Home / Articles / میری یادوں کے لمس

میری یادوں کے لمس

پروفیسرشہاب عنایت ملک

صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی

profshohab@yahoo.com

94191-81351

پہلی قسط

ملک کوتقسیم ہوئے تقریباً18 سال ہوچکے تھے ۔ دُنیاکے نقشے پردوممالک ہندوستان اورپاکستان ابھرکرسامنے آچکے تھے۔ اس تقسیم نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی پیداکی تھی۔ تقسیم کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان نئے نئے مسائل پیداہوگئے تھے۔ سب سے بڑامسئلہ کشمیرکاتھا۔ اسی کشمیرکوحاصل کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان 1965ءء میں ایک بڑی جنگ بھی لڑی گئی جس میں گولی بارودکابے تحاشہ استعمال ہوا۔ توپوں کی گنگڑاہٹ ، بندوقوں کی آوازوں اورفضیاکے تابوڑتوڑحملے کے درمیان ہی میراجنم 10 مارچ 1965ءء کوبھدرواہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں گاٹھ میں ہوا۔ یہ گاؤں چندکچے مکانوں پرمشتمل تھالیکن اب یہ گاؤں اعلیٰ قسم کی عمارتوں پرمشتمل ہے۔ یہاں کافش پانڈاورمصنوعی جھیل اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں ۔ گاٹھ میں ہی واسکی ناگ جی کامندربھی اہمیت کاحامل ہے ۔ یہاں سے ہی ہندوبرادری کی نہایت ہی متبرک یاترا”کیلاش یاترا“ ہرسال اگست کے مہینے میں نکلتی ہے جس میں ہزاروں کی تعدادمیں لوگ شرکت کرکے کیلاش پربت پہنچ کروہاں کی جھیل میں غسل دے پوجاپاٹھ کرتے ہیں ۔ تین دن پرمشتمل یہ یاتراواسکی ناگ جی کے مندرپرہی اختتام پذیرہوتی ہے۔ اسی گاؤں میں میراجنم عنایت اللہ ملک اوررشیدہ بیگم کے ہاں ہوا ۔ ذراہوش سنبھالاتوداداجان نے نہایت ہی شفقت دی اوراپنی آغوش میں مجھے سُلاسُلاکربڑاکیا۔داداجان اگرچہ کہ فارسٹ میں ایک معمولی گارڈتھے لیکن پورے گاؤں میں اُن کادبدبہ تھا۔ خوش لباس ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وہ پُرمذاق شخصیت بھی تھے۔ نوابوں کی طرح حقہ پینا، گھوڑااورکتالے کرشکارپرچلے جانا اُن کے اہم مشاغل تھے۔ داداجان جنھیں پوراگاؤں ملک دین محمدکے نام سے پکارتاتھاعمدہ کھاناکھانے کے بہت شوقین تھے۔ کھانے میں گوشت اورمچھلی ان کے پسندیدہ غذائیں تھیں۔

برف باری کے دوران اپنی بارہ بورکی بندوق لے کرگھوڑے پرسوارہوکراورکتے کوساتھ لے کرجب وہ بھدرواہ کے جنگلات میں شکارکرنے کے لیے نکلتے تھے تولگتاتھاکہ کوئی نواب جارہاہو۔ کبھی کبھی بہت دنوں کے بعدداداجان جب لوٹتے تھے توبہت سارے جنگلی مرغ اورچکورشکارکرکے لے آتے تھے۔

بیچاری دادی جان پرایسارعب جمارکھاتھاکہ ادھرانہوں نے کوئی حکم صادر کیاتوچیزحاضرہوجاتی۔ خدانخواستہ اگرکبھی دیرہوتی توگھرمیں کہرام مچ جاتا۔ امی ،ابواوردادی جان ڈرسے کانپنے لگتے ۔ لیکن میں داداجان کاچوں کہ چہیتاتھااس لئے گھرمیں سب سے زیادہ پیارمجھے ہی دیتے تھے ۔ مجھے یادہے کہ بچپن میں کسی ہم جماعت سے میری لڑائی ہوئی ، مجھے جب ہم جماعت نے پیٹاتوداداجان کواس کی خبرلگ گئی ۔ پھرکیاتھانہ آؤاورنہ تاؤ۔سیدھامیرے ہم جماعت کے گھرپہنچ کرایک کہرام بپاکیااورنوبت اس حدتک پہنچی کہ دونوں خاندانوں میں بڑے عرصے تک بہت زیادہ تناؤرہا۔ داداجان نے اپناایک صندوق رکھاتھاجس میں وہ اپنے دیدہ زیب ملبوسات کے علاوہ 5 اورایک روپے کے صاف وشفاف نوٹ رکھتے تھے۔ ایک دن جب میں نے داداجان کوصندوق میں نوٹ رکھتے ہوئے دیکھ لیاتومیری نیت بدل گئی ۔ اب میں اس انتظارمیں رہنے گاکہ کب داداجان گھرسے باہرنکلیں اورمیں ان صاف وشفاف نوٹوں پرہاتھ ماروں ۔ اورجب داداجان گھرسے باہرجاتے تھے تومیں اپناہاتھ مارلیتا۔ یہ سلسلہ بہت دیرتک چلتارہا۔ جب انہیں معلوم ہواتوانہیں غصہ توآیامگرمجھے کچھ کہہ نہ سکے۔ ریڈیوپرخبریں سننااورکرکٹ کمینٹری سنناداداجان کاایک اوراہم مشغلہ تھا۔ وہ جب خبریں سنتے توکیامجال کہ اُس وقت کوئی شورکرے۔ بی بی سی لندن اورریڈیوپاکستان کی خبریں شایدہی کبھی داداجان سے چھوٹ گئی ہوں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ دنیاکے سیاسی حالات سے ہمیشہ باخبررہتے تھے۔

میں نے جب ہوش سنبھالاتومجھے پہلی جماعت میں گاٹھ کے مڈل سکول میں داخل کردیاگیا۔ میرادل پڑھائی میں بالکل نہیں لگتاتھااس لئے اسکول سے فوراً گھرواپس آتا۔ والدہ بہت پریشان رہنے لگی ۔ وہ بڑی حساس طبیعت کی مالک تھیں اُنھیں یہ غم ستانے لگاکہ ان کابیٹاان پڑھ رہ جائے گا۔ مجھے کبوتراورمرغ پالنے کے علاوہ کھیتی باڑی کاشوق تھا۔ بچپن میں ان ہی چیزوں نے پڑھائی سے میرادل بالکل اُکتادیاتھا۔ والدہ اوروالدہزارقسم کے لالچ دے کرمجھے اسکول بھیجتے لیکن میں واپس آتااورمیرے والدین کادِل شکستہ ہوجاتامجھے ڈانٹاجاتااورپیٹاجاتاتھالیکن اُس وقت بھی داداجان یہی کہتے کہ کیاہوالڑکاپڑھائی نہیں کرے گالیکن رہے گاشہزادوں کی طرح ۔ میری امی رشیدبانومعروف شاعررسا#جاودانی کی صاحب زادی تھیں جبکہ والدعنایت اللہ ملک بھدرواہ کے قابل احترام اُستاد۔ لوگ پیارسے اُن کوڈرائینگ ماسٹرکہتے تھے۔ جب میرے والدکوئی تصویربناتے تومیں اُنہیں گھرکی دیواروں پرآوزیاں کرتاکبھی کبھی اُن کی جیب پربھی ہاتھ مارتالیکن گھرمیں چوں کہ سب کالاڈلاتھااس لئے کوئی کچھ کہنے کی جرت بھی نہیں کرتا۔ والدین نے یہ بھی بتایاکہ پیداہونے کے بعدجب میں صر ف چندماہ کاتھاتومیں بہت بیمارہوا۔ مجھ پرعجیب دورے پڑتے تھے ، میں بے ہوش ہوجاتا۔ لاکھ علاج کروایاگیا۔ مگرکچھ افاقہ نہیں ہوا۔ آخرترون میں ایک درویش صفت انسان پیرمبارک شاہ سے رجوع کیاگیا۔ پیرصاحب نے مجھے علاج کرناشروع کیااورمیں ٹھیک ہوگیا۔ بعدمیں اپنے مرتے دم تک پیرصاحب کاہمارے گھرآنارہا۔ وہ جب آتے تھے توپورے خاندان میں اُن کی عزت ہوتی تھی ۔ مجھے یادہے کہ میرے نانارساّ جاودانی اورمیری نانی صاحبہ بھی پیرمبارک شاہ کوقدرومنزلت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ پیرمبارک شاہ چھوٹے قدکے انسان تھے۔ چہرہ سرخ اوراُس پرسفیدداڑھی ، ہاتھ میں سوٹی لئے ہوئے جب چلتے تھے تواُن کی شخصیت اورنکھرآتی تھی ۔ پیرصاحب میں روحانیت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی ۔ انہوں نے میرانام شہاب رکھا۔ غرض پیرمبارک شاہ ہمارے خاندان کے لئے فرشتے سے کم نہیں تھے۔ جب میرادل پڑھائی سے اُکتانے لگاتووالدہ نے پیرصاحب کوروروکرماجرہ سنایا۔ پیرصاحب نے عربی کی آیات پڑھیں اورمجھے ایک تعویظ دیا۔ یہ تعویظ اتنااثرکرگیاکہ میں اسکول جانے لگا۔

اسکو ل میں ابتدامیں ماسٹردین محمداورماسٹربشمبرناتھ سے پڑھائی حاصل کی ۔ دونوں ہی نہایت ایمانداراورسخت قسم کے اساتذہ تھے ۔ ان کی تربیت کی وجہ سے میں نے گورنمنٹ مڈل اسکول گاٹھ سے ہی مڈ ل کلاس کاامتحان اول درجے میں پا س کیا۔ اسی دوران میری والدہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلاہوگئیں وہ ذہنی طورپربہت پریشان رہنے لگیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ جس خاندان سے تعلق رکھتی تھیں وہاں کاماحول ہمارے خاندان سے قدرے مختلف تھااوروہ نئے ماحول میں اپنے آپ کوایڈجسٹ نہیں کرپارہی تھیں۔ ذہانت میں اُن کاکوئی جواب نہیں تھا۔ دسویں جماعت میں والدہ نے پورے ضلع ڈوڈہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ انگریزی ، فارسی اوراُردوتینوں زبانوں پردسترس رکھتی تھیں۔ رسا# جاودانی اپنی اولادوں میں سے میری والدہ کوہی بہت عزیزرکھتے تھے۔ جب والدہ بیماررہنے لگیں توگھرکی مالی حالت بھی کمزورہوگئی۔ والدجوکچھ بھی کماتے تھے ۔ والدہ کی بیماری پرصرف کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے لئے جب والدہ ذراٹھیک ہوئیں توگھرکی مالی حالت کوٹھیک کرنے کے لئے مرحوم ناناجان نے بھدرواہ کے مشہوراورمعروف دانشورڈاکٹرمحمداقبال سے رجوع کیاجنھوں نے میری والدہ کوایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کلرک کے عہدے پرتعینات کیا۔ چوں کہ اُن کاتقررخاص بھدرواہ کے زیڈ۔ای ۔اوآفس میں ہواتھااوراُس زمانے میں چوں کہ گاٹھ سے بھدرواہ تک پیدل آناوالدہ کے لئے مشکل تھااس لئے ہم محلہ پاسری میں ایک کرائے کے مکان میں رہنے لگے۔ یہاں واضح کردوں کہ اس دوران میراداخلہ ایک دوبرس کے لئے گورنمنٹ نگراسکول بھدرواہ میں کیاگیاجہاں سے میں نے پانچویں اورچھٹی جماعت کے امتحانات پاس کئے۔ یہ اسکول میرے ننہال کے بالکل سامنے تھا۔ یہاں مجھے ماسٹرظہورالدین جسے اساتذہ نصیب ہوئے جنھوں نے ہرطرح سے میری رہنمائی کی۔ جب والدہ کاٹرانسفرگورنمنٹ ہائراسکینڈری اسکول بوائیزبھدرواہ میں ہواتوہم ناگن ہالہ بھدرواہ میں ایک کرائے کے مکان پررہنے لگے۔ والدہ کی طبیعت پھرخراب رہنے لگی۔ جتنی بھی آمدنی تھی اُن کی بیماری پرصرف ہورہی تھی ۔ اُن کی خواہش تھی کہ ہم سب بھائی بہن اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ وہ بیماری کی حالت میں صبح کھاناتیارکرکے لنچ بکس میں ڈال کرہم دونوں بھائیوں کواسکول روانہ کرتی تھیں۔ ہم لنچ بکس ننہال میں چھوڑکرنگراسکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتے تھے۔ یہ دورہم نے نہایت ہی افلاس میں گذرا۔

اسی دورمیں مجھے بہت کچھ سمجھنے کاموقع بھی ملا۔ مجھے یادہے اُس زمانے میں میرے پاس ایک بوٹ پہننے کے لئے نہیں تھااورمیں کئی دفعہ ننگے پاؤں نگراسکول گیاہوں۔کہتے ہیں ناجب مصیبت آجاتی ہے تواپنے بھی منہ موڑلیتے ہیں ۔ یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوامیری والدہ کے تمام رشتہ دارسوائے رسا# صاحب کے ہمیں حقارت کی نظرسے دیکھنے لگے۔ اعلیٰ عہدوں پرتعینات اپنے ہی خاندان کے لوگوں نے جب منہ موڑناشروع کیاتووالدہ بہت دل برجستہ ہوئیں۔ والدہ کی بیماری اورمالی مشکلات کی وجہ سے والدکے مزاج میں چڑچڑاپن آگیاجس کی وجہ سے گھرمیں روزتناؤرہنے لگااورا س تناؤکاشکارہم بھائی بہن بنتے گئے۔ ناگن ہالہ بھدرواہ میں اگرہماری مددکسی نے کی تووہ گھرکی مالکن کلشوم آپاتھیں جومصائب کے ان لمحات میں ہمیشہ میری والدہ کے ساتھ رہیں کبھی کبھی جب گھرمیں کھانانہیں بنتاتھاتوکلشوم آپا، اپنے گھرسے پکاکرلاتی اورہمیں کھلاتی ۔ کلشوم آپاجوانی میں ہی بیوہ ہوچکی تھیں۔ ناگن ہالہ میں ہائیرسکینڈری اسکول کے پاس ہی اُن کاایک مکان، ایک باغ اورزمین تھی۔ اُن کابڑابیٹالطیف ہائیرسکینڈری اسکول کے پاس چائے کی دوکان چلاکرگھرکاگذاراکرتاتھا۔ کلشوم آپابھی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کاپیٹ پالتی تھیں اورکبھی کبھی ہمارابھی ۔ ناگن ہالہ میں گذارے ہوئے ایام جب مجھے یادآتے ہیں تورونے کودل کرتاہے۔ کلشوم آپاکی محبت اپنوں کی بیگانگی ، والدہ کی آہیں اورآنسواس سب کامشاہدہ میں نے ناگن ہالہ میں ہی کیا۔

ناگن ہالہ میں مُصیبت کی اس گھڑی میں کلشوم آپاکے علاوہ جن لوگوں نے ہمیں اخلاقی تعاون دیااُن میں میرے والدکے دیرینہ دوست علی محمدشادہائیرسکینڈری اسکول کے پرنسپل جناب سپروصاحب، بشیربھدرواہی صاحب، ماسٹربشیربیگ اورمیری والدہ کی پھوپھی اقبال آنٹی کے اسمائے گرامی قابل ذکرہیں،اقبال آنٹی اوراقبال انکل کاذکرآئندہ کے صفحات میں تفصیل سے کرو ں گا۔ یہ سارے حضرات وقتاًفوقتاًوالدہ کی مزاج پرسی کے لئے آتے تھے اورہمیں حوصلہ بھی دیتے تھے۔ مرحوم رسا# جاودانی اورنانی مرحومہ زیبہ بانوکووالدہ کی بیماری سخت تڑپاتی تھی ۔ رسا# صاحب تقریباًروزانہ والدہ کودیکھنے آتے اورجب میں اُن کے پاس جاتاتھاتواُن کے تابڑتوڑسوالات کاسامناکرناپڑتاتھا آج گھرمیں کیابنایاتھا، کتنے گھنٹے رشیدہ نے نیندکی، وقت پردوائی کھائی اس قسم کے کئی سوالات کے جوابات رسا# صاحب کومجھے ہی دینے پڑتے تھے۔ میں نے رسا# صاحب کووالدہ کی بیماری میں اُس وقت جموں میں روتے ہوئے دیکھاہے جب والدہ کاOperationہوا۔ تب مجھے احساس ہواکہ والدین اپنے اولادکے لئے دل میں کتنادردرکھتے ہیں۔ رسا# جاودانی پورے ہفتے ڈاکٹراقبال کے گھرپررہے روزہسپتال آتے اوروالدہ کی مزاج پُرسی کرتے۔

بھدرواہ کے اکثرگاؤں میں اورخاص کرگاٹھ کے قریب ایک گاؤں ملسومیں ان لوگوں کاایک بڑاطبقہ رہتاہے جومحنت مزدوری کرکے اپناپیٹ پالتے ہیں۔ یہ لوگ گھوڑوں پرجنگلوں سے لکڑی لاکرفروخت کاکام بھی کرتے ہیں۔ انہیں اس علاقے میں ابدال کہاجاتاہے۔ رسا# صاحب نے مجھے اِس حوالے سے ابدال کُٹ کانام دیاتھا۔ گویاان کے کہنے کامقصدیہ ہوتاتھاکہ میں بھی زندگی میں کچھ نہ کرکے ابدال ہی بن جاؤں گالیکن اس کے باوجودوہ مجھ سے بے انتہاپیارکرتے تھے۔ میں ساتویں یاآٹھویں جماعت کاطالب علم تھاکہ ہمارے دوستوں میں پیسوں کی جگہ بٹن کھیلنے کاسلسلہ شروع ہوا۔ ایک دِن میرے پاس تمام بٹن ختم ہوچکے تھے۔ کھیلنے کانشہ چڑھاہواتھا۔ میں چپکے سے رسا# صاحب کے کمرے میں گھُسااُن کے تمام ملبوسات سے سارے کے سارے بٹن کاٹ کرگاٹھ بھاگا۔ صبح جب رسا# جاودانی سوٹ پہننے لگے تودیکھاسارے بٹن غائب ہیں۔ فوراًبھانپ گئے کہ ابدال کٹ کاکام ہی ہوسکتاہے مجھے بلایاگیا۔ میرے بڑے ماموں مرحوم تاج صاحب نے کافی ڈانٹ ڈپٹ پلائی۔ رسا# صاحب نے مجھے گلے لگاکربہت پیارکیا۔ اُس کے بعدمیں نے بٹن چرانے کاکام ترک کردیا۔ مرحومہ نانی صاحبہ کومجھ سے اتنی محبت تھی کہ انہیں اپنی کسی بات کوسچ ثابت کرنے کے لئے خاندان کے دوسرے افرادمیری قسم اُٹھانے پرمجبورکردیتے تھے۔ خُدااِن دونوں کوجنت الفردوس میں جگہ دے۔

جیساکہ پہلے ہی تحریرکرچکاہوں کہ میرے والدبحیثیت ڈرائینگ ماسٹربہت دوردورتک مشہورتھے۔ ابتدامیں انہیں فنون لطیفہ سے بھی بڑی دلچسپی تھی ۔ خُدانے حسن سے بھی بے پناہ نوازاتھا۔ بھدرواہ میں جب تفریح کے ذرائع موجودنہیں تھے تواسٹیج ڈرامے کھیلے جاتے تھے۔ ان ڈراموں کودیکھنے کے لئے بھدرواہ کے گردونواح سے سینکڑوں لوگ رات رات بھرجمع ہوتے تھے ۔ میرے والدہمیشہ زنانہ کرداراداکرتے تھے جب کہ ڈرامے کے ہیروبھدرواہ کے مشہورمورخ پیروفیسراودھے چندہواکرتے تھے۔ یہی نہیں والدمحترم مزاحیہ شاعری بھی کرتے تھے۔ اوراسٹیج کے لئے ڈرامے بھی تحریرکرتے تھے ۔ پھران ڈراموں کی پیش کش کے لئے اُدرانہ کے پنچایت گھرمیں مہینوں ریہرسل ہواکرتی تھی اورمیں والدمحترم کے ساتھ ہمیشہ ان تقریبات میں شرکت کرتاشایدیہی وجہ ہے کہ ادب وفنون لطیفہ کے جراثیم غیرشعورطورپراُسی زمانے میں مجھ میں داخل ہوئے۔ مجھے وہ رات اچھی طرح یادہے جب دوسرے دن واسکی ناگ مندرکے میدان میں اسٹیج ڈراماکھیلنے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ گھرمیں لاؤڈسپیکرکوٹیسٹ کیاجارہاتھاکہ اچانک والدمحترم کاہاتھ بجلی کی کسی تارسے لگ گیا۔ جھٹکااِتنازوردارتھاکہ والدمحترم بے ہوش ہوگئے۔ گھرمیں ایک کہرام مچ گیا۔ روناپٹناشروع ہوگیاکہ اچانک کسی نے کہاکہ لاؤڈسپیکرکی تارنکال دو۔ جب ایساکیاگیاتوتقریباًدوگھنٹے کے بعدوالدکوہوش آیااورہم نے سکون کی سانس لی اُس دن میں نے موت کوقریب دیکھاہے۔ آج بھی وہ واقعہ مجھے لرزاکررکھ دیتاہے۔خدانخواستہ والدِ محترم کوکچھ ہواہوتاتوہم یتیم ہوگئے ہوتے۔ خُداانہیں صحت کامل عطاکرے۔ میرے والدکوپڑھنے لکھنے کابھی بہت شوق تھا۔ وہ اکثرجاسوسی اوررومانی ناول گھرمیں پڑھنے کے لئے لاتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ شمع بیسویں صدی، بھیانک جرائم پاکیزہ آنچل ہما، نئی دُنیااورعوام کے متواتر قاری تھے۔ بچپن میں ، میں بھی ان رسائل جرائداوراخبارات کامطالعہ کرتاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ آٹھویں جماعت میں ہی میں نے گُلشن نندہ کے تمام ناول پڑھ ڈالے تھے۔ اس کے علاوہ ابن صفی# کے اچھے خاصے ناولوں کامطالعہ بھی میں نے اسی دوران کیا۔ میں ابھی آٹھویں جماعت کاطالب علم ہی تھاکہ نئی دنیاکے ایک شمارے کامطالعہ کرنے کے بعدمیں نے اس کے ایڈیٹرشاہدصدیقی کوایک خط لکھا۔ دوسرے شمارے میں میرے لکھے ہوئے اس خط کوشاہدصدیقی نے جوں کاتُوں شائع کیا۔ گویا# نئی دُنیامیں شائع ہوایہ خط میری پہلی مطبوعہ تحریرہے۔ والدمحترم کے یہ سارے شوق اُس وقت درہم برہم ہوگئے جب والدہ بیماررہنے لگی ۔ اُس کے بعدانہوں نے جومصیبتیں اُٹھائیں ہیں اُنہیں بیان کرنے سے میراقلم قاصرہے۔ اپنوں نے ان پرطرح طرح کے الزامات لگائے والدہ کی بیماری کاموجب بھی انہیں ہی ٹھہرایاگیالیکن یہ میں جانتاہوں کہ میرے پیارے ابّونے امّی کی خاطربہت سی قربانیاں دیں۔اپنے شوق اورمشاغل کوترک کرکے اپنی تنخواہ سے والدہ کاعلاج کرواتے رہے۔ اس دوران کسی نے اُن کی مددنہیں کی وہ کبھی جموں کے ہسپتالوں میں بھٹکے اورکبھی کشمیرکے اس دوران اپنوں نے جورویہ اختیارکیااُسے تحریرکرنے سے بھی میراقلم قاصرہے۔

گورنمنٹ مڈل سکول گاٹھ سے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعدمیں نے ہائیرسکینڈری اسکول بھدرواہ میں نویں جماعت میں داخلہ لیا۔ میں شروع سے ہی حساب کے مضمون میں بہت کمزورتھا۔ اُمیدتھی کہ نقل کرکے دسویں کاامتحان پاس کردوں گالیکن جب نقل کی کوئی راہ نہیں نکلی تومیں دسویں جماعت میں حساب کے مضمون میں فیل ہوا۔ نویں اوردسویں میں شفقت قیوم ملک ، ارشادملک، طارق بٹ ، ارشادشیخ، پنکابانڈے میرے اچھے دوستوں میں تھے۔ اس کے علاوہ معروف گلوکارروی ٹھاکورکی بیوی سے بھی میرااُٹھنابیٹھناتھا۔ جب یہ سب دوست پاس ہوئے تومجھے اپنے فیل ہونے پربے حددُکھ لگا۔ میں نے محنت کی اوراگلے سال میں نے دسویں جماعت کاامتحان اچھے نمبرات سے پاس کیا۔ اسی دورا ن اُس وقت کے کابینہ کے وزیرمرحوم غلام محمدبھدرواہی نے میرے چنددوستوں کوNomination پرمختلف کالجوں میں انجینئرئنگ کی ٹریننگ کے لیے بھیج دیااُن میں میرے دوقریبی دوست پنکابانڈے اورروی گپتابھی تھے۔ میں ان کے جانے کے بعدسوچتارہاکہ اب مجھے کیاکرناچاہیئے ۔ گیارہویں میں پہلے سائینس مضمون اورپھرکامرس رکھالیکن میرے دل میں ڈاکٹربننے کی خواہش جاگ اُٹھی تھی ۔ اُردوسے شروع سے ہی میرالگاؤتھا۔ میں نے تہیہ کرلیاکہ میں اُردومیں ایم اے کرکے پی ایچ ڈی حاصل کروں گا۔ میں نے اپنامدعا والدصاحب سے ظاہرکیاانہوں نے کامرس سے میرامضمون آرٹس کردیا۔ والدصاحب اُن دنوں اسی سکول میں تعینات تھے ۔ گیارہویں اوربارہویں جماعت میں اُردومجھے بھدرواہ کے معروف شاعرجناب الیاس تنویرنے پڑھائی۔ اُن کی پڑھائی ہوئی اُردوکانتیجہ ہی ہے کہ مجھے اس زبان سے اورزیادہ لگاؤپیداہوا۔جب میں آٹھویں جماعت کاطالب علم تھاکہ میرے نانارسا#جاودانی کینسرکی مہلک بیماری میں مبتلاہوکراس جہان فانی سے چلے گئے۔ ان کے انتقال سے چندروزپہلے میرے ماموں پروفیسرخیرات محمدابنِ رسا# جواُن دنوں لاہوریونیورسٹی کے وائس چانسلرتھے ۔اپنے اہل وعیال کے ساتھ بھدرواہ تشریف لائے۔ مجھے اُن کے بیٹے حسیب سے دوستی ہوگئی ۔ رسا# جاودانی کے یہی وہ فرزندتھے جن کے لئے وہ پوری زندگی ترستے رہے ۔ اُن کی جُدائی کے غم میں اشعارتحریرکرتے گئے لیکن جب یہی بیٹاانتقال کے بعدبھدرواہ تشریف لایاجوموت کے وقت بھدرواہ میں موجودنہیں تھا۔ رسا# صاحب نے زندگی کاآخری سانس اُس وقت لیاجب میری بیماروالدہ اُن کے سرہانے پرپہنچیں۔ خیرات صاحب کوانتقال کی خبرکشتواڑکشتواڑمیں دی گئی اورجب وہ بھدرواہ تشریف لائے توہزاروں پرنم آنکھوں نے رسا#صاحب کواُن کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیاگیا۔ جہاں خیرات صاحب کے تینوں بیٹے نہایت ہی خوش اخلاق اورخوش مزاج تھے وہیں اُن کی اہلیہ ایک چڑچڑی مزاج کی خاتون تھیں جسکی وجہ سے وہ خاندان کے دوسر ے افرادسے گُھل مل نہیں پائیں ۔البتہ خاندان کے دوسرے افرادنے اُن کی عزت افزائی کرنے میں کوئی کثرباقی نہیں رکھی۔ خوب دعوتیں ہوئیں۔ کبھی کبھی جب وہ لمحات مجھے یادآتے ہیں توآنکھوں میں آنسوں آجاتے ہیں ۔ رسا# جاودانی نے زندگی میں بیٹے کی جدائی میں کتنے آنسوں بہاتے ہوں گے لیکن انتقال کے وقت جب بیٹاتشریف لایاتوکشمیرکے نظاروں میں اسقدرکھوگیاکہ اپنے والدکوبھی بھول گیا۔

میں دسویں جماعت کاطالب علم تھاکہ داداجان جموں میں انتقال کرگئے۔ اُن کی لاش کوجب والدمحترم نے جموں سے بھدرواہ لایاتومیں بہت رویا۔ مجھے لگاکہ میں یتیم ہوگیا۔ داداجان ہی توتھے جومجھے بے انتہامحبت کرتے تھے ۔ میرے ہرجائیزاورناجائیزمطالبے کی حمایت کرتے تھے۔ وہ مجھے پیارسے شبوکہتے تھے۔ شبومیرابچپن کانام ہے اوراپنے پورے خاندان میں اب بھی مجھے اسی نام سے جاناجاتاہے۔

داداجان کی موت کے بعدمیں کافی رنجیدہ رہنے لگا۔ میرادل اُکتانے لگا۔ مجھے وہ دن یادآنے لگے جب داداجان اپنے پاس سُلاکرمجھے لوریاں سناتے تھے۔ میرے لئے لوگوں سے جھگڑاکرتے تھے۔ داداجان میں لاکھ خرابیاں رہیں ہوں لیکن میرے لئے وہ ایک بہترین دوست تھے۔ ایک ایسے دوست جنھوں نے اپنی پوری زندگی شہزادے کی طرح گذاری اورایسی ہی زندگی گذارنے کی مجھے بھی ترغیب دی۔ خُدانہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

بھدرواہ ہائیرسکینڈری اسکول کی تعلیم کے دوران ہی مجھے کرکٹ سے بے حدلگاؤپیداہوگیا۔اُس دوران ہندوستان اورپاکستان کے درمیان جتنے بھی ٹیسٹ میچ کھیلے گئے میں نے اُن کی تمام کاروائی ایک رجسٹرپرنوٹ کی ہے جواب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ اسکول میں ، میں نے کرکٹ کی باضابطہ تربیت ،مشہورکرکٹ کوچ جناب علی باباسے حاصل کی۔ یہ وہی علی باباہیں جوفضیاکی نوکری چھوڑکرکوچ بنے تھے۔ یہ اُن کی تربیت کانتیجہ تھاکہ جلدہی میراشماربھدرواہ کے اچھے بلے بازوں میں ہونے لگا۔ کسی بھی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے میں اوپننگ بلے بازہواکرتاتھا۔ بعدمیں ،میں ڈگری کالج بھدرواہ کی کرکٹ ٹیم کاکپتان بھی رہااوراس سلسلے میں کافی ٹورنامنٹ بھی کھیلے ۔ سنیل گواسکر، سیدکرمانی، وسیم باری ، سکندربخت، جاویدمیاں داداورڈیوڈگاوراُس زمانے میں میرے پسندیدہ کھلاڑی ہواکرتے تھے۔ ہندوستان اورانگلینڈکی کرکٹ ٹیموں کاتین روزہ میچ جوجموں کے مولاناآزادسٹیڈیم میں کھیلاگیاتھااُس کامیں نے مشاہدہ بھی کیااوراپنے محبوب بلے بازڈیوڈگاورکوبھی اس میچ میں بلے بازی کرتے ہوئے دیکھا۔ ہائی اسکول کے زمانے میں ہی میں این سی سی سے وابستہ رہااورکئی این سی سی کے کیمپوں میں بھی حصّہ لیا۔

بچپن سے ہی مجھے ڈگری کالج بھدرواہ میں تعلیم حاصل کرنے کاشوق تھا۔ اس کالج کاشمارریاست کے پرانے کالجوں میں ہوتاہے ، یہی وہ کالج تھاجہاں میری والدہ نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ جب ہائیرسکینڈری سکول میں ، میں تعلیم حاصل کررہاتھاتوایک دفعہ مجھے اُس وقت کالج جانے کااتفاق ہواجب بھدرواہ میں فلم نوری کی شوٹنگ چل رہی تھی ۔ کالج کے گراؤنڈمیں کوئی سین فلمایاجارہاتھے۔ اسی منظرکودیکھنے کے لئے میں پہلی دفعہ کالج کی چاردیواری میں داخل ہوا۔یہیں میری ملاقات نوری فلم کے ہیروفارق شیخ اورہیروین پونم ڈھلوں سے بھی ہوئی۔ بھدرواہ کالج خوبصورتی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ بارہویں جماعت کاامتحان پاس کرنے کے بعدمیری خوشی کی کوئی انتہانہیں تھی۔ میں نے بی اے میں داخلہ لیا۔ کالج کی دُنیاالگ تھی۔ رنگ برنگی دُنیا، رنگ برنگے طالب علم، میں نے اُردوکے علاوہ ایجوکیشن انگریزی اورسیاسیات کے مضامین لئے۔ سیاسیا ت کے ساتھ ساتھ مجھے اُردوسے بے حدلگاؤپیداہوگیاتھا۔ کالج میں اُردوکے اُستادپروفیسراسداللہ وانی تھے۔ وانی صاحب خودبھی اسی کالج کے پیدوارتھے۔ انہوں نے میری تربیت کرناشروع کی، اورمجھے کالج کی دوسری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب بھی دیتے رہے جس کانتیجہ یہ نکلاکہ میراشمارکالج کے اچھے مقررین میں ہونے لگا۔ مختلف مقابلوں میں حصہ لیتارہااورہمیشہ دوسرایاتیسراانعام ہی حاصل ہوا۔ بی اے سال اول میں میری خالہ زادبہن بنٹی میری ہم جماعت بنی۔ وہ مجھ پرکڑی نظررکھتی تھی ، میں نے اِدھراُدھرکیادیکھاکہ شکایت خالہ تک پہنچ جاتی تھی ۔ آہستہ آہستہ سعیدہ خالہ کے میں زیادہ قریب ہوگیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران انہوں نے مجھے ماں سے بھی زیادہ پیاردیا۔ بی اے سال اول میں ہی مجھے ایک لڑکی جوڈوڈہ کی رہنے والی تھی سے بے حدمحبت ہوگئی ۔مگریہ محبت یک طرفہ تھی مجھے آج بھی اس بات کوجاننے کی تڑپ ہے کہ آخراُس نے میری محبت کیوں قبول نہیں کی۔

بی اے سال دوم میں وانی صاحب کاتبادلہ جموں ہوا اُن کی جگہ ڈاکٹراقبال زرگراُردوکے اُستادمقررہوکرآئے۔ اُردومیں انہوں نے بھی میری تربیت کی ۔ کالج میں دوسال کاعرصہ کیسے گذراپتہ ہی نہیں چلا۔دوستوں کے ہجوم میں جاویدشیخ، نذیرشیخ، مشتاق وانی، گلاب سیفی، نورالعین وغیرہ شامل تھے۔ ہم کبھی کرکٹ کھیلتے اورکبھی سیروتفریح کے لئے نکل جاتے۔ بھدرواہ کی خوبصورت اورحسین وادی کے قدرتی مناظرکامشاہدہ کرتے کرتے شام کوہم باسری بس اسٹینڈپرگپ شپ مارتے تھے۔ کالج میں پروفیسرامرجیت سنگھ ہمیں انگریزی پڑھاتے تھے جبکہ پروفیسرعبدالواحدملک سیاسیات کامضمون پڑھاتے تھے۔ پروفیسرواحدملک کارُعب پورے کالج پرتھا۔ سب طالب علم ان سے بہت گبھراتے تھے۔ بھدرواہ کے مشہورسیری بازارمیں تین دن کے دنگل کااہتمام کیاجاتاتھا۔ ہم کالج کی کلاس چھوڑکردنگل دیکھنے چلے جاتے تھے۔ اس دنگل میں بھدرواہ اوراس کے گردونواح کے نامی گرامی، پہلوان حصہ لیتے تھے۔ اب نامورپہلوانوں کودیکھ کرمجھے بھی دنگل لڑنے کاشوق پیداہوا۔ مگریہ شوق کبھی پورانہیں ہواالبتہ اس شوق کی وجہ سے میں نے اپنے جسم کومضبوط بنانے کے لئے تیل کی مالش کرناشرو ع کی۔ ہمارے انگریزی کے اُستادامرجیت سنگھ نہایت ملن سارتھے وہ گھرمیں بھی مجھے انگریزی مفت پڑھایاکرتے تھے۔ ہمارے انگریزی کے دوسرے اسُتادسری نگرسے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اُن طالب علموں کوہی Assignment کے نمبرات اچھے دیتے تھے جوانہیں ایک بھدرواہی مُرغادیتاتھا۔ اُن کاقیام کالج کے احاطے میں ہی تھا۔ ایک دن پروفیسرصاحب کلاس لینے میں مصروف تھے کہ میں اورمیرادوست ارشادملک ان کے کوارٹر پہنچ گئے ۔ دروازے پرتالالگاہواتھاالبتہ صحن میں کثیرتعدادمیں مرغ سیروتفریح کررہے تھے۔ ہم نے چارمرغوں کوپکڑاکسی طرح انہیں دریائے نیروکے کنارے پہنچایا۔ انہیں حلال کرنے کے بعدہم تین چاردوستوں نے چاروں مرغوں کوپکاکرکھالیا۔ اس واقعہ کاپتہ جب پروفیسرامرجیت سنگھ کوہواتووہ کافی ہنسے۔ اگلے دن پورے کالج میں افواہ تھی کہ کشمیرکے انگریزی کے پروفیسرکے چارمرغ غائب ہیں۔ اغواکارکون ہیں اس کاکسی کوپتہ نہیں چل سکا۔ سوائے پروفیسرامرجیت سنگھ کے جنھوں نے مرغوں کی اغواکی سازش رچی تھی۔ یہ واقعہ آج بھی جب یادآتاہے توبے اختیارلبوں پرہنسی آجاتی ہے۔ دوسال میں کالج کی دُنیامیں کچھ اسقدرکھوگیاکہ نہ کھانے پینے کاغم اورنہ گھرکی فکر۔ بس مستی ہی مستی ۔ کبھی اِدھرتوکبھی اُدھر۔ دیکھتے ہی دیکھتے امتحانات آگئے ۔ چنانچہ پڑھائی کی طرف راغب ہوناپڑااورخداکافضل تھاکہ میں نے بی اے کاامتحان اچھے نمبرات لے کرپاس کیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران ہی حقائق پرمبنی میری بعض کہانیاں ماہنامہ بھیانک جرائم میں شائع ہوئیں جنھیں پڑھنے کے بعدمختلف قارئین کے تعریفی خطوط بھی ملے۔ یہ خط پڑھ کرمجھ میں لکھنے کاحوصلہ پیداہوا۔

میں بی اے پاس کرنے کے بعدایم اے اُردوتعلیم حاصل کرنے کے لئے جموں تشریف لایا۔ گھرکی مالی حالت اگرچہ کہ متواترخراب تھی لیکن میری والدہ میرے تعلیم کے سلسلے کو منقطع نہیں ہونے دیا۔اوریوں میں نے شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اولڈکیمپس میں داخلہ لیا۔ ابتداء میں ہوسٹل نہ ملنے کی وجہ سے مجھے کچھ عرصہ کے لئے گجرنگرمیں ایک کرائے کے مکان میں رہناپڑا۔ بعدمیں اولڈکیمپس کے ہاسٹل منتقل ہواجہاں تقریباً میں دس سال رہا۔ شعبہ اُردومیں مجھے پروفیسرمنظراعظمی اورپروفیسرعابدپشاوری جیسے مایہ نازاساتذہ نے تربیت دی۔ یونی ورسٹی کی دُنیاکالج کی دُنیاسے الگ تھی ۔ اورپھرہاسٹل کی دُنیابھی رنگین تھی۔ مختلف مقامات سے آتے ہوئے طلباء آپس میں بھائیوں کی طرح اتفاق واتحادکے ساتھ رہتے تھے۔ میری والدہ متواتربیمارچلی آرہی تھیں۔ اُن کی تقریباًپوری تنخواہ میرے اخراجات پرچلی جاتی تھی یاپھراپنے علاج پر۔ ہمارے اپنے رشتے دارجموں میں اعلیٰ عہدوں پرفائزتھے لیکن ایم اے کی تعلیم کے دوران کسی نے مزاج پرسی کرنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی ۔ سوائے میری خالہ زادبہن بنٹی کے جووقتاًفوقتاً میراحال چال پوچھتی رہتی تھی۔ ہوسٹل میں زیادہ گرمیاں پڑنے پرہم کنال روڈنہرپررات کونہانے کے لئے چلے جاتے تھے۔ تیرنامیں نے بچپن میں ہی بھدرواہ میں دریائے نیرومیں سیکھ لیاتھا۔ ایک رات ہوسٹل میں گرمی شدت کی پڑی ہم سے برداش نہیں ہوپایااورہم چنددوست رات کے 1 بجے نہرپرنہانے کے لئے چلے گئے ۔ہمارے دوستوں میں پنجاب کاایک سردارلڑکابھی تھا۔ میں نہرمیں تیرنے لگاکہ اچانک دیکھاکہ پنچابی سردارپانی میں ہچکیاں لے رہاتھا، میں تیزی سے تیرکراُس کے پاس پہنچااس سے پہلے کہ وہ نہرمیں ڈوب جاتامیں نے اُس کوبالوں سے پکڑکرکھینج کرباہرنکالا۔ بعدمیں ، میں نے اس واقعے کوماہنامہ بھیانک جرائم کے لئے تحریرکیاجوکسی شمارے میں شائع بھی ہوا۔ ایم اے کی تعلیم کے دوران جب کبھی بھدرواہ جانانصیب ہوتاتوگھرمیں جیسے عیدکاسماں بندھ جاتا۔ والدہ بیماری کے باوجودبے پناہ پیاردیتیں۔ والدخوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اوررشتہ دارسوائے سعیدہ خالہ کے سب دوربھاگتے تھے۔ بھدرواہ میں چنددِن قیام کے دوران میں قدرتی مناظرکاخوب خوب مشاہدہ کرتاتھا۔کبھی چنتہ اورکبھی جائی کبھی سرتنگل جیسے خوبصورت مقامات کی سیرکرکے واپس جموں آکرپڑھائی میں مشغول ہوجاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میں نے ایم اے اُردوپہلی پوزیشن میں پاس کیا۔ مجھے یونیورسٹی نے گولڈمیڈل سے نوازا۔ بیماروالدہ نے ایم فل کرنے کے لئے حوصلہ بڑھایااوریوں میں نے ۱۹۸۹ءء میں ایم فل میں داخلہ لیا۔ مجھے پروفیسرمنظراعظمی کی نگرانی میں مقالہ لکھنے کے لئے کہاگیا۔ اعظمی صاحب نہایت ہی شفیق اُستادتھے۔ انہوں نے شایدمیری چندصلاحیتوں کوبھانپ لیاتھااس لئے انہوں نے میری تراش خراش کرنے میں کوئی کثرباقی نہیں چھوڑی اوریوں میں نے قرة العین حیدرکے ناول گردشِ چمن پرتنقیدی مقالہ تحریرکرکے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران گھرکی مالی حالت کوبہتربنانے کے لئے نوکری بھی ڈھونڈناشروع کی لیکن میرے خالوپروفیسرعبدالواحدملک نے یہ مشورہ دیاکہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کروں۔ میں اپنی بیماروالدہ کے کندھوں پربوجھ بننانہیں چاہتاتھا۔ انہوں نے بھی مشورہ دیاکہ میں پی ایچ ڈی کی تعلیم جاری رکھوں اوریوں 1990ءء میں میرارجسٹریشن پروفیسرمنظراعظمی کی نگرانی میں ہی ہوا۔ مجھے قرة العین حیدرکے افسانوں پرمقالہ لکھنے کے لئے کہاگیا۔ یہ وہ دورہے جب ریاست میں اچانک حالات خراب ہوگئے۔ ہرطرف افراتفری پھیلی۔ عسکریت پسندوں کی تحریک کااثربھدرواہ پربھی پڑا۔یہاں بھی سینکڑوں نوجوان شہیدہوئے ۔ اسی دوران ایک حادثہ ہواکہ میں ذہنی پریشانی میں مبتلاہواDepression اسقدربڑھ گیاکہ مجھے گھرواپس بلالیاگیا۔ مجھ پرعجیب قسم کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔ میرادل اس دنیاسے اُٹھ گیاتھا ۔علاج کروایاگیالیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ میری بیماروالدہ میرے سرہانے میری حالت زارپرروتی تھیں۔ والدبھائی اوربہن پریشانی میں مبتلاتھے اوررشتہ دارمیرامذاق اُڑاتے تھے۔ تقریباًایک سال یہ سلسلہ جاری رہا۔ تھوڑاافاقہ ہواتومیں واپس جموں آیا۔ ایک سال یونیورسٹی سے میرارابطہ منقطع ہوگیا۔ واپس آکریہاں علاج بھی کرواتارہااورپی ایچ ڈی کے کام میں بھی جُٹ گیا۔ اسی دوران ڈاکٹرجاویدمالیگاؤں مہاراشٹراسے میرے قلمی دوست بن چکے تھے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں پروفیسرمنظراعظمی ڈاکٹرجاوید، پروفیسرشمیم حنفی نے میراپوراپوراساتھ دیا۔ پروفیسرشمیم حنفی اُردودُنیاکے ایک مایہ نازاُستادہیں۔ انہوں نے دہلی میں نہ صرف مجھے اچھے ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایابلکہ اُردوکے مایہ نازافسانہ نگارقرة العین حیدرسے ملاقات کاانتظام بھی کیااوریوں ایک شام قرة العین حیدرکے ذاکرباغ والے گھرمیں ، میں نے اُن کاتقریباً2 گھنٹے انٹرویوکیا۔ یہ انٹرویومیرے لئے کارآمدثابت ہوا۔ واپس جموں آکرمیں مقالہ تحریرکرنے میں جُٹ گیا۔ صحت ابھی پوری طورپرٹھیک نہیں ہوئی تھی جیسے تیسے کرکے مقالہ مکمل کرلیا۔ اب میری والدہ کی صحت زیادہ خراب رہنے لگی تھی ۔ میں اُن کے لئے زیادہ بوجھ بننانہیں چاہتاتھا۔ والدہ اُن دنوں علاج کے سلسلے میں جموں ہی میں مقیم تھیں ۔ مجھے مقالہ جمع کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی۔ والدہ کوبتائے بغیرمیں بھدرواہ چلاگیا۔ ا س امیدکے ساتھ کہ رشتہ دارکچھ مددکریں گے لیکن والدمحترم کے علاوہ کسی نے بھی مددنہیں کی ۔ امیدماموں پرتھی لیکن انہوں نے بھی یہ کہہ کرنہ کردی کہ اُن کے
پاس پھوٹی کوڑی نہیں ہے۔ مایوس اورنااُمیدی کی حالت میں میں جموں واپس پہنچا۔ مقالہ جمع کرنے کی تاریخ نزدیک آرہی تھی اورمجھے اب بھی پانچ ہزارروپے درکارتھے۔ مجھے لگاکہ میراڈاکٹربننے کاخواب چکناچورہورہاہے۔ پریشانی اسقدربڑھ گئی کہ میں ایک دفعہ پھر Depression میں چلاگیا۔ اچانک مجھے خیال آیاکہ کیوں نہ میں چندہزارروپے اپنے قلمی دوست ڈاکٹرجاویدسے مانگوں۔ میں نے مالیگاؤں اُنہیں ٹیلی گرام کے ذریعے اطلاع کردی۔ چنددنوں کے بعدمجھے اُن کاپانچ ہزارکامنی آرڈروصول ہوا۔ ڈاکٹرجاویدمیرے مسیحابن کرآئے ۔ رشتوں سے زیادہ دوستی کام آئی اوریوں میرامقالہ جمع ہوگیا۔ اس دوران میری بہن کی شادی میں شرکت کرنے کے لئے ڈاکٹرجاویدمالیگاؤں سے بھدرواہ تشریف لاتے۔ میں والدہ کوپوراماجراسناچکاتھا۔ انہوں نے جاویدکوپیسے واپس کردیئے لیکن انہوں نے یہ کہہ کرانکارکردیاکہ کیاشہاب میں اورمجھ میں کوئی فرق ہے؟ آج میں جس مقام پرہوں اس مقا م تک پہنچانے میں ڈاکٹرجاویدنے بھی اہم کرداراداکیاہے۔ مجھے 1993ءء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی اوریوں میراڈاکٹربننے کاوہ خواب شرمندہ تعبیرہوگیاجومیں نے بارہویں کلاس میں دیکھاتھااورمیں ڈاکٹرشہاب عنایت ملک بن گیا۔

پی ایچ ڈی کے دوران ہی میری مرضی کے مطابق میری منگنی بھدرواہ کے ایک نام نہادباعزت خاندان میں ہوگئی تھی۔ میری منگیترجواب میری بیوی ہے بھلیسہ# کے ایک گانوسنومیں بحیثیت اُستادکام کررہی تھیں۔ مجھے اپنی منگیترسے اِتنی محبت تھی کہ میں بیماری کے باوجوداُس دوردرازگاؤں میں اُس سے ملنے جاتا ۔پی ایچ ڈی ختم کرنے کے فوراًبعدمیری شادی ہوگئی۔ شادی کے چندماہ بعدمجھے اس نام نہادخاندان کی خصلتوں کاپتہ چل گیا۔ اس خاندان کے بعض افرادنے میرے ساتھ ایسی ایسی نازیباحرکتیں کرناشروع کردیں کہ شرم سے سرجھک جاتاہے۔ میں نے بہتریہی سمجھاکہ اپنی عزت بچانے کے لئے اس خاندان سے سارے تعلقات منقطع کروں اورمیں نے ایساہی کیا۔ اس خاندان کی نازیباحرکتوں کی وجہ سے میرے مرتے دم تک یہ تعلقات منقطع ہی رہیں گے۔

بہرحال پی ایچ ڈی ڈگری ملنے کے بعددوسرے ہی دن مجھے کشتواڑکالج میں ایڈہاک لیکچررکی نوکری مل گئی ۔ کشتواڑسے مجھے بچپن سے ہی محبت تھی ۔ یہ شہرعلم دوست احباب کاشہرتھا۔ یہاں میرے والدکے دیرینہ دوست عبدالکبیرترک بھی رہتے تھے۔ اس گھرانے سے ہماراچالیس سالہ پرانارشتہ تھا۔ بچپن میں ،میں متعدددفعہ ان کے گھرگیاتھا۔ لیکن اب جب انہیں معلوم ہواکہ میں یہاں ایڈہاک لیکچررکے طورپرکام کرنے آیاہوں توترک خاندان کی خوشی کی انتہانہیں رہی۔ وہ مجھے اپنے گھرلے گئے اوراس پوری ایڈہاک نوکری کے دوران میں ترک فیملی میں ہی رہا۔ اس خاندان نے میری خدمت کرنے میں کوئی کثرنہیں چھوڑی۔ خاص کرکبیرچچانے ان کی بیگم نے مجھے اپنی اولادکی طرح رکھا۔ کشتواڑمیں قیام کے دوران میرے کئی نئے دوست بن گئے اوربعض پرانے دوستوں سے دوبارہ عمدہ ملاقاتیں رہیں۔ کالج میں میرے بعض اساتذہ میرے رفیق کاربن گئے جن میں پروفیسرامرجیت سنگھ، پروفیسرگپتااورپروفیسررینہ کے نام قابل ذکرہیں۔ کالج کے طلباء میں، میں بہت مقبول ہوا۔ کشتواڑمیں ابھی میری مستیاں جار ی تھیں کہ اچانک ایک دن ایک پرمننٹ لیکچررنے کالج جائن کیا۔ اس آسامی کے لئے میں نے بھی انٹرویودے رکھاتھااورمجھے اُمیدکامل تھی کہ مجھے میرے میرٹ کی وجہ سے سلیکٹ کیاجائے گا۔ مگرسفارش اوررشوت ستانی کے اس دورمیں بہت سے قابل امیدواراسی وجہ سے خودکشی کرنے پرمجبورہوجاتے کہ اُن کی قابلیت کونظراندازکیاجاتاہے۔ جب ڈاکٹروقارنے کشتواڑکالج پرمننٹ لیکچررکے طورپرجائن کیاتومجھے اپنامستقبل ایک دفعہ پھرمخدوش نظرآنے لگا لیکن اللہ تعالیٰ جب ایک دروازہ بندکردیتاہے تودوسرے کئی دروازے کھول دیتاہے۔ پی ایچ ڈی کی تعلیم کے دوران شعبہ اُردومیں ایک اسامی کے لئے درخواستیں مانگی گئی تھیں۔ میں نے بھی فارم بھررکھاتھا۔ جولائی 1994ءء کوجب مجھے کشتواڑکالج چھوڑناپڑاتومیں پریشان حال جموں پہنچا۔ اُستادمحترم پروفیسرمنظراعظمی سے جب ملاتوانہوں نے اِطلاع دی کہ 30جولائی کوشعبہ کی اسامی کے لئے انٹرویوکی تاریخ مقررہوگئی ہے۔ میں نے اس انٹرویوکے لئے تیاریاں کرناشروع کیں جوں جوں 30تاریخ قریب آرہی تھی توں توں میرے دل کی دھڑکنیں تیزہورہی تھیں۔ اِدھرمیری والدہ کینسرکی مہلک بیماری میں مبتلاہوچکی تھیں۔ وہ بھی ان دنوں جموں میں ہی علاج کی غرض سے مقیم تھیں۔ ہم گجرنگرمیں ایک کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے ۔ والدہ کوجگرمیں کینسرہوگیاتھا۔ انہیں کیموتھرپیی ٴ دینی پڑتی تھی۔ ہم بہن بھائی اوروالدذہنی کشمکش میں مبتلاہوگئے تھے اسی ذہنی کشمکش میں 30جولائی کومیراانٹرویوہوا۔ پروفیسرشمیم حنفی اورپروفیسرملک زادہ منظوراحمدسلیکشن کمیٹی کے Experts تھے۔ 61 اُمیدواروں نے ایک اسامی کے لئے انٹرویودیا۔ تقریباً میراانٹرویو45 منٹ لیاگیااورمیری قابلیت اورانٹرویومیں شاندارکارکردگی کی بنا ء پرمجھے اس ایک پوسٹ کے لئے منتخب کیاگیااوریوں 1جنوری 1995ءء کومیں نے بحیثیت اُردولیکچرارشعبہ اُردومیں جوائن کیا۔ اس دوران میری والدہ کی بیماری میں تشویشناک حدتک اضافہ ہوگیاتھالیکن اتناانہیں اطمینان تھاکہ اب مجھے پکی نوکری مل گئی ہے۔ ان کی بیماری اس حدتک بڑھ گئی تھی کہ ڈاکٹروں نے جواب دے کرانہیں بھدرواہ واپس لے جانے کامشورہ دیا۔ والدصاحب اورمیرے چھوٹے بھائی انہیں واپس لے گئے ۔ اس بیماری کے دوران والدصاحب، بھائی بہن اورمیرے بہنوئی شیخ شفیع نے جوخدمت میری والدہ کی کی اُسے بیان کرنے سے میراقلم قاصرہے خاص کرشیخ شفیع اوروالدمحترم نے اس دوران والدہ کی دن رات خدمت کی ۔جولائی 1995ءء کومجھے ایک دن بھدرواہ سے اطلاع دی گئی کہ میں بھدرواہ جلدپہنچوں کیوں کہ اب والدہ کے بچنے کے چانس صفرسے کم ہیں۔ میں گھرپہنچا۔ ایک کہرام مچاہواتھا۔ والدہ کاکینسراب گلے تک پہنچ گیاتھاجس کی وجہ سے اُن کی آوازبندہوگئی تھی ۔ انہوں نے مجھے گلے لگایاخوب چوماوہ مجھ سے کچھ کہناچاہتی تھیں لیکن آوازحلق سے باہرنہیں آرہی تھی اورپھرتیس جولائی کاوہ منحوس دن آگیاجب والدہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مجھے یتیم کرکے اس دنیاسے چلی گئی۔ جس بیٹے کے لئے اُس نے پوری زندگی نچھاورکی اُس بیٹے کوخدمت کاموقعہ بھی نہیں دیا۔ کاش آ ج والدہ زندہ ہوتیں توکتنی خوشی ہوتی اُن کواورشایدمیں بھی دودھ کاقرض اترانے کی کوشش کرتا۔ میں آج جب بھی علامہّ اقبال کی نظم والدہ مرحومہ کی یادمیں پڑھتاہوں تومجھے بے اختیاراپنی امّی یادآتیں ہیں۔ ان کی اُٹھائی ہوئیں مصیبتیں میرادل پھاڑدیتی ہیں۔ اُن کی دی ہوئی قربانی رُلانے پرمجبورکردیتی ہے ، واقعی انسان کی زندگی میں والدہ ایک رحمت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنھیں اپنی ماؤں کی خدمت کرنانصیب ہوتی ہے۔

والدہ کے انتقال کے چندروزبعدمیں جموں واپس آگیا۔ ریاست میں عسکریت پسندی کی تحریک زوروں پرتھی اس تحریک نے پوری ریاست میں زندگی کے ہرشعبے کومتاثرکرکے رکھ دیاتھا۔ ادبی اورتمدنی زندگی بھی مفلوج ہوکررہ گئی تھی ۔ میں اپنے نانامرحوم کے نام پرایک ادبی انجمن کی بنیادڈال چکاتھاجس کامقصدریاست میں ادبی جمودکوتوڑناتھا اوردوسرارسا# جاودانی کی شاعری سے نئی نسل کوروشناس کرناتھا۔ چنانچہ مارچ 1995ءء میں جناب ویدبھسین جناب مرزاعارف بیگ، جناب اسعداللہ وانی اورجناب اسیرکشتواڑی اورپروفیسرظہورالدین کے تعاون سے رسا# جاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کاقیام عمل میں لایاگیا۔ راقم اس کاپہلاصدربنااوراسعداللہ وانی پہلے جنرل سیکرٹری ۔ اس سوسائٹی کاافتتاح پروفیسرشمیم حنفی ، جناب مرزاعارف بیگ وغیرہ کے ہاتھوں ہوا۔ بڑی کم مدت میں اس سوسائٹی نے صوبہ جموں سے ادبی جمودکوتوڑنے میں اہم کرداراداکیا۔ ہرہفتے سوسائٹی کسی نہ کسی پروگرام کاانعقادکرتی ۔ کبھی یوم رسا# اورکبھی یوم ِ عشرت #، کبھی شام غزل اورکبھی محفلِ افسانہ ۔ نتیجہ یہ نکلاکہ میرانام اخبارات کے ذریعے ریاست کے طول وعرض میں پہنچ گیا۔ وہ کہاجاتاہے ناکہ خداجب حُسن دیتاہے تونزاکت آہی جاتی ہے۔

جاری ہے

About admin

Check Also

ہری چند اختر کا نثری اور شعری اسلوب

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ہندستانی زبانوں کا مرکز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *