Home / Articles / اسلامی تصوف اور پیام ِ امن

اسلامی تصوف اور پیام ِ امن

انسانیت کی تاریخ میں تصوف یا صوفی ازم ایک عالمگیر تحریک رہی ہے۔دنیا کے بیشتر مذہب میں تصوف کی روایت ملتی ہے ۔ یہ روایت اسلام کی آمد سے پہلے کی ہیں ۔ لیکن لفظ تصوف سے کسی غلطی فہمی کا شکار نہ ہوں   کیونکہ اس لفظ  کو تاریخ دانوں نے  تفہیم کی غرض سے سہولت کے لیے استعما ل کیا ہے ۔ درا صل تصوف ہر اس  طریقہ ٔ عبادت کو کہا گیا جس میں کسی خاص اصول کی پروی کرتے ہوئے عبادت و ریاضت کے لیے مخصوص طریقے اپنائے گئے ۔ اسی لیے تصوف کے ارتقا کو اس کے کئی مکتبہ ٔ  فکر کے حوالے سے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔عام طور پر تصوف کے جو بڑے رجحانات رہے ہیں ان میں یہودیوں ، عیسائیوں ، زرتشتوں اور بودھوں کے علاوہ  ہندؤں میں بھی  پایا جاتا ہے ۔ اس  کے علاوہ دنیا کے کئی چھوٹے مذاہب  میں بھی اس طرح کے رجحانات دیکھنے کوملتے ہیں ۔یہاں تک کہ ایک طبقے کا یہ بھی خیال ہے کہ یونانی اور افلاطونی طریقہ بھی کسی نہ کسی طور پر تصوف سے  ملتا جلتاہے کیونکہ انھوں نے بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے جس فکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی اس میں روح تصوف کی  ہی کارفرمائی تھی۔اسی لیے ہمارے یہاں رائج تصوف کو ہم امتیاز کے لیے اسلامی تصوف کہتے ہیں ۔ کیونکہ اسلامی تصوف اور دیگرمکتبہ ٔ فکر میں زمین آسمان کا فرق موجود ہے ۔ دنیا میں رواج پانے والے تصوف کے دیگر تمام راستے کفر والحاد کی جانب جاتے ہیں اور اسلامی تصوف مخلوق کو معبود حقیقی تک پہنچاتا ہے۔آ ج دنیا میں تصوف کے نام پر ہر طرح کی غلط رسم کو رائج کرنے کی دانستہ کوشش ہورہی ہے ۔ کہیں تصوف کے نام پر رقص وسرود کی محفلیں سجائی جارہی ہیں تو کہیں ایسی محفلوں میں مردو زن ایک ساتھ مل کر  کیف ومستی تلاش کرنے کی آڑ میں غیر اخلاقی رسوم کو رائج کررہے ہیں۔اس سے بھی خطرناک بات یہ ہےکہ تصوف کے نام پر مذہب کو بالائے طاق رکھ کر  اکبر کے دینِ الٰہی جیسی کوششیں بھی ہورہی ہیں جس میں کئی مذاہب کے چیزوں کو ایک ساتھ جمع کر کے سارے مذاہب کی روح کو ختم کرنے کی منصوبہ بند کوشش یوروپ کی جانب سے کی جارہی ہے۔ موجودہ عہد کے اس فتنے کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی کوشش اور تدبیر کی ضرورت ہے ۔(آج کی یہ محفل بھی اس سمت میں ایک مستحسن کوشش ہے )اس سلسلے میں بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن میں یہاں  صرف ایک مثال سے اس بات کو ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ دو سال پہلے امریکہ سمیت ساری دنیا میں مولانا روم کے حوالے سے تقریبات ہوئیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ آ ج کی دنیا کی سب سے بڑی ضرورت تصوف ہے کیونکہ تصوف ہی دنیا میں امن قائم کر سکتا ہے ۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ اسلامی تصوف ہی یقیناٍ ًٍ دنیا میں امن کو قائم کرسکتا ہے ۔ لیکن ان تقریبا ت کو جس طرح منایا گیا اُن میں زیادہ تر غیر اسلامی تصوف کے رسوم  و رواج تھے ۔اس لیے تصوف کے نام پراہل مغرب جو سوداگری  کر رہے ہیں اس سے ہشیار رہنے کی  بے حدضرورت ہے۔

اب ذرا پیچھے کی طرف لوٹ کر یہ دیکھیں کہ تصوف کے محرکات کیا رہے ہیں۔بالعموم انسانوں میں دوطرح کے  رجحانات بہت عام رہے ہیں۔ ایک رجحان دنیا پرستی کا ہے جس میں انسان مال و دولت، شہرت، اور لذت حاصل کرنے کے لئے اپنے دین و ایمان کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس دوسرا رجحان دنیا سے گریز کا ہے جس میں انسان دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں میں نکل جاتا ہے۔ قدیم دور سے یہ دونوں رجحان انسانوں میں موجود رہے ہیں۔  ایسے لوگ جن میں دنیا سے گریز کا رجحان قوی تھا، انہوں نے ضروریات زندگی سے منہ موڑ کر جنگلوں کی راہ لی اور اپنا پورا وقت اپنے رب کی تلاش میں صرف کرنا شروع کر دیا۔ یہی لوگ “راہب” کہلائے۔ یہودیوں ، عیسائیوں اور بودھوں کے یہاں بہت مماثلت اسی  لیے ہے کہ ان کے یہاں رہبانیت ہی تصوف کی اصل راہ ہے ۔ جبکہ اسلامی تصوف اس کے بر خلاف ہے ۔ اولیائے کرام اور صوفیائے کرام نے اسلام کی اتباع کرتے ہوئے  عبادت و ریاضت  کے ساتھ ساتھ کبھی بھی معاشرے سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کیا بلکہ معاشرے میں رہ کر لوگوں کے دکھ درد کی چارہ جوئی بھی کی اور انھیں اسلام میں داخل بھی کیا۔ جولوگ مسلمان تھے انھیں عمل اور صالح اخلاق سے مزین بھی کیا۔ اسی لیے اسلامی تصوف دنیا کے تمام مکتبہ ٔ تصوف سے اعلٰی اور افضل ہے ۔اس تصوف نے بر صغیر اور خلیج و عرب میں میں دین کی روشنی پھیلائی اور دنیا میں امن و سکون کا ایسا ماحول پید کیا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔

اسلامی تصوف کی ابتدا کے حوالے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تیسری صدی ہجری اور اس کے بعد جب عباسی خلفا کے زیر حکومت مسلم معاشرہ علمی، تمدنی، معاشی اور معاشرتی پہلو سے اپنے عروج پر تھا ، اسی دور میں تصوف کی روایت بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہی تھی۔سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی(م 297ھ)،شیخ بایزید بسطامی(م261ھ)،شیخ سری سقطی(م 253ھ)، شیخ ذوالنون مصری(م 245ھ)،شیخ ابو بکر شبلی(م334ھ)اورشیخ ابو القاسم گرگانی(م450 ھ) جیسے اکابرین نے اگر تصوف کی عملی روایت کو منتہائے کمال پر پہنچایا تو سہل بن عبداللہ تستری(م283 ھ)، شیخ ابو طالب مکی(م 386ھ) ، امام ابوالقاسم قشیری(م 465ھ)، شیخ علی ہجویری(م465 ھ)،امام غزالی(م 505ھ)، شیخ عبدالقادرجیلانی(م561 ھ)، شیخ شہاب الدین سہروردی(م632 ھ)، شیخ ابن عربی(م 638ھ) اور جلال الدین رومی(م 672ھ) جیسے صوفیوں نے عملی روایت کے ساتھ علم اور قلم کی طاقت کے ساتھ تصوف کے اسرارو رموز کو اعلیٰ علمی سطح پر پیش کیا۔

اسلامی تصوف کے حوالے سے گفتگو بہت طویل ہوجائے گی اس لیے میں اسلامی تصوف کے ذیل  میں صرف ہندستان کے تناظر میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ہندستان میں اسلام کی آمد کے حوالے سےتاریخ ہند وپاک کے مصنف نے لکھا ہے کہ :

” اسلام مذہب کی حیثیت سے پہلے جنوبی ہند پہنچا- مسلمان تاجرو اور مبلغین ساتویں صدی عیسوی میں (یاد رہے کہ رسول اللہۖ کی وفات 632ء میں ہوئی تھی- یعنی آپ کی وفات کے بعد جلد ہی مسلمان) مالیبار اور جنوبی سواحل کے دیگر علاقوں میں آنے جانے لگے- مسلمان چونکہ بہترین اخلاق و کردار کے مالک اور کاروباری لین دین میں دیانتدار واقع ہوئے تھے- لہذا مالیبار کے راجاؤں، تاجروں اور عام لوگوں نے ان کے ساتھ رواداری کا سلوک روا رکھا- چنانچہ مسلمانوں نے بریصغیر پاک و ہند کے مغربی ساحلوں پر قطعی اراضی حاصل کرکے مسحدیں تعمیر کیں- (یاد رہے کہ اس وقت حانقاہوں کی تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا) اور اپنے دین کی تبلیغ میں مصروف ہوگئے- ہر مسلمان اپنے اخلاق اور عمل کے اعتبار سے اپنے دین کا مبلغ تھا نتیجہ عوام ان کے اخلاق و اعمال سے متاثر ہوتے چلے گئے- تجارت اور تبلیغ کا یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہا یہاں تک کہ مالیبار میں اسلام کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوا اور وہاں کا راجہ بھی مسلمان ہوگیا- جنوبی ہند میں فروغ اسلام کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں جنوبی ہند مذھبی کشمکش کا شکار تھا- ہندو دھرم کے پیروکار بدھ مت اور جین مت کے شدید محالف اور ان کی بیخ کنی میں مصروف تھے- ان حالات میں جب مبلغین اسلام نے توحید باری تعالی اور ذات پات اور چھوت چھات کی لا یعنی اور خلاف انسانیت قرار دیا، تو عوام جو ہزاروں سال سے تفرقات اور امتیازات کا شکار ہورہے تھے- بے اختیار اسلام کی طرف مائل ہونے لگے- چونکہ حکومت اور معاشرہ کی طرف سے تبدیلی مذہب پر کوئی پابندی نہیں تھی- لہذا ہزاروں غیر مسلم مسلمان ہوگئے- (تاریخ پاک وہند، ص:390)

اس اقتباس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے زیر اثر لوگ اسلام کی طرف کشاں کشاں آنے لگے ۔ در اصل علمائے کرام نے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے تصنیف وتالیف کا راستہ اختیار کیا اور اور صوفیائے کرام نے اسلامی اصولوں کو عملی طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا۔جوصوفیائے کرام برصغیر ہند و پاک میں تشریف لائے اور جن کی وساطت سے ہندستان  میں اشاعت اسلام کی اشاعت ہوئی ، ان میں دو ہستیاں ہی زیادہ مشہور ہیں جو پہلے پہل تشریف  لائيں- پہلے حضرت علی ہجویری (1009ء تا 1072ء) ہیں، یہ غیر منقسم ہندستان (موجودہ لاہور) میں 1069ء میں تشریف لائے اور دوسرے بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (1124ء تا 1235ء) ہیں- جن کی ہندستان میں آمد کی تاریخ 10 محرم 561ھ بمطابق 1161ء بتائی جاتی ہے جبکہ بعض محقیقن اور تذکرہ نگاروں کے بیان کے مطابق یہ تاریخ 577ھ یا 580ھ ہونی چاہیے۔

ہندستانی صوفیانے ملک و قوم کے لیے ایسی خدمات انجام دی ہیں جن کی مثال دوسری قوموں کے صوفیوں میں نہیں ملتیں۔  ہندو اور عیسائی صوفیاء کے برعکس مسلم صوفیاء نے جنگلوں میں چھپ کر زندگی گزارنے کی بجائے معاشرے کے بیچ میں رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ابتدائی صدیوں میں فقہ اور حدیث کی تدوین اور کلامی و فلسفیانہ بحثوں میں مشغولیت کے باعث اہل علم کی بڑی تعداد عوام الناس کی اخلاقی تربیت نہ کر سکی تھی۔ صوفیاء نے اس خلا کو پر کیا۔ انہوں نے انسانی نفسیات میں گہری مہارت حاصل کی اور اس کو اپنے نظریات پھیلانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اخلاقی تربیت کے لئے استعمال کیا۔مسلمانوں کے علماء میں بالعموم عوام سے دوری کا رجحان رہا ہے۔ انہوں نے عام طور پر دین کو دلوں میں اتارنے کے لیے سختی سے کام لیا۔ اس کے برعکس مسلم صوفیاء نے عوام سے قربت اختیار کی۔ انہوں نے اپنے لباس، رہن سہن اور نشست و برخاست کو عوامی بنایا۔ علماء نے اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کا طریقہ اختیار کیا۔ برصغیر کے علماء نے عام طور پر مقامی زبانوں کی بجائےعربی و فارسی کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اس طریقے سے وہ پڑھے لکھے طبقے تک تو اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو گئے مگر عوام الناس  تک ان کی رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس صوفیاء نے عوامی طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے عوامی ذوق کے مطابق مقامی زبانوں میں اپنا پیغام پیش کیا۔ اس حوالے سے یہاں  میں مخدوم بہاری کا  عقتمندوں سے  اجنبیت دور کرنے کا یہ انداز پیش کرنا چاہوں گا جب وہ بہار کی سرزمین میں جلوہ گر ہوئے اوراسلامی تعلیمات کو عوام تک پہنچانے کے لیےعملی قدم اٹھایا تو انھوں نے اس وقت اور وہاں کے حالات کے مدنظر  رہن سہن  کے علاوہ زبان اور اسلوب بھی وہی اپنایا۔ تاریخ بہار کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں ۔ یہ کتاب در اصل بہار میں اردو زبان کی ابتد کے سلسلے میں لکھی گئی ہے لیکن انھوں نے مخدوم بہاری کی زبان کا نمونہ پیش کیا ہے ۔ یہ در اصل ایسے ماحول کی زبان ہے جب لوگ صوفیا کے پاس اپنا دکھ درد لے کر حاضر ہوتے تھے اور دعا پڑھوانے اور دم کرانےکا رواج بہت تھا۔ ایسے موقعے پر مخدوم بہاری  نے جو اسلوب اپنایا اسے دیکھیں:

‘‘جو کچھ فلانے کے پنڈ پران  میں ہوئے ، راہ کا باٹ کا ، کُوّے کا ، پوکھر کا ، اندھیاری کا ، اجیالی کا ، چوٹ کا پھیٹ کا ، کیے کا ، کرائے کا ، بھیجے کا ، بھیجائے کا ،لانگھے کا ، اُلکہین کا ، دیو ، دانَو ، بھوت پریت، راکس بھوکس،ڈائن ڈکن، سب دور ہوئے بحق لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ’’

اسی طرح آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ، حضرت بختیار کاکی اور حضرت نظام الدین اولیا کے درباروں میں ایسے طریقے اورتدابیر  دیکھیں گے جو لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے تھے ۔ اسی لیے ان بزرگان دین نے کبھی شہنشاہوں کے دربار کا رخ نہیں کیا بلکہ شہنشاہ خود ان کے دربار میں آتے تھے ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ان صوفیا کے دربار اس زمانے میں  سماجی ادارے  کی حیثیت رکھتے تھے ۔ یہ دربار مرجع خلائق اس لیے تھےکہ شہنشاہی دور میں ہر کس و ناکس دربار میں اپنی فریادیں لے کر جانے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے لیکن صوفیا کے دربار ایسے تھے جہاں بے روک ٹوک جاسکتے تھے ۔ ان درباروں سے ان کے دکھ کا مداوا بھی ملتا تھا اور دین کی روشنی بھی ۔ یہی وہ دربار تھے جنھوں نے ہندستان کی نہ صرف تعمیر و تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ ان درباروں نے ہندستان کو پوری دنیا میں ایک الگ شناخت دی۔ انھیں صوفیا کے فیض سے آ ج بھی ہندستان میں رواداری ، اخوت ، محبت اور امن قائم ہے ۔ یہ آج کے دور کی بڑی ضرورت اس لیے بھی ہیں کہ یہاں من وتوکا امتیاز نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھید بھاؤ کا دخل ہے اس دربار میں سب آسکتے ہیں ۔ ابھی ضرورت ایسے خانقاہوں کی ہی ہے جہاں تمام مسلک و مشرب کے لوگ جمع ہوسکیں ۔ جب ہر طرح کے لوگ آئیں گے تب ہی تو آپ انھیں صحیح راستے کی طرف دعوت دے سکتے ہیں ۔ لیکن جب لوگ آئیں گے ہی نہیں تو آپ کس کو بُلائیں گے۔ اور کیا دعوت دیں گے۔

صوفیوں نے عوام سے قریب ہونے  کے لیے اسلام کا ہی وہ طریقہ اپنایا جسے محبت اور روداری کا طریقہ کہتے ہیں۔ انھوں نے عملی طور  پر اخلاق کا نمونہ پیش کر کے لوگوں کو عشق حقیقی تک پہنچایا۔

About admin

Check Also

ہری چند اختر کا نثری اور شعری اسلوب

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ہندستانی زبانوں کا مرکز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *