Home / Socio-political / سوالیہ نشان؟

سوالیہ نشان؟

سوالیہ نشان؟

سمیع اللہ ملک

بھارت میں مذہبی فسادات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جب جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو ریاست گجرات کی ایک ذیلی عدالت کی جج جیوتسنا یاگنک نے تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت ان کے جرائم کی مناسبت سے سخت ترین سزائیں دیکر ایک تاریخ رقم کی ہے۔بھارت میں۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات تک مذہبی فسادات وقفے وقفے سے ہوا کرتے تھے۔ اکثر فسادات کے پیچھے سیاست کارفرما ہوا کرتی تھی۔ فسادات میں سینکڑوں اور کبھی کبھی ہزاروں بے قصور افراد مارے جاتے اور قاتلوں کوآج تک کبھی سزا نہیں ہو تی تھی۔۱۹۸۳ء میں آسام کے نیلی علاقے میں چند گھنٹوں کے اندر دو ہزار سے زیادہ انسانوں کو ان کا محاصرہ کرنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس بھیانک قتل عام کا ارتکاب کرنے والوں کو آج تک قانون کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہی نہیں اس قتل عام  کے منصوبہ ساز تو انعام کے طورپرریاستی اقتدارکے مالک ٹھہرے ۔

۱۹۸۴ء میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دارالحکومت دلی اور ملک کے کئی شہروں میں سکھوں پر ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ تقسیم ہند کے وقت کی بربریت کی یاد تازہ ہو گئی جس کو وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سکھوں کے خلاف قتل عام کو یہ کہہ کر جواز فراہم کیا کہ جب بڑا پیڑ گرتا ہے تو زمین ہلتی ہی ہے۔دلی اور دیگر شہروں میں تین ہزار سے زائد سکھوں کوکیڑوں مکوڑوں کی طرح قتل کردیاگیا لیکن آج تقریبا تیس برس گزرنے کے بعد بھی عملی طور پر ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ملی۔ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ۱۹۹۳ء میں فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بیدردی سے ماردیاگیا، حکومت کے قائم کردہ ایک کمیشن نے قاتلوں کی نشاندہی کی، قصورواروں کا نام لیا، مضبوط ثبوت فراہم کئے اور سازشیں کرنے والوں کے دامن پکڑ لیے لیکن اٹھارہ برس کی جد وجہد کے باوجود ایک بھی مجرم کو سزا نہ مل سکی۔

ان فسادات میں ملک کے انصاف کا پورا نظام بے بس تماشائی بنا ہواہے۔ قانون و آئین کے سارے ادارے اپنے ہی بنائے ہوئے جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں تو اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا مذہبی اقلیتوں کے خلاف ریاست دانستہ طور پر تفریق برت رہی ہے؟مذہبی اقلیتیں یہ سوچنے کے لیے مجبور ہونے لگیںہیں کہ ملک میں ان کیلئے انصاف کے حصول کے سارے راستے بند ہوتے جا رہے ہیںجوبھارت میں مذہبی فسادات اقلیتوں پر ایک بھیانک مصیبت بن کر نازل ہو رہے ہیں۔ ان فسادات میں صرف اقلیتوں کوہی ہمیشہ زبردست جانی، مالی اور اعصابی نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ انہیں فسادات کے بعد کبھی انصاف نہیں مل پاتا۔

گجرات میں جو ہوا تھا وہ صرف نریندر مودی کا خاصہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے کانگریس کے دورحکومت میں اسی احمدآباد میں اس سے بھی زیادہ بھیانک فسادات ہو چکے ہیں۔ مودی سے پہلے تو گجرات میں فسادات سالانہ رسم بنے ہوئے تھے اور ان فسادات میں مودی کے ہی فساد کی طرح کبھی کسی کو سزا نہیں ملتی تھی۔اسی لیے جب گزشتہ احمدآباد کی خصوصی عدالت کی جج جیوتسنا یاگنک نے نروڈا پاٹیہ میں ۹۷ مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں ایک با اثر سابق وزیر اور ایک سرکردہ ہندو رہنما سمیت اکتیس افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تو انصاف کا یہ معمول کا عمل پورے ملک کو غیر معمولی لگا ۔ابھی تین برس پہلے تک انہیں عدالتوں میں ایک ایک کر کے سارے مقدمے کبھی ناکافی ثبوتوں کے سبب تو کبھی گواہوں کے انحراف سے ڈھیر ہو رہے تھے لیکن جب سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور اہم مقدمات کی از سر نو تفتیش اور سماعت کرائی تو پھر انہی مقدمات میں مجرموں کو سزائیں ملنے لگیں۔احمدآباد کی خصوصی عدالت کے تاریخ ساز فیصلے سے یہ سوال بھی منسلک ہے کہ کیا انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کی انجمن برائے انصاف نے شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور بارہ مولہ کے ۵۰دیہات کا سروے کرنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ان دیہاتوں میں پچھلے بائیس سال کے دوران یقینی ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے پانچ سو سے زائد اطلاعات کودنیاکے سامنے پیش کیا گیا ۔مسلح تصادم کے دوران جائیداد کو پہنچے نقصان کا تخمینہ سو کروڑ سے زائد بتایا گیا ہے جبکہ۲۰۴۸ /افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مختلف فورسز نے حراست کے دوران ان پر جسمانی تشدد کیا۔فوج یا دوسری فورسز کے ذریعے جبری مزدوری کا شکار افراد کی تعداد ۶۸۸۸ بتائی گئی ہے۔معروف بھارتی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا جس کوکشمیر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ا نہیں کئی بار ایئرپورٹ سے ہی واپس دلی بھیج دیا جاتاتھا،بالآخر کشمیری رضا کاروں کے ہمراہ جمعرات کو یہ رپورٹ سرینگر میں جاری کی جبکہ انہوں نے انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کو پہلے ہی یہ رپورٹ بھیج دی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران گوتم نولکھا نے ٹھوس شواہد کی بنیادپراپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ہلاک کیے گئے یا لاپتہ ۵۰۲/ افراد میں سے ۴۹۹ مسلمان ہیں، دو کشمیری بولنے والے ہندو (پنڈت) ہیں جبکہ ایک سکھ ہے۔رپورٹ کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریب واقع بارہ مولہ اور کپواڑہ اضلاع میں۱۶خواتین سمیت ۴۳۷/ افراد مارے گئے جبکہ۶۵/ افراد لاپتہ ہیں۔ہلاک یا لاپتہ کل ۵۰۲/افراد میں سے۱۹۲عام شہری ،۲۲۵ عسکریت پسند ،۴ پولیس اہلکار، ۴ مخبر اور ۱۲ سابق عسکریت پسند بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔کل ہلاکتوں میں سے ۳۲۰ کے لیے سرکاری ایجنسیوں کو ذمہ دار بتایا گیا ہے جبکہ۸۴ لوگوں کے قتل کو مسلح عسکریت پسندوں کے کھاتے میں ڈال دیا گیاجبکہ ۳۷ ہلاکتوں کا الزام نامعلوم مسلح افراد پر ہے۔

عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے ۸۴/افراد میں ۵۱عام شہری ، ۱۹ عسکریت پسند ، ۲ کا تعلق کشمیر پولیس کے ساتھ ،۴فوج یا پولیس کے اعانت کار جبکہ ۸ سابقہ عسکریت پسند تھے۔ گمشدہ افراد میں سے ۲۳/ ایسے ہیں جو مختلف مقامات سے لاپتہ ہیں جبکہ ۴۲/ افراد لائن آف کنٹرول پر ہی غائب ہوگئے۔شہریوں کی انجمن برائے انصاف یا سٹیزنز کونسل فار جسٹس (سی سی جے )کی اس رپورٹ میں بارہ مولہ اور کپواڑہ کے پچاس دیہات کا تفصیلی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔اس کے مطابق صرف ایک لاکھ اکسٹھ ہزار نفوس پر مشتمل پچاس گاؤں کی آبادی میں فوج اور نیم فوجی عملہ کی ۱۴۵ /تنصیبات ہیںجن میں وسیع رقبے پر پھیلے فوج کے کیمپ بھی ہیں۔۲۲ سرکاری اور غیرسرکاری عمارات بھی فوج یا نیم فوجی عملے کے زیرِتصرف ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ فوجی تنصیبات ۲۰۴۷ کنال رقبہ زمین پر قابض ہیں اور اس کے علاوہ ۵۷/ ایسے مقامات ہیں جہاں مشتبہ افراد پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے ۔ سی سی جے کا دعویٰ ہے کہ ان دیہات میں ۵۷ ٹارچر مراکزاب بھی قائم ہیں۔

رپورٹ کے ابتدائیہ میں کہا گیا ہے کہ ان دیہات کا سروے کرنے کے لیے مقامی رضاکاروں نے باوجودانتہائی خوف کی فضامیں معلومات فراہم کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کیا۔رپورٹ جاری کرتے وقت گوتم نولکھا نے کہا کہ صرف پچاس دیہات میں ظلم کی پانچ سو داستانیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ جموں کشمیر کی حکومت اور انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کو بھی پیش کی جارہی ہے۔ رپورٹ میں متاثرین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ان پر ہوئی زیادتیوں کا معقول معاوضہ اور مکمل انصاف چاہتے ہیں۔قابل غور بات تو یہ ہے کہ ایسی کئی اور بھارتی بربریت کی بے شمار مصدقہ ملکی اور غیرملکی رپورٹس اب بھی ریکارڈپر موجود ہیں لیکن وہاں اقوام متحدہ کاوفد تحقیقات کیلئے کیوں نہ جا سکاجبکہ پچھلے ۶۵برسوں سے کشمیر کا متنازعہ معاملہ اقوام متحدہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کراس کی کارکردگی پرسب سے بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ بھارت میں ابھی تک کوئی عاصمہ جہانگیر،نجم سیٹھی، حسن نثار،نذیر ناجی،پرویزہود بھائی اوراسی قبیلے کے دیگر افراد موجود نہیں جن کی حمائت پرموجودہ حکومت نے اقوام متحدہ کے وفد کو اس دورے کی دعوت دی۔

About admin

Check Also

جرمنی میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کو” حیدر طباطبائی ایوارڈ”سے نوازاگیا

جرمنی میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کو” حیدر طباطبائی ایوارڈ”سے نوازاگیا  فرینکفرٹ، جرمنی۔ ۱۵ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *