Home / Socio-political / سیمانچل کی خواتین کوبیداری کرنے کی تحریک

سیمانچل کی خواتین کوبیداری کرنے کی تحریک

عابد انور

ہندوستان سمیت پوری دنیا میں خواتین کی بیداری پر جتنا زور دیا جارہا ہے ، ان کے حقوق کے تئیں انہیں جتنا آگاہ کیا جارہا ہے اور ان میں جس قدربیداری آرہی ہے ان کے ساتھ معاشرہ کا سلوک اسی قدر ناروا ہوتا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ، دنیا کی مختلف تنظیمیں اور حکومت کے ادارے خواتین کو بیداری کرنے میں مصروف ہیں اورحکومت کے بجٹ کا ایک حصہ اس پرخرچ کیا جارہاہے لیکن خواتین اسی قدراستحصال کا شکار ہورہی ہیں ۔ایسانہیں ہے صرف دیہی یانا خواندہ خواتین استحصال اور بدسلوکی کاشکار ہیں بلکہ اگر خواتین کے حالات کے بغور جائزہ لیاجائے تواستحصال خواہ وہ جنسی یا ہو جسمانی اس میں خواندگی یا ناخواندگی کی کوئی قید نہیں ہے بلکہ اس صف میں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیاجاتا ہے ۔پڑھی لکھی نوکری پیشہ خواتین کو استثنائی حیثیت قطعی حاصل نہیں ہے بلکہ وہ بڑی تعدادمیں اس کاشکار ہوجاتی ہیں۔ اگر حالات کا گہرائی سے جائزہ لیاجائے تواس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین کاذہن میں تبدیلی آئی ہے اور وہ اپنے ہم سفر کو سہارا دینا چاہتی ہیں لیکن اس کے برعکس خواتین کے تئیں مردوں کے نظریے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بڑے سفارت کار، سول سروسز افسران ،ڈاکٹر انجینئر اور اطلاعاتی سیکٹر کے اہم عہدے پر فائز اگر مرد ہیں تو اپنے بیویوں کے ساتھ بدسلوکی، جنسی و جسمانی تشدد کرتے پائے گئے ہیں اور اگر ان عہدوں پر خواتین براجمان ہیں تو وہ اپنے شوہروں سے اس طرح کے سلوک کا شکار ہوئی ہیں۔ ہندوستان اور اس طرح کے دیگر ممالک گرچہ ترقی یافتہ دوڑ میں رواں دواں ہیں لیکن ذہنیت میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی ہے۔یوروپ جیسے ترقی یافتہ ممالک جہاں خواتین نے ہرشعبہ میں اپنی کامیابی کا جھنڈا بلند کررکھا ہے جنسی و جسمانی زیادتی کا شکار ہونے سے اپنے آپ نہیں بچا پاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک منٹ کے دوران پچیس لوگ جنسی زیادتی، تشدد یا تعاقب کا نشانہ بنتے ہیں۔امریکہ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک عورت زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔امریکہ میں بیماریوں سے تحفظ اور روک تھام سے متعلق ایک حکومتی ایجنسی کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ کی مطابق زیادتی کا شکار نصف خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے موجودہ یا سابق ساتھی یا شوہر نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ امریکہ میں جنسی زیادتی سے مراد نشے کی حالت میں یا جبراً جنسی تعلق قائم کرنے کو قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں صرف خواتین ہی نہیں تشددکا شکاربنتی ہیں بلکہ اب مرد بھی اس زمرے میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سات میں سے ایک مرد بھی اپنے ساتھی کے ہاتھوں شدید نوعیت کے جسمانی تشدد کا شکار ہوا۔اس مکڑ جال کو توڑنے اورجنسی و جسمانی تشدد سے عورتوں کو بچانے کے لئے ان میں بیداری لانا ازحد ضروری ہے۔ اسی کا بیڑہ بہار رابطہ کمیٹی نے اٹھایا ہے۔

بہار رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام خواتین بیداری کارواں جو کم و بیش پچاس مردوزن پرمشتمل تھا مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ اس کارواں میں انٹرنیشنل اسکول پٹنہ ڈائریکٹر فرحت حسن، ہمدرد پبلک اسکول اوکھلا کی انچارج ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ ، ریشما پروین،عزیزہ مرزا، صبوحی عزیز، گلشن آرا، کنچن بالا، بے بی کماری ،بندوکماری ،رخسانہ پروین ، روحی صاحبہ،ڈاکٹر شکیل خان، مشہور سرجن اور حئی اسپپتال کے ڈائرکٹرڈاکٹر عبدالحئی،سابق نوکر شاہ اورمشہور افسانہ نگار شفیع مشہدی اور اس کاررواں کے کنوینر افضل حسین شامل تھے۔ خواتین بیداری کاررواں کایہ سفرسیمانچل کے خطے میں8 اپریل سے15 پریل تک جاری رہا۔ اس کاررواں نے خواتین کو بیدار کرنے کے لئے ہر روز دودو پروگرام کئے۔اس کاررواں کا مقصد اس خطے میں خواتین میں بیداری بیدا کرنا ہے۔ٹھہرے میں ہوئے پانی پتھراچھالنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے جو تقریباً منجمد ہوچکا ہے۔ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ،صبوحی عزیز اورڈاکٹرشکیل احمد خاں نے اس خطے میں اپنی تقریروں اور ملاقاتوں کے توسط سے خواتین میں بیداری بیداری کرنے کی انتھک کوشش کی ہے۔ اس سے قبل کہ اس کاررواں کاتجزیہ کریں یہ ضروری ہے کہ ہندوستان میں خواتین خصوصاً بہارمیں خواتین کی حالت زار پر ایک نظر ڈال لیں۔

ہندوستان میں خواتین کی حالت بہت اچھی نہیں ہے یہاں تک نیپال اور بھوٹان جیسے غریب ممالک سے بھی یہاں کی خواتین کی حالت بدتر ہے۔ایک تازہ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اپنے شوہر کے ہاتھوں مار پیٹ کا شکار ہونے والی عورتوں کے بچے پانچ سال کی عمرتک پہنچنے سے پہلے ہی دیگر بچوں کے مقابلے 21 گنا زیادہ موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہندوستان جن18 لاکھ بچیوں کی موت ہوئی اس کی ایک وجہ ان کی ماوٴں کے ساتھ تشدد کے واقعات رہی ہے۔اسی کے ساتھ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق40 فیصد سے زائد عورتوں نے یہ بات تسلیم کی کہ انہیں زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنے شوہروں کے ہاتھوں مار کھانی پڑی ہے۔یہ سروے ملک کے 28 ریاستوں میں کیا گیا تھا جس میں 1.25لاکھ سے زائدخواتین سے سوالات پوچھے گئے تھے۔سروے کے مطابق جن 75000 ہزار مردوں سے سوالات پوچھے گئے ان میں سے 51 فیصد سے زائد نے کہا کہ انہیں اپنی بیویوں کو مارنے پیٹنے میں کوئی خرابی یا قباحت محسوس نہیں ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی طرح کے سروے میں تقریباَ54 فیصد خواتین نے یہ اعتراف کیا کہ انہیں اپنے شوہر کے ہاتھوں مار کھانے پر کوئی اعترا ض نہیں ۔ اس رپورٹ کے تذکرہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم یافتہ سماج کی تشکیل کے باوجود مردوں کی ذہنیت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اسی طرح کے خیالات آل انڈیا ڈیموکریٹکس وویمن ایسوسی ایشن ( AIDWA) کی جنرل سکریٹری سدھا سندر رمن نے بھی ظاہر کئے ہیں ان کے مطابق خواتین کو نہ صرف گھر کے اندر بلکہ گھر کے باہر اور کام کے مقامات پر بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حکومت کے تمام دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں اور سماجی ماحول بھی عورتوں کے خلاف ہے۔ان کے مطابق دراصل ہندوستان میں اب بھی مردوں کے غلبے والا سماج ہے۔ ہندوستانی سماج کی سوچ میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہندوستان میں خواتین کا استحصال ایک سلگتا ہوا موضوع رہا ہے اس پر آئے دن سیمنار،مباحثے، مذاکرے اور ورکشاپ ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ 2005 میں انسداد گھریلو تشدد قانون کا نفاذ بھی ہوگیالیکن اس طرح کے واقعات سے اخبارات کے کالم اب بھی بھرے پڑے رہتے ہیں۔ ہندوستان جیسے وسیع عریض ملک کے لئے جہاں مختلف تہذیبیں، مختلف رسمیں ہیں،کہیں مرد غلبہ والا سماج ہے توکہیں عورتوں کے غلبہ والاسماج جیسے شمال مشرق کے کچھ خطے لیکن مجموعی طورپر کہیں بھی خواتین کی صورت حال سازگار نہیں ہے اور ہر بری رسم کی تکمیل عورتوں کے استحصال پر منتج ہوتی ہے۔

بہار اور خاص طورپرسیمانچل کا خطہ جہاں پورے بہار کا تقریباً دوتہائی مسلمان رہائش پذیر ہیں خواتین کی حالت انتہائی دگرگوں ہے جس طرح مرکز نے اس علاقے کو نظرانداز کیا اسی طرح حکومت بہار نے بھی اس علاقے کبھی توجہ نہیں دی۔ یہ ۔علاقہ ہمیشہ سیلاب، آگ زنی اور دیگر قدرتی آفات کی زدمیں رہا ہے۔ اس لئے ترقی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہا ۔ یہاں پر حکومت کی نگاہ کبھی والہانہ نہیں رہی۔ یہ علاقہ بنیوں کے استحصال بدترین علاقہ رہا ہے۔ کوئی صنعت نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو اپنی پیدوار انتہائی کم قیمت میں فروخت کرنا پڑتا ہے۔ جہاں آمدنی کم ہوتی ہے یا روپے کی قلت ہوتی ہے اس کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر ہی پڑتاہے۔ یہاں کم سنی میں لڑکیوں کی شادی عام بات ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی 47 فیصد لڑکیوں کی شادی کم سنی میں کردی جاتی ہے جبکہ بہار میں یہ اعداد و شمار 67 فیصد ہے۔ پورے ملک میں شادی کے وقت لڑکیوں کی اوسط عمر ساڑھے انیس سال ہے، جبکہ بہار میں یہ صرف 16 سال ہے۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ خطرناک اشارہ یہ ہے کہ بہار کی 68 فیصد خواتین خون کی کمی کی شکار ہیں۔سیاست کے میدان میں بہار کی خواتین حاشیے پر ہیں۔ حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ میں خواتین اراکین اسمبلی کی حصہ داری 5 فیصد سے بھی کم ہے اور سب سے بڑا حیرت یہ کہ 80 فیصد خواتین ارکان اسمبلی کا تعلق اونچی ذاتوں سے ہے اور اس سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ پوری ریاست میں تقریبا 16 فیصد والے اقلیتی سماج سے ایک بھی خاتون رکن اسمبلی نہیں ہیں۔ سیاست میں خواتین کے 33 فیصد ریزرویشن کو لے کر بڑے بڑے دعوے کرنے والی تقریبا تمام بڑی پارٹیوں میں ایک بھی خاتون رہنما ایسی نہیں ہے، جس میں خواتین کے سیاسی جدوجہد کو آگے لے جانے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ بہار میں خواتین زمین وجائداد کے معاملے میں بھی دیگرریاستوں پیچھے ہیں۔ بہار میں ابھی بھی 95.5 فیصد خواتین کے پاس کوئی رئیل اسٹیٹ نہیں ہے۔ خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت کی جاری ایک رپورٹ کے مطابق بہار میں صرف 7.6 فیصد خواتین کے بینک میں اکاوٴنٹ ہیں۔ یہ تو صرف ایک نمونہ ہے بہار میں خواتین کے حالات کی۔ ترقی کے دیگر معیار پر بھی بہار میں خواتین کے حالات سازگار نہیں ہے۔مثلا بہار میں ابھی بھی خواتین کی خواندگی کی شرح 33.75 فیصد ہے۔ قومی سطح پر یہ 40 فیصد کے قریب ہے۔ بہار کے خواتین کی بدحالی کی داستان یہی ختم نہیں ہوتی۔ دیگر شعبے میں بھی اسی طر ح کے حالات ہیں۔

مندرجہ بالاپیراگراف سے یہ اندازہ بخوبی ہوگیا ہے کہ سیمانچل کا خطہ ہر طرح استحصال، جہالت، ناخواندگی،معاشرتی بدحالی،اقتصادی اورذہنی پستی کاشکار ہے۔ یہاں کام کرنے کی کتنی سخت ضرورت ہے۔ اس لئے اس کاررواں کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ اس کاپہلا اجلاس ارریہ میں ہوا تھا۔ جس میں اس علاقے کی پسماندگی اور خواتین کی سماجی صورتحال پرروشنی ڈالی گئی تھی۔ خطبہ استقبالیہ میں انوری بیگم پرنسپل ارریہ گرلس اسکول نے اس کااعتراف کیا ہے اس علاقے خواتین کی پسماندگی کی واحد وجہ جہالت ہے۔ اس کارروائی نے اس اجلاس سمیت پورے خطے میں یہاں کی خواتین کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ کوچادھامن سے ممبر اسمبلی اخترالایمان نے بھی اس کاررواں کی اہمیت کااحساس کرتے ہو ئے اس طرح کے پروگرام ک زور و شور سے چلانے اور سماج کو ترقی کے راستے پر لانے کے لئے ضلع میں تعلیم کا ماحول بنانے پر زور دیا۔ ڈاکٹر شکیل احمد خاں کی جدوجہد اور تعاون سے یہ کاررواں اپنا پیغام اس علاقے تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔اس کانفرنس میں بہار رابطہ کمیٹی کے سیکرٹری افضل حسین اور انٹرنیشنل اسکول پٹنہ کے ڈائریکٹر فرحت حسن کے مطابق اس کا اہم مقصد پورے ہندوستان کے تمام ریاستوں کے ضلع میں تعلیم، صحت اور سماج میں یکجہتی کے جذبے کو عوام تک پہنچانا ہے۔ اس کاررواں نے اس گاؤں کوبھی رونق بخشا جو گزشتہ سال ایک اندوہناک واقعہ کی سے ملک ہی بیرون میں سرخیوں میں رہا۔یہ فاربس گنج کا بدنصیب گاؤں بھجن پور ہے جہاں 3 جون2011 کو پولیس نے فائرنگ کرکے ایک ماہ کی حاملہ خاتون، ایک بچہ سمیت چار افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیاتھا ۔نو ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے لیکن متاثرین کسی طرح کے انصاف سے کوسوں دور ہیں۔اس گاؤں میں صبوحی عزیز، کنچن بالاجی، رخسانہ پروین، بے بی کماری نے خواتین سے چند سوالات کئے اور یہ حوصلہ دیا کہ وہ ان کی انصاف کی لڑائی میں شریک ہیں۔ اس کاررواں میں شریک تمام خواتین اورمرد حضرات نے خواتین کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پرزور دیا کہ معاشرہ میں جہیز ایک ناسور کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ہم خواتین کو یہ طے کرناہوگا کہ ہم بہو نہیں بیٹی لائیں گے تب ہمار ا معاشرہ معیاری معاشرہ ہوگا۔

بہار رابطہ کمیٹی کا قیام1996 میں ہوا تھااس کے اہم مقاصد میں تعلیم، صحت، دین اور اتحاد ہیں۔حالانکہ اس تنظیم کو بہترین دماغ اور پرخلوص افرادکی خدمات بھی حاصل ہیں ۔ اس میں مشہور سرجن ڈاکٹر عبدالحئی، سابق آئی اے ایس افسر شفیع مشہدی ، سماجی کارکن اور سیاست داں ڈاکٹرشکیل احمد خاں اور ہندوستان بھر کی سماجی تنظیموں کاتعاون حاصل ہے۔ لیکن اس کی کارکردگی اور فعالیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ خواتین بیداری کاررواں کا اجلاس ارریہ میں 2003 میں ہواتھا اور اب2012میں ہوا ہے۔ اس میں تقریباً نو سال کافاصلہ ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ بہاررابطہ کمیٹی کس قدرفعال ہے۔ اگربہار رابطہ کمیٹی کے کام کرنے کی رفتار یہی ہے اور دیگرعلاقوں میں بھی یہی ہے تو یہ کمیٹی کبھی بھی اپنے منزل مقصول پر نہیں پہنچ سکے گی۔ ا س لئے اگر حقیقت میں سیمانچل خطہ میں خواتین میں بیداری پیدا کرنا ہے تو چھ مہینے یا ایک سال میں اس کمیٹی کو یہ پروگرام منعقد کرنا چاہئے اوران خطوں کو نشانہ بنایا چاہئے جہاں جہالت ہے، ناخواندگی ہے کیوں کہ پسماندگی جہالت اور ناخواندگی سے عبارت ہے۔ سیمانچل کا خطہ صدیوں سے نظرانداز رہا ہے یہاں کی خواتین میں بیداری ایک دو پروگرام کرکے نہیں لائی جاسکتی اسے جہد مسلسل کی طرح کرنا ہوگا۔

ڈی۔۶۴، فلیٹ نمبر۔ ۱۰ ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔ ۲۵

9810372335

abidanwaruni@gmail.com

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *