Home / Socio-political / مصنف کی روح میں سماجانا ترجمے کا ایک بڑا چیلنج: پروفیسر سید محمد ساجد

مصنف کی روح میں سماجانا ترجمے کا ایک بڑا چیلنج: پروفیسر سید محمد ساجد

مصنف کی روح میں سماجانا ترجمے کا ایک بڑا چیلنج: پروفیسر سید محمد ساجد

جامعہ میں ’ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم‘کے تحت منعقدہ مذاکرے میں ممتاز مترجمین و ادبا کا اجتماع

نئی دہلی۔ ۲۴! نومبر

۲۰۱۲مصنف کی روح میں سماجانا ترجمے کا ایک بڑا چیلنج ہے ۔ ترجمے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک فطری پلیٹ فارم ہے۔ جامعہ کے کمٹمنٹ کو ہمیں ہر گز نہیں بھولناچاہیے۔ پرانے ساتھی آج بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید محمد ساجد، رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’’ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم‘‘ کے تحت منعقد ہونے والے شعبۂ ارد و کے افتتاحی جلسے میں کیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر سید محمد ساجد نے فرمایا کہ ڈاکٹر عابد حسین، ذاکر حسین اور محمد مجیب کے تراجم پورے ہندوستان میں مثالی ہیں۔ جامعہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ٹیگور کے ترجمے کا کام وزارت ثقافت حکومتِ ہند نے شعبۂ اردو کو عطا کیا۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے جسے شعبۂ اردو کے اساتذہ بحسن وخوبی انجام دیں گے۔ مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر خالد محمود نے شیخ الجامعہ جناب نجیب جنگ کی اردو دوستی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ پروجیکٹ بھی ان کی خصوصی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اب ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ وزارتِ ثقافت سے کیے گئے وعدے یعنی ٹیگور کی دس کتابوں کا اردو میں ترجمہ کریں۔ انھوں نے مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں کے ذمہ داران سے تعاون کی درخواست کی۔ پروفیسر عتیق اللہ نے کہا کہ اردو فکشن اور شاعری پر ٹیگور کے بڑے اثرات ہیں۔ ٹیگور کی تحقیق اور ترجمے کے لیے ۱۹۰۱ تا ۱۹۴۲ کے وہ رسائل یعنی ہمایوں، عالمگیر، مخزن، اور شاہ راہ وغیرہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ جن میں ٹیگور کے تراجم شائع ہوئے۔ ترجمے کے لیے مختلف ٹیموں اور ریویو کمیٹی کا ہونا بھی لازمی ہے۔ ٹیگور کی ایک اردوببلیوگرافی، ایک ڈاکیومنٹری اور یادگار تصویروں پر مشتمل کتاب بھی شائع ہو۔ اس موقع پر پروفیسر اخترالواسع نے فرمایا کہ اس پروجیکٹ کے تحت یہ کام پہلے سے منفرد ہونا چاہیے۔ ٹیگور کے ذہنی سفر ، ادبی تصورات کے مضامین بھی اردو میں منتقل ہونے چاہیے اور ساتھ ہی ان کے شعری اور افسانوی مجموعے بھی شائع ہوں۔ اردو میں ٹیگورپر پہلے سے کتنا مواد موجود ہے ان کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے ۔ پڑوسی ممالک میں ٹیگور شناسی کے حوالے سے جو اہم کام ہوئے ان کے تعلق سے بھی اس پروجیکٹ کے تحت کتابیں شائع ہوں اور ان کتابوں کی ایڈیٹنگ کے لیے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ پروفیسر اخترالواسع نے مزید کہا کہ ترجمے کو ہماری دانش گاہ میں جن اکابرین نے جزو ایمان سمجھا ہم ان کی قدر کرتے ہیں ۔ بلا شبہہ اس اسکیم کے تحت اردو کے لیے ایک نیا دروازہ کھلا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کام بہتر ڈھنگ سے انجام کو پہنچے گا۔اس مذاکرے کے دوسرے سیشن کی صدارت پروفیسر زبیر احمد فاروقی اور پروفیسر محمد اسدالدین اور تیسرے سیشن کی صدارت پروفیسر اختر الواسع ، پروفیسر عتیق اللہ اور پروفیسر انیس الرحمن نے کی۔پروفیسر انیس الرحمن نے فرمایا کہ اس پروجیکٹ میں بنگلہ زبان جاننے والوں کی شمولیت ضروری ہے۔ انھوں نے مترجمین کی فہرست تیار کرنے اور ببلیو گرافی تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ترجمہ شدہ مواد کی نظر ثانی اور ایڈیٹنگ پر خصوصی توجہ دینے پر بھی انھوں نے اصرار کیا۔ پروفیسر محمد اسدالدین نے ٹرانسلیشن کے ساتھ ساتھ ریسرچ پر بھی زور دیا۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے یہ مشورہ دیا کہ سب سے پہلے تمام اصناف کے مواد کو جمع کرکے کتابوں کا انتخاب کیا جائے اور ٹیگور نے اپنی جن کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اس پر توجہ دی جائے۔ بنگلہ ، انگریزی اور اردو داں حضرات کی سب کمیٹیاں بنائی جائیں۔ ڈاکٹر محمد یونس نے ٹیگور کو کلچرل ایمبیسڈر قرار دیتے ہوئے ٹیگور کے متن کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل پر زورد یا۔ انھوں نے کہا کہ شانتی نکیتن نے سبھی زبانوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اردو اور بنگلہ کے ادیبوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کا موقع ملے گا۔ پروفیسر گوبند پرشاد نے کہا کہ ہندی میں ٹیگور کے ترجمے بے حد خراب ہیں۔ ترجمے کے معیار پر زور دینا ضروری ہے۔ موسیقی ، سفرنامے، روزنامچے اور ٹیگور کی وہ کہانیاں جن میں دلت، استری اور آدیواسی ومرش ہیں ان کے ترجمے بھی ہونے چاہیے۔ انھوں نے ٹیگو رکے ناول ’’گورا‘‘ کے معیاری اردو ترجمے پر بھی اصرار کیا۔ پروفیسر ابن کنول نے ٹیگور کے حوالے سے یونیورسٹیوں میں تحقیق پر زور دیا۔ ڈاکٹر انورادھا گھوش نے ٹیگور کی اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ ٹیگور نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ چھے مترجم نہیں ہیں۔ انورادھا گھوش نے اس لیے یہ ضروری قراد دیا کہ بنگلہ زبان ہی سے اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ پروفیسر محمد نعمان خاں نے فرمایا کہ ٹیگور ایک مفکر اور ماہر تعلیم بھی تھے۔ آج کی تعلیمی پالیسی کی بنیاد ٹیگور کے افکار پر قائم ہے۔ اس ٹیگور پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے وشو بھارتی اور کلکتے کا سفر ضروری ہے تاکہ ٹیگور شناسی اور اس پروجیکٹ کی تکمیل میں مدد ملے۔ پروفیسر حبیب اللہ اور ڈاکٹر صہیب احمد نے عربی زبان میں ٹیگور کے حوالے سے جو کچھ بھی کام ہوا ہے ان نکات پر گفتگو کی۔ پروفیسر رضوان قیصر نے اس معاہدے پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی جن کے تحت وزارت ثقافت حکومت ہند سے یہ اسکیم جامعہ کو عطا کی گئی۔ انھوں نے اس کام کو اتنا معیاری ، شاندار اور سلیقے سے کرنے پر اصرار کیاتاکہ مستقبل میں جامعہ میں ٹیگور اسٹڈیز کا قیام عمل میں آجائے۔ پروفیسر وہاج الدین علوی نے ٹیگور پر لکھے گئے مضامین کے انتخاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کو لازمی قرار دیا۔  پروفیسرغضنفر علی اور ڈاکٹر عبدالرشید نے ٹیگور کی کتابوں کی ببلیو گرافی پیش کی۔جناب فرحت احساس نے اس کام کو انجام تک پہن

چانے کے لیے ٹرانسلیشن ریویو کمیٹی، ٹرانسلیشن کنٹرول کمیٹی ، لینگویج کمیٹی اور کور کمیٹی بنانے پر زور دیا۔ فرحت احساس نے فرمایا کہ ترجمہ بھونڈا نہیں ہونا چاہیے ۔ ترجمے کے معیار اور لسانی اہمیت پر توجہ دیں۔پروفیسر انور پاشا نے زبان و تہذیب سے ذہنی مناسبت رکھنے والے افراد کو ترجمے میں دعوت دینے کی بات کی۔ انھوں نے انگریزی اور بنگلہ کی اہم کتابوں کے اردو میں ترجمہ کرنے کے لیے بھی کہا۔ ڈاکٹر مولیٰ بخش نے کہا کہ ہم جن لوگوں کے لیے ترجمہ کر رہے ہیں ان پر بھی نظر رہنی چاہیے۔ انھوں نے افسانوں کے انتخاب کے ساتھ ٹیگور کے ناول ’چترا ننگا‘ کے ترجمے اور ٹیگور کے مضامین اور تصورات پر بھی کتاب کی اشاعت کی بات کی۔ عبدالنصیب خاں نے کہا کہ ٹیگور کے جو ترجمے ہو چکے ہیں ان کا معیاری اور بہتر ترجمہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ جناب انجم عثمانی نے ٹیگور پر ایک ڈاکیومنٹری بنانے کی بات کی۔ ڈاکٹر ندیم احمد نے اس پروجیکٹ کے تحت ٹیگور کی کتابوں کے معیاری ترجمے پر اصرار کیا۔ انھوں نے دیگر زبانوں میں لکھی گئی ٹیگور کی کتابوں کے بجائے بنگلہ زبان میں لکھی گئی کتاب کی اشاعت پر زور دیا۔

اس پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے پروفیسر شہزاد انجم نے ٹیگور پروجیکٹ کے حوالے سے یہ کہا کہ جامعہ اور شعبۂ اردو کے لیے بلا شبہہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ اتنا بڑا پروجیکٹ شعبے کو عطا کیا گیا ہے لیکن ہماری ذمہ داریاں بھی بے حد بڑھ گئی ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ترجمے کا کام معیاری اور وقیع ہو تاکہ جامعہ کا نام روشن ہو۔ اس پروگرام میں شعبہ کے اساتذہ  پروفیسر شہناز انجم، ڈاکٹر احمد محفوظ، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرور الہدی، ڈاکٹر خالد مبشر اور جامعہ کے ریسرچ اسکالرز کے علاوہ پروفیسر محمد ذاکر،پروفیسر تسنیم فاطمہ،سہیل انجم، ڈاکٹر افضل مصباحی ،ڈاکٹر عبد الحی، ڈاکٹر اشفاق عارفی اور جناب محمد وسیم بھی اس مذاکرے میں شریک ہوئے۔ پروگرام کے اختتام پر پروفیسر شہپر رسول نے سبھی معزز مہمانان ، اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کاشکریہ ادا کیا۔ اور یہ امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی سبھوں کا تعاون اس پروجیکٹ میں شامل رہے گا۔

٭٭٭٭٭

(تصویرمیں (دائیں سے بائیں) پروفیسر خالد محمود، پروفیسر سید محمد ساجد(رجسٹرار جامعہ) پروفیسر انیس الرحمن، ڈاکٹر انورادھا گھوش، پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر شہزاد انجم، جناب سہیل انجم)

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *