اشیا بنانے والی ایک فیکٹری جس کالاٰٰیسنس پہلے معطل کردیا گیا تھا اسی کمپنی کی دھماکہ خیز اشیا کی رسد حال میں پکڑی گئ تھی۔ لیٰکن بیافو کمپنی جس کے ٹرک ضبط کیے گئے تھے اس کے ترجمان  کا کہنا ہےکہ انہیں وزارت صنعت، تجارت اوردفاعی پیداوار کی طرف سے  بلوچستان میں ساٰینداک کانکنی کے پروجکٹ کی لیے دھماکا خیز مواد کی سپلائی کی اجازت حاصل ہے۔ پکڑے گئے ٹرک جو 58500 کلوگرام دھماکا خیز مواد سے بھرے ہوئےتھے  وہ شمال مغربی سرحدی صوبہ میں ہری پور سےپنجاب ہوتے ہوئے بلوچستان میں ساٰینداک جا رہے تھے۔ ساٰینداک کی پیتل اور سونے کی کان جس پر ایک چینی حکومت کی ملکیت والی ایک کمپنی اکتوبر۲۰۰۲سےکام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ چینی کمپنیوں کے ذریعہ چلانے جانے والے دوسرے منصوبوں میں بلوچستان کے اندر دودار کی سیسے  کی کان اور سوندا جھرک کویلہ کی کان اور صوبہ سندھ میں بجلی پروجکٹ ہیں۔ افسران اس بات کا پتا لگا رہے ہیں کہ پیدا کار دھماکہ مواد کی پوری پیدوار کی خبر دے رہے ہیں یا ٹیکس اور دوسرے سرکاری تقاضوں سے بچنے کے لٰے کم مقدار کی رپورٹ کر رہے ہیں۔  اسی دوران صوبہ سرحد کےایک سینیر وزیر بشیر احمد بلور کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت کانوں کو دھماکا خیز اشیا کی  سپلائی بند کرنے کو سوچ رہی ہے کیوں کہ ان میں سے کچھ دہشت گردوں  کےہاتھ میں پڑ جاتے ہیں۔

            وزیر داخلہ اور دوسرے سینيرسیاسی لیڈران برابر اس طرح کے وحشیانہ الزامات لگا رہے ہیں کہ ہندستان پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ مگر اب تک کوئ بہی الزام ثابت نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی میڈیا کو کوئی ثبوت پیش کیاگیا۔   بہت سارے الزامات تو خود انہیں کے سکیورٹی افسران نے مسترد کردیےاور معتبر اخبارات نے انہیں جہوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ محض  نیشن اور نواٰے وقت اردو جیسے اخبارات جن پر سرکاری ایجنسیوں اور اسلام پسند گروپوں کا قبضہ ہے ان کا مقصد ہی ہندستان کے خلاف اس قسم کے الزامات کا پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ ڈان اور جیو کی مذکورہ بالا رپورٹ سے وزیر داخلہ کی کذب بیانی ظاہر ہو جاتی ہے۔

            نہیں معلوم پاکستانی  سیاسی لیڈران اور فوج کو بلا وجہ ہندستان پر الزام تراشی سے کیا ملتا ہے جب کہ ہندستان میں اسلام آباد کے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا بار بار ثابت ہو چکا ہے۔ کیا وہ اپنے ناکارہ پن اور دہشت گرد تنظیموں پر عدم کنٹرول کو ہندستان پر الزام تراشی کر کے چھپانا چاہتے ہیں؟ یا پاکستان کا سدا بہار دوست چین پاکستانی اداروں کو اس سطح پر لے جانا چاھتا ہے جو ان کے سماج کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔

یہ بات پورے طور پر معلوم ہے کہ لال مسجد پر حملہ کرنے کے لئے مشرف کو چین نے ہی اکسایا تھا جو مساج پارلر چلانے والی ایک چینی عورت کو چھڑانا چاہتا تھا۔ اور دھماکا خیز مواد سے بھرے ٹرک بہی چین کے ذریعہ کان کنی کئے جانے والی کانوں تک جا رہے تہے۔ تب پھر وزیر داخلہ رحمان ملک نے یہ الزام کیوں لگایا کہ ٹرک ہندستانی اوزار لے جا رہے تہے۔ کیاوہ چینیوں کی خوشنودی حاصل کر رہے ہیں جنہوں نے ان کو متنبہ کیا تھا کہ کانوں اور دیگر کمپنیوں میں چینی آجروں کی حفاظت کا وہ مناسب انتظام نہیں کر رہے ہیں۔

   جھوٹ کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے، نئے حقائق انہیں بے نقاب کر دیتے ہیں۔عام لوگ ہر وقت اپنے سیاسی اداروں کے اس طرح کے الزامات کو درست نہیں مان سکتے۔ ایک مرتبہ انہیں ان جہوٹے بیانات کے بارے میں معلوم ہو جائے تو سیاسی لیڈران اور فوج کا اعتبار ختم ہو جائےگا۔ تحفظ فراھم کرنے میں ناکامی پر لوگوں کے غصہ کا کوئی سامنا نہیں کرسکتا۔ جنرل مشرف(ریٹائرڈ) جو ابہی چند ماہ پہلے بھت مضبوط معلوم ہورھا تھا اسے بہی عوامی غصےکے آگے جھکنا پڑا۔دہشت گردی ایسی لعنت ہے جو پاکستان کے استحکام کو کھائے جارہی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں جنہیں فوج اور دوسرے سرکاری اداروں نے پروان چڑھایا تھا اب ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئی ہیں اور خود انہیں پر حملہ کررہی  ہیں۔  ہندستان اور پاکستان کی موجودہ رقابت سے قطع نظر ایک مضبوط ہندستان اور پاکستان کے مفاد میں برصغیر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کا تعاون کرسکتے ہیں۔

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

2 comments

  1. Really Pakistani leaders has got the tactic that if you don’t want people’s problem you have only to propagate against any imaginary enemy this is all what Pakistani leaders specially interior minister rehman malik is doing

  2. Really Pakistani leaders has got the tactic that if you don’t want people’s problem you have only to propagate against any imaginary enemy this is all what Pakistani leaders specially interior minister rehman malik is doing

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *